اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے طائف کی جانب داغا گیا حوثی میزائل روک لیا
یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے طائف کو نشانہ بنانے والا حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔ سعودی سول ڈیفنس نے مملکت بھر میں دیگر حملوں اور الرٹس کی اطلاع دی ہے۔

ریاض — یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بدھ کے روز ابتدائی وقت میں کہا کہ اس نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے مغربی سعودی شہر طائف کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ میزائل سعودی عرب اور ایران کی حمایت یافتہ گروہ کے درمیان سرحد پار بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہے۔ عرب نیوز نے طائف میں کسی نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
جدہ اور یanbu میں الرٹس
عرب نیوز کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے جدہ اور ینبع کے گورنریٹس میں ممکنہ دشمن خطرے کے بارے میں ابتدائی انتباہی الرٹس جاری کیے۔ کچھ منٹ بعد اس نے کہا کہ دونوں علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔
منگل کو پہلے ہونے والے حملے
عرب نیوز نے رپورٹ کیا کہ منگل کی شام ریاض میں روکے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کے ملبے سے ایک عمارت، ایک تعمیراتی منصوبہ اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ اس نے اپنے ذریعے کے طور پر سعودی سول ڈیفنس کا حوالہ دیا۔
سول ڈیفنس کے ایک ترجمان نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے میزائل داغے تھے اور ملبہ سعودی دارالحکومت میں گرنے سے پہلے انہیں تباہ کر دیا گیا تھا، عرب نیوز نے بتایا۔ ترجمان نے کہا کہ سول ڈیفنس کی ٹیموں نے ردعمل دیا اور طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کیا۔ عرب نیوز کے مطابق ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ کوئی زخمی ہوا یا نہیں۔
عرب نیوز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ منگل کو فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے کی طرف داغے گئے تین بیلسٹک میزائل روکے اور تباہ کیے۔ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے چار ڈرونز بھی گرائے۔ عرب نیوز نے یہ اعداد و شمار میجر جنرل ترکی المالکی سے منسوب کیے، جو یمن میں قانونی حکومت بحال کرنے کے اتحاد کے ترجمان ہیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق سول ڈیفنس نے تقریباً صبح 3 بجے مقامی وقت کے مطابق مشرقی صوبے اور الخرج کے لیے انتباہ جاری کیے، پھر خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا۔
جن باتوں کی تصدیق نہیں ہوئی
عرب نیوز کی رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ طائف کا میزائل یمن میں کہاں سے داغا گیا۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملبہ طائف میں یا اس کے قریب گرا یا نہیں۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ کیا حوثیوں نے حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عرب نیوز نے ریاض کے واقعے میں کسی زخمی کی اطلاع نہیں دی، اور سول ڈیفنس کے ترجمان نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ زینگا نیوز نے اس بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔
پس منظر
عرب نیوز نے کہا کہ یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب پیر کے روز اعلیٰ علاقائی حکام کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی غرض سے ایران میں جمع ہوئے تھے۔ رپورٹ میں ان حکام کے نام نہیں بتائے گئے اور نہ ہی مذاکرات کے نتیجے کی وضاحت کی گئی۔
عرب نیوز کے مطابق یمن کے ایران کی حمایت یافتہ حوثی اس وقت سے سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں جب انہوں نے بحیرہ احمر کے راستے سعودی تیل کی برآمدات پر ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ رپورٹ میں اس اعلان کی تاریخ نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ناکہ بندی پر کس طرح عمل ہو رہا ہے۔
المالکی جس اتحاد کی نمائندگی کرتے ہیں، عرب نیوز اسے یمن میں قانونی حکومت بحال کرنے کا اتحاد کہتا ہے۔ عرب نیوز اسے الگ سے یمن میں سعودی قیادت والا اتحاد بھی کہتا ہے۔
رپورٹ میں طائف، جدہ، ینبع، ریاض، الخرج، مشرقی صوبے اور جنوبی سعودی عرب کے نام ان علاقوں کے طور پر آئے ہیں جنہیں حملوں کا ہدف بنایا گیا یا جہاں انتباہ جاری ہوئے۔ رپورٹ میں طائف کو مغربی شہر کہا گیا ہے، جبکہ طائف، جدہ اور ینبع مملکت کے مغرب میں واقع ہیں۔
اس رپورٹ کی تمام تفصیلات ایک ہی ذریعے، عرب نیوز، سے آئی ہیں، جو خود اتحاد اور سعودی سول ڈیفنس کے بیانات پر انحصار کرتا ہے۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 27 اکتوبر، 2026شام نے یمن میں فوج بھیجنے کی تردید کر دی، تجزیہ کار سعودی عرب کی دیگر مدد پر غور کر رہے ہیں
- 27 اکتوبر، 2026سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں حوثیوں کی میزائل سرنگوں اور لانچ پلیٹ فارمز کو تباہ کر دیا
- 28 اکتوبر، 2026یمن کے حوثیوں کا سعودی عرب کی راس تنورہ ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ
- 28 اکتوبر، 2026اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے طائف کی جانب داغا گیا حوثی میزائل روک لیا
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟