Skip to content
Zenga News

اقوام متحدہ کے نمائندے کا اسرائیل سے غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو اجازت دینے کا مطالبہ

نکولے ملاڈینوف نے اتوار کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی اور ایک بین الاقوامی فورس کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے دے، جیسا کہ دی نیو عرب نے ہاریٹز کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: The map shows the Rafah governorate and its surroundings including border crossings.
File photo: The map shows the Rafah governorate and its surroundings including border crossings. تصویر: OCHA OpT / Wikimedia Commons · Public domain

غزہ — مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر نکولے ملاڈینوف نے اتوار کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی اور ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر" داخل ہونے دے، جیسا کہ دی نیو عرب نے رپورٹ کیا ہے۔

اس ادارے نے، جس نے ہاریٹز کی رپورٹ کا حوالہ دیا، کہا کہ یہ مطالبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق ہے۔ یہ بیان ایک ہی ذریعے پر مبنی ہے۔ زینگا نیوز نے اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

کوگیٹ کو لکھا گیا خط

دی نیو عرب کے مطابق ملاڈینوف نے یہ درخواست یورام ہلیوی کو لکھے گئے خط میں کی، جو کوگیٹ کے سربراہ ہیں۔ کوگیٹ اسرائیل کا وہ ادارہ ہے جو فلسطینی علاقوں میں حکومتی سرگرمیوں کو مربوط کرتا ہے۔ یہ خط ہلیوی کے اس اعلان کے جواب میں تھا کہ نجی تاجروں کے ذریعے غزہ میں اشیا کی آمد "تا حکمِ ثانی" روک دی جائے گی، جیسا کہ ہاریٹز نے رپورٹ کیا۔ دی نیو عرب کے مطابق یہ وہ بنیادی راستہ ہے جس سے اشیا علاقے تک پہنچتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملاڈینوف نے لکھا کہ "حماس کی جانب سے تاجروں اور درآمد کنندگان سے بھتہ خوری (جس کی تحریک تردید کرتی ہے) کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگر نجی شعبے کی درآمدات رک گئیں تو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے غزہ پہنچائی جانے والی انسانی امداد پر بھی اسی طرح کا دباؤ ڈالا جائے گا۔

رفح کا آزمائشی منصوبہ

اقوام متحدہ کے نمائندے نے اسرائیلی حکومت سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ ایک آزمائشی منصوبے کی فوری منظوری دے، دی نیو عرب نے بتایا۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی اور بین الاقوامی استحکامی فورس جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کے ایک محدود علاقے میں کام شروع کریں گی۔ رپورٹ کے مطابق اس علاقے پر فی الحال اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے اور وہاں حماس کی موجودگی نہیں ہے۔

ملاڈینوف نے خط کے آخر میں اسرائیل سے کہا کہ وہ "پیس بورڈ" کے ساتھ مل کر غزہ کو اشیا کی فراہمی کے انتظام کے لیے نئے طریقہ کار پر کام کرے، جیسا کہ رپورٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کا عملہ اور اسرائیل اس معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں، دی نیو عرب نے رپورٹ کیا۔

حماس کا ردِعمل

دی نیو عرب نے رپورٹ کیا کہ حماس نے جمعہ کے روز ملاڈینوف کے بیانات پر تنقید کی۔ ایک بیان میں تحریک نے ان پر الزام لگایا کہ وہ "غزہ کی پٹی میں اشیا کی آمد روکنے کے اسرائیلی بہانوں کی تائید کر رہے ہیں اور وہاں انسانی بحران کو گہرا کر رہے ہیں"، جیسا کہ ادارے نے بتایا۔ رپورٹ کے مطابق حماس نے ان کے مؤقف کو نیتن یاہو حکومت کے اشیا کی آمد معطل کرنے کے فیصلے پر اسرائیلی بیانیے کو اپنانے کے مترادف قرار دیا۔ ماخذ کا متن یہیں پر ختم ہو جاتا ہے، اور حماس کے بیان کا باقی حصہ دستیاب نہیں تھا۔

پس منظر

دی نیو عرب کے مطابق ملاڈینوف کا خط اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے ایک پہلے فیصلے کے بعد آیا۔ جولائی کے اواخر میں، وزیر اعظم بنjamin نیتن یاہو کے واشنگٹن روانہ ہونے سے پہلے، کابینہ نے رفح میں محدود تعداد میں بین الاقوامی امن فوجی بھیجنے کی منظوری دی تھی، رپورٹ کے مطابق۔

ادارے نے کہا کہ یہ فیصلہ بعد میں مذہبی صہیونی تحریک کے وزرا کے دباؤ میں واپس لے لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اگست کے اواخر میں اعلان کیا کہ یہ تعیناتی منظور نہیں ہوئی ہے۔

دی نیو عرب کی رپورٹ میں ہلیوی، کوگیٹ یا اسرائیلی حکومت کی ملاڈینوف کے خط پر کوئی ردِعمل شامل نہیں تھا۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ نجی تاجروں کے ذریعے اشیا کی معطلی نافذ ہوئی ہے یا نہیں، اور یہ کب تک جاری رہی۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 18 اکتوبر، 2026غزہ میں اسرائیلی فائر سے 24 گھنٹوں کے اندر تین طلبا ہلاک، وزارت تعلیم کا دعویٰ
  2. 18 اکتوبر، 2026غزہ میں محاصرے کے دوران پانی کی قلت بڑھ گئی، تجارتی اشیا پر پابندیوں کا پانچواں دن
  3. 18 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے نمائندے کا اسرائیل سے غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو اجازت دینے کا مطالبہ
  4. 18 اکتوبر، 2026غزہ سٹی کے علاقے الدرج میں ملبے سے نکالے گئے 75 افراد کی اجتماعی تدفین

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج