یمن کی حکومت نے البیضاء اور الجوف کے لیے نئے گورنر مقرر کر دیے
یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے دو صوبوں کے لیے نئے گورنر مقرر کیے ہیں، جن کا جزوی کنٹرول حوثیوں کے پاس ہے، جبکہ جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ اطلاع انادولو ایجنسی نے دی ہے۔

صنعاء — یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے اتوار، یکم نومبر 2026 کو دو فرمان جاری کیے، جن کے تحت وسطی یمن کے صوبے البیضاء اور شمالی صوبے الجوف کے لیے نئے گورنر مقرر کیے گئے۔ انادولو ایجنسی کے مطابق دونوں صوبوں کا جزوی کنٹرول حوثیوں کے پاس ہے۔
انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی خبر رساں ایجنسی سبا کے حوالے سے، میجر جنرل حسین العجی علی العوضی کو البیضاء کا گورنر مقرر کیا گیا۔ میجر جنرل امین علی الakimi کو الجوف کا گورنر اور اس کے فوجی محاذ کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔
العوضی سابق گورنر البیضاء ناصر السوادی کی جگہ لیں گے۔ انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الakimi الجوف کا انتظام العوضی سے سنبھالیں گے، جو صوبے کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
یہ تقرریاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب دونوں صوبے پیچیدہ فوجی صورتحال سے دوچار ہیں۔ انادولو ایجنسی کے مطابق حکومتی افواج اور حوثی گروپ اسٹریٹجک مقامات کے کنٹرول پر جھڑپیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دونوں صوبوں میں فوجی صورتحال
رپورٹ کے مطابق البیضاء کے بیشتر علاقوں پر حوثیوں کا کنٹرول ہے۔ الجوف کا کنٹرول حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تقسیم ہے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق دونوں صوبوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ رپورٹ میں کسی بھی صوبے میں حالیہ لڑائی کے جانی نقصان کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔
یہ اہم کیوں ہے
دونوں صوبے فوجی اور جغرافیائی لحاظ سے اہمیت رکھتے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق البیضاء وسطی یمن میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں آٹھ دیگر صوبوں سے ملتی ہیں، جن میں چار شمال میں اور چار جنوب میں ہیں۔ الجوف کی سعودی عرب کے ساتھ زمینی سرحد ہے۔ یہ حوثیوں کے زیر کنٹرول صعدہ، عمران اور صنعاء کے قریب ہے، اور اس کی سرحدیں مآرب اور حضرموت سے بھی ملتی ہیں، جو حکومتی کنٹرول میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان صوبوں پر کنٹرول شمال اور جنوب کو ملانے والے راستوں اور سرحدی علاقے تک رسائی کو متاثر کرتا ہے۔ تقرریوں کے نتیجے میں لڑائی جاری رہنے کے دوران دونوں علاقوں میں مقامی انتظامیہ کی سربراہی نئے عہدیداروں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔
پس منظر
یمن ستمبر 2014 میں حوثیوں کے صنعاء اور کئی صوبوں پر قبضے کے بعد سے حالت جنگ میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت میں اتحاد نے مارچ 2015 میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔
انادولو ایجنسی کے مطابق یہ لڑائی اپریل 2022 سے جاری نسبتاً پرسکون دور کے خاتمے کا باعث بنی۔ حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان فوجی کشیدگی جولائی 2026 میں دوبارہ شروع ہوئی۔ ایجنسی کی طرف سے حوالہ دی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اس لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
5 اکتوبر 2026 سے حکومتی افواج "آپریشن ڈان آف یمن" کر رہی ہیں۔ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس کا اعلان کردہ مقصد حوثیوں کے کنٹرول سے ریاستی اداروں کی بحالی اور دارالحکومت صنعاء کو واپس لینا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری لڑائی اور بے گھر ہونے کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
آگے کیا ہوگا
ماخذ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نئے گورنر کب اپنے عہدے سنبھالیں گے یا آیا حوثیوں نے ان تقرریوں پر ردعمل دیا ہے۔ اس میں مزید طے شدہ فیصلوں یا مذاکرات کا بھی ذکر نہیں۔ اس مواد میں البیضاء اور الجوف پر جھڑپوں سے متعلق مزید پیش رفت کی اطلاع نہیں دی گئی۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 31 اکتوبر، 2026روبیو نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا
- 31 اکتوبر، 2026یمنی حکومت کا دعویٰ: اس کی افواج نے حوثیوں کے خلاف 1,119 کارروائیاں کیں
- 1 نومبر، 2026یمن میں حوثیوں کی حراست کے دوران اقوام متحدہ کے اہلکار محمد الشامی کی موت
- 1 نومبر، 2026یمن کی حکومت نے البیضاء اور الجوف کے لیے نئے گورنر مقرر کر دیے
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟