اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی دفتر نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بے دخلی کا بحران بدتر ہو رہا ہے کیونکہ رہنے کی جگہ سکڑ رہی ہے
اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی کے دفتر برائے ہائی کمشنر (OHCHR) کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج فلسطینیوں کو غزہ کے چھوٹے علاقوں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ انڈونیشیا کے اخبار ریپبلیکا کے مطابق، دفتر نے ممکنہ نسلی صفائے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

غزہ — اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی کے دفتر نے جمعہ، 30 اکتوبر 2026 کو خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں بے دخلی کا بحران مسلسل بدتر ہو رہا ہے۔ انڈونیشیا کے خبر رساں ادارے ریپبلیکا کے مطابق، دفتر برائے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) نے کہا کہ اسرائیلی افواج فلسطینیوں کو مسلسل چھوٹے علاقوں میں دھکیل کر ان کی رہنے کی جگہ کم کر رہی ہیں۔
OHCHR نے کہا کہ اس طرز عمل سے غزہ کی پٹی میں ممکنہ نسلی صفائے کے بارے میں سنگین تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ریپبلیکا کے مطابق، دفتر نے یہ بھی کہا کہ جگہ کے مسلسل نقصان نے ایسا بے دخلی کا بحران پیدا کیا ہے جو زیادہ شدید اور طویل ہے۔
OHCHR کے بیان کی رپورٹ ریپبلیکا میں شائع ہوئی، جو اس خبر کا واحد ذریعہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیان مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے OHCHR کے دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے کا حوالہ دیتا ہے۔ ریپبلیکا نے ان کے حوالے سے لکھا کہ غزہ میں بے دخلی کا بحران "شدید اور دائمی دونوں ایک ساتھ" ہے۔ سنگھے نے کہا کہ جو فلسطینی اپنے گھروں سے جبراً نکلے، ان کے واپس جانے کا امکان بہت کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو بار بار نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
ریپبلیکا کے مطابق، وہ زیادہ تر علاقے جہاں سے لوگ بھاگے تھے اب ان کی رسائی سے باہر ہیں۔ یہ علاقے نام نہاد "یلو لائن" سے آگے واقع ہیں، جو غزہ میں ایک حد بندی لکیر ہے۔ سنگھے نے کہا کہ جو لوگ جنگ بندی کے اعلان سے پہلے نکلے تھے، ان کے گھر لوٹنے کا تقریباً کوئی امکان نہیں۔
ریپبلیکا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ OHCHR نے غزہ شہر کے محلے الشجاعیہ میں بے دخل افراد کے کیمپوں پر حملوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی افواج نے اس علاقے میں ابھی تک کھڑی عمارتوں کو تباہ کرنے کے لیے دھماکہ خیز روبوٹ استعمال کیے۔ ریپبلیکا کے مطابق، 25 اکتوبر کو مبینہ طور پر ایک اسرائیلی ڈرون نے یلو لائن کے قریب الشجاعیہ کراسنگ پر بے دخل خاندانوں کو پناہ دینے والے خیموں پر گولہ بارود گرایا۔ ریپبلیکا کے مطابق، اس حملے سے آگ بھڑکی جو پانچ گھنٹے تک جلتی رہی۔
پس منظر
ریپبلیکا کے مطابق، OHCHR نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی افواج نے کئی علاقوں میں اپنی فوجی تعیناتی مغرب کی طرف بڑھائی ہے۔ دفتر نے غزہ شہر کے الشجاعیہ اور وسطی غزہ کے تین مقامات کا ذکر کیا: البریج کا مشرقی حصہ، دیر البلح کا مشرقی حصہ، اور المغازی کا مشرقی حصہ۔
ریپبلیکا کی رپورٹ میں اے ایف پی سے منسوب ایک تصویر کا کیپشن بھی شامل تھا، جس میں فلسطینی 30 اکتوبر 2026 کو البریج پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے میں تلاش کرتے دکھائے گئے ہیں۔
کیا تصدیق شدہ نہیں ہے
رپورٹ میں بے دخل ہونے والے افراد کی تعداد، ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد، یا اب رسائی سے باہر ہونے والے علاقے کا کل رقبہ نہیں بتایا گیا۔ اس میں اسرائیلی حکومت یا اسرائیلی فوج کا ردعمل بھی شامل نہیں۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ OHCHR کی کسی مزید بیان یا ملاقات کا کوئی منصوبہ ہے یا نہیں۔
چونکہ یہ رپورٹ ایک ہی ذریعے پر انحصار کرتی ہے، اس لیے مذکورہ دعوؤں کی دیگر رپورٹنگ یا OHCHR کے اپنے شائع شدہ بیان سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟