برطانوی جامعات نے فلسطین کے حق میں احتجاج کو دبانے کے لیے ہم آہنگی سے کام کیا، ایمنسٹی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی جامعات، سکیورٹی نیٹ ورکس اور نجی انٹیلیجنس فرمز نے کیمپسز میں فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاج کو محدود کرنے کے لیے مل کر کام کیا۔

لندن — ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے منگل، 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی جامعات نے طلبہ کیمپسز میں فلسطین کے حق میں سرگرمیوں کو دبانے کے لیے مل کر کام کیا۔ اس رپورٹ کا عنوان Silencing Dissent ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق، یہ نتائج معلومات تک رسائی (FOI) کے تحت حاصل کی گئی دستاویزات پر مبنی ہیں۔ ان دستاویزات سے معلوم ہوا کہ جامعات "فلسطین یکجہتی احتجاج کے جواب میں الگ تھلگ رہ کر کام نہیں کر رہی تھیں، بلکہ ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھیں جو جابرانہ ردعمل کی حوصلہ افزائی کرتا تھا"، رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔
معلومات تک رسائی کے تحت حاصل ہونے والے پیغامات سے ظاہر ہوا کہ جامعات کے منتظمین تادیبی اقدامات پر بات چیت کر رہے تھے۔ ان میں احتجاج روکنے کے لیے عدالتی حکم امتناع اور طلبہ مظاہرین کو برطانیہ کے انسدادِ دہشت گردی پروگرام Prevent کے حوالے کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔ جامعہ نارتھیمپٹن سے جاری ہونے والی ای میلز میں سینئر عملے کے درمیان احتجاج پر قابو پانے کے طریقے شیئر کرنے کا ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک منتظم نے ساتھی اداروں سے پوچھا کہ کیا دوسری جامعات اپنے طلبہ مظاہرین کو "لاک ان" کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیز یونائیٹڈ کنگڈم (UUK) کا نیٹ ورک، جو 142 برطانوی جامعات کی نمائندگی کرتا ہے، مرکزی کردار ادا کرتا رہا۔ UUK نے ان وائس چانسلرز کے ساتھ ہفتہ وار کالز کا اہتمام کیا جن کے کیمپسز میں فلسطین کے حق میں دھرنے ہو رہے تھے۔ رپورٹ ان کالز کو "طریقوں کے تبادلے اور حکمتِ عملی ہم آہنگ کرنے کا معیاری فورم" قرار دیتی ہے۔
رپورٹ ان کوششوں کو حکومت سے بھی جوڑتی ہے۔ جامعہ کینٹ سے حاصل ہونے والی FOI دستاویزات سے معلوم ہوا کہ UUK حکومتی محکموں اور سینئر وزرا کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق UUK نے وائس چانسلرز اور ڈاؤننگ سٹریٹ کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کیا اور حکومتی توقعات رکنِ اداروں تک پہنچائیں۔ احتجاج میں شدت آنے کے ساتھ UUK نے محکمۂ تعلیم اور آفس فار سٹوڈنٹس (OfS) کے ساتھ مل کر جامعات کو ساکھ کے خطرات، احتجاج کے انتظام اور سول عدالتی احکامات کے بارے میں مشورے بھی دیے۔
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی سکیورٹی افسران نے ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی چیف سکیورٹی آفیسرز (Aucso) کے ذریعے اپنے ردعمل میں ہم آہنگی پیدا کی۔ قومی سطح کے احتجاجی مظاہروں سے پہلے Aucso ساؤتھ ویسٹ کے چیئرمین نے تزویراتی بریفنگز تقسیم کیں۔ رپورٹ کے مطابق ان بریفنگز میں جامعات کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ڈیٹا پروٹیکشن افسران سے مشاورت کریں اور اندرونی سکیورٹی مواصلات کو محفوظ رکھنے کے لیے FOI استثنیٰ لاگو کریں۔ رپورٹ کے مطابق Aucso نے مقامی استعمال کے لیے مرکزی طور پر تیار کردہ پریس ٹیمپلیٹس بھی فراہم کیے۔
رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ کم از کم نو جامعات کو نجی انٹیلیجنس فرمز سے خطرے سے متعلق بریفنگز موصول ہوئیں۔ ان فرمز میں Horus Security Consultancy Ltd، Mitie Intelligence Hub اور رسک ماہر Global Situational Awareness (GSA) شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انٹیلیجنس اپ ڈیٹس میں اکثر غیر پرتشدد طلبہ سرگرمیوں کو سنگین خطرات کے طور پر درجہ بند کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ہفتہ وار احتجاج کو گلوبل سکیورٹی آپریشنز سینٹر (GSOC) نے "زیادہ خطرے کی سطح" قرار دیا تھا۔
بریفنگز میں "دریا سے سمندر تک" جیسے پرامن نعروں کو بھی "اشتعال انگیز بیانیہ" کے طور پر نشان زد کیا گیا۔ ان میں حکام کو مشورہ دیا گیا کہ کم از کم 15 جامعاتی فلسطین سوسائٹیز کے سوشل میڈیا چینلز کی نگرانی کریں۔ رپورٹ میں SOAS، لیڈز، امپیریل کالج لندن اور گلاسگو کے گروپس کے نام دیے گئے ہیں۔
غیر تصدیق شدہ اور غائب ردعمل
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق، تحریر کے وقت UUK نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا۔ اس رپورٹ میں جامعات، Aucso یا اس میں نامزد نجی فرمز کا کوئی ردعمل شامل نہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا کسی سکیورٹی فرم یا جامعہ نے ان نتائج کو چیلنج کیا ہے۔
پس منظر
رپورٹ ان احتجاجی مظاہروں کا احاطہ کرتی ہے جو جامعات کے اسرائیل سے تعلقات کے خلاف ہوئے، جنہیں رپورٹ غزہ پر جنگ قرار دیتی ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں شامل AFP سے منسوب ایک تصویر کے مطابق فلسطین کے حامی طلبہ مظاہرین نے 7 اکتوبر 2025 کو لندن میں ایک بین الجامعاتی مارچ کیا۔ Prevent پروگرام برطانوی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی ہے جو جامعات سمیت سرکاری اداروں پر لاگو ہوتی ہے۔
اس کہانی کی تمام تفصیلات ایک ہی ذریعے، مڈل ایسٹ آئی، سے لی گئی ہیں، جو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے نتائج بیان کرتا ہے۔ ایمنسٹی کی مکمل رپورٹ اس کہانی کے لیے دستیاب نہیں تھی۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟