Skip to content
Zenga News

قطر اور پاکستان کی ایران اور امریکہ کو نئی امن تجویز، ذرائع کا دعویٰ

ثالثوں نے منگل کے روز "درمیانی راستے" پر مبنی منصوبہ پیش کیا، دی نیو عرب کے حوالے سے گمنام ذرائع نے بتایا۔ قطر نے الگ سے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کم کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ

تہران — قطری اور پاکستانی ثالثوں نے منگل کے روز ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ایک نئی امن تجویز پیش کی، دی نیو عرب کے حوالے سے ذرائع کے مطابق۔ کسی بھی حکومت نے عوامی سطح پر ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ذرائع، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے یہ منصوبہ تہران میں ایرانی حکام کو پہنچایا۔ انہوں نے اسے "درمیانی راستے کی تجویز" قرار دیا ہے، جو ایران کے جوہری پروگرام اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق دونوں فریقوں کے مطالبات کو جزوی طور پر پورا کرتی ہے۔ ان کے مطابق واشنگton اور تہران دونوں نے مثبت ردِعمل دیا ہے۔

تجویز میں کیا شامل ہے

ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں نئے مذاکرات سے پہلے اعتماد سازی کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے معمولی رعایتیں شامل ہیں۔ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ایک خفیہ اور غیر اعلانیہ دورے پر رضامند ہوگا تاکہ ایجنسی اس کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کر سکے۔ اس کے بدلے امریکہ ایران کو قطر میں رکھے گئے اس کے 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں پر حاصل ہونے والا سود وصول کرنے کی اجازت دے گا۔

دی نیو عرب نے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات سے واقف ذرائع نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس ہفتے کے آخر تک کسی پیش رفت کا اعلان ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے اختلافات کم کرنے اور باہمی رعایتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہو۔

سرکاری بیانات

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے منگل کے روز کہا کہ ایرانی حکام امن مذاکرات پر عاصم منیر سے بات چیت کریں گے، دی نیو عرب کے مطابق۔

اس کے علاوہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ قطر نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ الجزیرہ نے ایک ثالث ابراہیم بن سلطان الہاشمی کے حوالے سے بتایا کہ فوجی حل ممکن نہیں اور استحکام بحال کرنے اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کے لیے مذاکرات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ الجزیرہ نے ان کے بیانات کو نئی تجویز سے منسلک نہیں کیا۔

غیر مصدقہ

تجویز کی شرائط صرف ایک ادارے سے بات کرنے والے گمنام ذرائع کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔ امریکہ، قطر یا پاکستان کے کسی سرکاری عہدیدار کا ان کی تصدیق کرتے ہوئے حوالہ نہیں دیا گیا۔ دونوں فریقوں کے مثبت ردِعمل سے متعلق ذرائع کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

پس منظر

امریکہ اور ایران جون میں قطر اور پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی یادداشتِ تفہیم کے تحت عارضی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں کا احاطہ کرنے والے جامع معاہدے پر بات چیت شروع کرنی تھی۔

دی نیو عرب کے مطابق جنگ بندی اگلے مہینے ٹوٹ گئی اور اس کے بعد کوئی مزید مذاکرات نہیں ہوئے۔ اس ادارے نے تنازع کو سات ماہ پر محیط علاقائی جنگ قرار دیا ہے۔

مؤقف اب بھی بہت دور ہیں۔ امریکہ اصرار کرتا ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ختم کرنا ہوگا، جبکہ ایران بیرونِ ملک منجمد تمام اثاثوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے، دی نیو عرب نے رپورٹ کیا۔

ادارے کے مطابق حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملے بڑھا دیے ہیں، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

قطر اور پاکستان تنازع ختم کرنے کے لیے مشترکہ ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ منیر کا دورۂ تہران ایسے وقت میں ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 19 اکتوبر کو تہران میں روسی وزیر خارجہ سergey لاوروف کی میزبانی کی، دی نیو عرب میں شائع ہونے والی ایک تصویر کے کیپشن کے مطابق۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج