Skip to content
Zenga News

عراقچی کا نیتن یاہو پر الزام: جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم واشنگٹن کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، اناطولیہ ایجنسی کے مطابق۔ ان کی یہ پوسٹ اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے بعد سامنے آئی۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 4 منٹ مطالعہ
File photo: IAEA Director General Rafael Mariano Grossi met with HE Dr. Seyed Abbas Araghchi, Deputy Foreign Minister for Political Affairs of the Islamic Republic of Iran during his official visit at the Agency headquarters in Vienna, Austria. 6 May
File photo: IAEA Director General Rafael Mariano Grossi met with HE Dr. Seyed Abbas Araghchi, Deputy Foreign Minister for Political Affairs of the Islamic Republic of Iran during his official visit at the Agency headquarters in Vienna, Austria. 6 May تصویر: IAEA Imagebank / Wikimedia Commons · CC BY 2.0

استنبول — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کی شب دیر گئے اسرائیلی وزیر اعظم بنjamin نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ جیل جانے سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک اور جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اناطولیہ ایجنسی کے مطابق۔

اناطولیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراقچی نے یہ بات امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے واشنگٹن کو دوبارہ فوجی کارروائی کے خلاف خبردار کیا۔

عراقچی کا مؤقف

اناطولیہ کے مطابق عراقچی نے لکھا: "نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔" ایجنسی کے مطابق انہوں نے اسرائیلی رہنما پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس کے نتائج کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

عراقچی نے پہلے مرحلے کی لڑائی کا بھی ذکر کیا۔ اناطولیہ نے ان کے الفاظ نقل کیے: "پچھلی بار آپ 'کام مکمل' کرنا چاہتے تھے، لیکن ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔" پھر انہوں نے ایک انتباہ شامل کیا، ایسے الفاظ میں جنہیں اناطولیہ نے مکمل طور پر دوبارہ شائع کیا:

"ایک بار پھر قسمت آزمانا چاہتے ہیں؟ خوش آمدید۔ لیکن احتیاط کیجیے؛ ہمارے بھی کچھ نامکمل کام ہیں۔" — عباس عراقچی، ایرانی وزیر خارجہ، ایکس پر

اناطولیہ کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نیتن یاہو اور امریکہ کے علاوہ یہ پوسٹ اور کس سے مخاطب تھی۔ اس میں "نامکمل کاموں" سے عراقچی کی مراد کی مزید تفصیل بھی نہیں دی گئی۔

ٹرمپ کی حمایت

اناطولیہ کے مطابق عراقچی کی یہ پوسٹ اتوار کو اس سے پہلے ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے بعد آئی۔ یہ حمایت اسرائیل کے انتخابات سے قبل کی گئی، جو اناطولیہ کے مطابق 27 اکتوبر کو ہوں گے۔

ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی میں دونوں رہنماؤں کی شراکت داری کی تعریف کی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی کسی اور رہنما کا انتخاب کرتے ہیں تو امریکہ کو خود یہ کام کرنا پڑ سکتا ہے۔

اناطولیہ کے حوالے سے ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا: "اگر اسرائیل نے غلط رہنما کا انتخاب کیا، یعنی بی بی کے علاوہ کوئی بھی، تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا، اور میں ایسا کرنے کا خواہاں نہیں ہوں۔" اناطولیہ نے نوٹ کیا کہ "بی بی" نیتن یاہو کا عرفی نام ہے۔

اناطولیہ نے عراقچی کی پوسٹ پر نیتن یاہو یا ان کے دفتر کا کوئی ردعمل رپورٹ نہیں کیا۔ اس نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان پر کسی ردعمل کی اطلاع بھی نہیں دی۔ ایجنسی کی رپورٹ اس بیان کا واحد ماخذ ہے، اور زینگا نیوز نے ان پوسٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

نیتن یاہو کی قانونی پوزیشن اور انتخابات

اناطولیہ کے مطابق نیتن یاہو 2022 کے اواخر سے موجودہ حکومت کے سربراہ ہیں۔ اس نے اس حکومت کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت قرار دیا۔

ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو پر اسرائیل میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ اناطولیہ کے مطابق یہ الزامات سزائConviction کی صورت میں قید کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ 2024 سے ایک بین الاقوامی عدالت کو غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں ان کی تلاش ہے۔

عراقچی کا الزام ان قانونی کارروائیوں کو ایران کے ساتھ جنگ کے سوال سے جوڑتا ہے۔ یہ دعویٰ کہ نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے تنازع چاہتے ہیں، اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق خود عراقچی کا مؤقف ہے۔ ایجنسی نے اس کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے، اور نہ ہی یہ بتایا کہ کیا اسرائیلی حکام نے اس پر کوئی جواب دیا ہے۔

اناطولیہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اسرائیل میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اپنے باہمی رابطے بڑھا دیے ہیں۔ اس کے مطابق وہ 27 اکتوبر کے ووٹ میں بیلٹ باکس کے ذریعے نیتن یاہو کی حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پس منظر

اناطولیہ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فوجی حملے کیے۔ ایجنسی کے مطابق تہران نے جوابی حملوں سے جواب دیا۔

اناطولیہ نے رپورٹ کیا کہ اپریل میں جنگ بندی ہوئی۔ جون میں فریقین کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا۔ ایجنسی کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد بعد ازاں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔

اناطولیہ نے رپورٹ میں لڑائی کی موجودہ صورتحال بیان نہیں کی۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ فوجی سرگرمیاں کہاں ہو رہی ہیں، اور نہ ہی تنازع کے کسی مرحلے کے لیے ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیے۔ اس لیے زینگا نیوز اس ماخذ سے یہ تفصیلات فراہم نہیں کر سکتا۔

عراقچی کا وہ حوالہ جس میں اسرائیل کے "کام مکمل" کرنے کی خواہش کا ذکر ہے، تنازع کے پہلے مرحلے سے متعلق دکھائی دیتا ہے، اگرچہ اناطولیہ نے اس تعلق کی وضاحت نہیں کی۔ ایجنسی نے ان کے پیغام کو واشنگٹن کے لیے انتباہ اور ٹرمپ کے اسرائیلی انتخاب سے متعلق بیان کے جواب کے طور پر پیش کیا۔

اناطولیہ کے مطابق یہ تبادلہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اسرائیل کے انتخابات کے گرد سیاسی بحث کا حصہ بن گئی ہے۔ ٹرمپ کی پوسٹ نے اسرائیلی رہنما کے انتخاب کو اس سوال سے جوڑا کہ ایران کے خلاف کون کارروائی کرے گا۔ عراقچی کے جواب نے نیتن یاہو کے ذاتی قانونی مسائل کو ایک نئی جنگ کے خطرے سے جوڑا۔

ماخذ مواد میں کسی بھی دعوے کی آزادانہ صحافتی تحقیق نہیں ہوئی۔ اناطولیہ کی رپورٹ میں صرف عراقچی اور ٹرمپ کے بیانات نقل کیے گئے ہیں، اور دونوں بیانات رسمی بریفنگ یا سرکاری دستاویزات کے بجائے سوشل میڈیا پر دیے گئے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج