Skip to content
Zenga News

فرانسیسی استغاثہ نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن پر دو سال کی سیاسی پابندی کا مطالبہ کیا

پیرس میں استغاثہ نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کے لیے دو سال کی سیاسی پابندی اور 10 ماہ کی معطل قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے، ہبرلر ڈاٹ کام کے مطابق۔

Onur Irmako
Zenga News یورپ اور امریکہ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: The Hemicycle of the European Parliament in Strasbourg during a plenary session in 2014.
File photo: The Hemicycle of the European Parliament in Strasbourg during a plenary session in 2014. تصویر: Diliff / Wikimedia Commons · CC BY-SA 3.0

پیرس — فرانس میں استغاثہ نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کے لیے دو سال کی سیاسی پابندی اور 10 ماہ کی معطل قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے، جو فلسطینی نژاد ہیں، ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے سلسلے میں۔ ہبرلر ڈاٹ کام نے، جس نے یہ معاملہ پیر، 20 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا، یہ بات بتائی۔ اسی رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت اتوار کو پیرس کی جوڈیشل عدالت میں شروع ہوئی۔

الزام "دہشت گردی کا پروپیگنڈا" ہے۔ ہبرلر ڈاٹ کام کے مطابق، یہ پوسٹ جاپانی ریڈ آرمی کے سابق رکن کوزو اوکاموتو سے متعلق تھی۔ رپورٹ کے مطابق ریما حسن نے 26 مارچ کو اوکاموتو کی ایک تصویر اور ان سے منسوب ایک قول شیئر کیا۔ اس قول میں اوکاموتو کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جوانی فلسطینی کاز کے لیے وقف کی اور جب تک ظلم موجود ہے، مزاحمت ایک حق اور فرض دونوں ہے۔

ہبرلر ڈاٹ کام کے مطابق، ریما حسن کو اپریل میں اس پوسٹ کے سبب پیرس میں حراست میں لیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا وہ اب بھی حراست میں ہیں، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ فیصلہ کب متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق استغاثہ نے اپنا مطالبہ مقدمے کے دوسرے دن پیش کیا۔ ہبرلر ڈاٹ کام نے کہا کہ استغاثہ کا موقف ہے کہ یہ پوسٹ دہشت گردی کا پروپیگنڈا تھی۔

ریما حسن نے پہلے دن عدالت سے خطاب کیا۔ ہبرلر ڈاٹ کام کے مطابق، قومی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے اس معاملے کو اپنی ہراسانی کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اپوزیشن سیاست کی وجہ سے انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 1958 میں شروع ہونے والی پانچویں جمہوریہ میں وہ وہ منتخب عہدیدار ہیں جن پر سیاسی مؤقف کی بنا پر سب سے زیادہ مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریما حسن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس خاموش رہنے کے اپنے حق کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ہبرلر ڈاٹ کام نے یورپی پارلیمنٹ، فرانسیسی حکومت یا ریما حسن کی قانونی ٹیم کا کوئی ردِعمل رپورٹ نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ریما حسن نے عدالت میں استغاثہ کے مطالبے پر کوئی جواب دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اوکاموتو کو 1972 میں تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے ذمہ داروں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ذریعے نے اس حملے یا اوکاموتو کی موجودہ حیثیت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔

پس منظر

ریما حسن یورپی پارلیمنٹ کی رکن ہیں۔ ذریعہ انہیں فلسطینی نژاد سیاست دان کے طور پر بیان کرتا ہے جن پر پیرس میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ہبرلر ڈاٹ کام کے مطابق ان کا کیس ایک ہی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں ان کے خلاف کسی سابقہ کارروائی کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

کوزو اوکاموتو جاپانی ریڈ آرمی کے رکن تھے۔ جاپانی ریڈ آرمی ایک عسکریت پسند گروہ تھا، اور رپورٹ میں 1972 کے بین گوریون ایئرپورٹ حملے کو اسی گروہ سے جوڑا گیا ہے۔ ذریعے نے حملے میں اوکاموتو کے کردار کی تفصیل نہیں بتائی، صرف یہ کہا کہ وہ ان ذمہ داروں میں سے ایک کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ہی ذریعے، ہبرلر ڈاٹ کام، پر مبنی ہے، جو ترکی زبان کی ایک خبروں کی ویب سائٹ ہے۔ زنگا نیوز نے عدالتی کارروائی کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج