Skip to content
Zenga News

روس اور سعودی عرب کو باب المندب میں کشیدگی پر تشویش

وزرائے خارجہ سergey لاوروف اور شہزادہ فیصل بن فرحان نے منامہ میں سمندری تحفظ اور علاقائی کشیدگی پر بات چیت کی، انادولو ایجنسی نے روسی وزارت خارجہ کے بیان کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔

Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: Manama Skyline, Bahrain
File photo: Manama Skyline, Bahrain تصویر: Zairon / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

منامہ — روسی وزیر خارجہ سergey لاوروف اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کے روز جنوبی عرب جزیرہ نما اور باب المندب آبنائے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا، انادولو ایجنسی کے مطابق۔

انادولو نے روسی وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں وزراء بحرین کے دارالحکومت میں ملے۔ یہ بات چیت روس-خلیج تعاون کونسل اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے نویں وزارتی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

سمندری تحفظ

انادولو کی رپورٹ کے مطابق روسی بیان میں بتایا گیا کہ وزراء نے سمندری تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تشویش کن کن واقعات یا فریقوں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

دوطرفہ تعلقات اور اوپیک پلس

انادولو کے مطابق وزراء نے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات کی۔ روسی بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے اعتماد پر مبنی باقاعدہ سیاسی مکالمے کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے تجارتی، اقتصادی، سرمایہ کاری، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کو وسعت دینے کا عہد بھی کیا۔

بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے اوپیک پلس کے دائرہ کار میں تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انادولو نے اس گفتگو کے اس حصے کی مزید تفصیلات نہیں دیں۔

کویت کے ساتھ ملاقات

انادولو کی رپورٹ کے مطابق لاوروف نے کویتی وزیر خارجہ جراح جابر الاحمد الصباح سے بھی ملاقات کی۔ ایجنسی کے مطابق دونوں نے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بات کی، جس میں خلیج کی صورت حال پر خصوصی توجہ دی گئی۔

انادولو نے بتایا کہ وزراء نے "دنیا کے اس اسٹریٹجک لحاظ سے اہم حصے" میں کشیدگی میں فوری کمی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات حل کرنے کا واحد راستہ سیاسی اور سفارتی ذرائع ہیں، اور اس دوران متعلقہ تمام علاقائی ممالک کے مفادات کا احترام کیا جانا چاہیے، رپورٹ کے مطابق۔

انادولو کے مطابق دونوں فریقوں نے روس-کویت تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کی بھی تجدید کی۔ ایجنسی نے باقاعدہ سیاسی مکالمے اور وسیع تر تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کو اس میں شامل علاقوں کے طور پر بیان کیا۔

کیا بیان نہیں کیا گیا

یہ مؤقف ایک ہی ذریعے پر مبنی ہے: انادولو کی وہ رپورٹ جو روسی وزارت خارجہ کے بیان سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں مذاکرات پر سعودی یا کویتی الگ بیان شامل نہیں ہے۔ اس میں جنوبی عرب جزیرہ نما یا باب المندب آبنائے میں کشیدگی کی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔ اس میں کسی ملک یا گروہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، اور نہ ہی ان ملاقاتوں میں طے پانے والے کسی ٹھوس اقدام کی فہرست دی گئی ہے۔

پس منظر

انادولو کے مطابق یہ بات چیت منامہ میں روس-جی سی سی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے نویں وزارتی اجلاس کے دوران ہوئی۔ رپورٹ میں سعودی اور کویتی وزراء سے ملاقاتوں کو اسی تقریب کے موقع پر ہونے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انادولو کی یہ رپورٹ 18 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج