Skip to content
Zenga News

ایران اور روس کا اتفاق: علاقائی مسائل کا کوئی فوجی حل نہیں

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران اور ماسکو سمجھتے ہیں کہ علاقائی مسائل کے لیے سفارت کاری درکار ہے، یہ بات روسی ہم منصب سergey لاوروف کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہی گئی، جیسا کہ انتارا نے رپورٹ کیا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Due to the heat, people place giant air conditioners on their rooves. Those air conditioners work day and night.
File photo: Due to the heat, people place giant air conditioners on their rooves. Those air conditioners work day and night. تصویر: GolhaMedia / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

تہران — ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پیر، 19 اکتوبر کو کہا کہ ایران اور روس اس بات پر متفق ہیں کہ علاقائی مسائل کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ان کے لیے سفارت کاری کا راستہ اپنانا چاہیے، جیسا کہ انتارا نے رپورٹ کیا۔

انتارا نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عراقچی نے تہران آئے ہوئے روسی وزیر خارجہ سergey لاوروف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں خطاب کیا۔ یہ پریس کانفرنس دونوں رہنماؤں کے تہران میں ہونے والے مذاکرات کے بعد منعقد ہوئی۔ انتارا کی رپورٹ پر زنہوا کا بائی لائن تھا۔ یہ رپورٹ صرف انتارا کے بیان پر مبنی ہے، اور ذیل میں درج بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

خلیج میں عدم تحفظ

انتارا کے مطابق عراقچی نے کہا کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف براہ راست فوجی جارحیت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جارحیت 28 فروری کو شروع ہوئی اور مختلف شکلوں میں اب تک جاری ہے۔

انتارا نے ان بیانات پر واشنگٹن یا اسرائیل کا کوئی ردعمل رپورٹ نہیں کیا۔

امریکی پالیسی کی مخالفت

عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے جسے انہوں نے "جارحانہ یک طرفہ پن" قرار دیا، اس کی مخالفت کرتے ہیں، جیسا کہ انتارا نے رپورٹ کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گے۔

لاوروف کے بیانات

انتارا کی رپورٹ کے مطابق لاوروف نے عراقچی کے ساتھ اپنی ملاقات کو مفید، شفاف اور کھلی ملاقات قرار دیا۔ انتارا کے انڈونیشیائی متن میں ان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دونوں فریق دوطرفہ تجارت میں تیز اور پائیدار اضافہ دیکھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لاوروف نے یہ بھی کہا کہ روسی ماہرین اور تکنیکی ماہرین جنوبی ایران میں بوشہر جوہری بجلی گھر منصوبے کی طرف بتدریج واپس آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائیڈرocarbons کی نکاسی اور ترسیل کے شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انتارا نے تجارت کے حجم، بوشہر واپس آنے والے روسی عملے کی تعداد یا ہائیڈرocarbons منصوبوں کی شرائط کی مزید تفصیلات نہیں دیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آیا دونوں وزرائے خارجہ نے کسی معاہدے پر دستخط کیے۔

رپورٹ کے مطابق لاوروف پیر کے روز پہلے ہی تہران پہنچ چکے تھے۔

پس منظر

انتارا کے مطابق ایران اور روس دونوں امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ اس نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو وسیع کیا ہے۔

انتارا کی رپورٹ میں اُن واقعات کی تفصیل نہیں دی گئی جنہیں عراقچی نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جارحیت قرار دیا۔ رپورٹ میں خلیج یا آبنائے ہرمز میں اس کے بعد پیش آنے والے حالات کا بھی ذکر نہیں کیا گیا، سوائے اس کے کہ ایرانی وزیر نے وہاں عدم تحفظ کی نشاندہی کی۔

انتارا کی رپورٹ کے ساتھ فراہم کی گئی ایک تصویر کے کیپشن میں بتایا گیا کہ عراقچی نے 25 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پریس ایریا میں پریس کانفرنس کی۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج