Skip to content
Zenga News

یمن نے حوثیوں پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تاکہ ناکہ بندی ختم ہو

انڈونیشیا میں یمن کے سفیر نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں پر دباؤ ڈالے تاکہ خاص طور پر تعز صوبے میں ناکہ بندیاں ختم کی جائیں، انتارا کے مطابق۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: رجل في تعز
File photo: رجل في تعز تصویر: Rod Waddington / Wikimedia Commons · CC BY-SA 2.0

جکارتہ — یمن کی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی تحریک پر دباؤ بڑھائے تاکہ ناکہ بندیاں ختم ہوں، خاص طور پر تعز صوبے میں، تاکہ امداد اور بنیادی اشیا مقامی باشندوں تک پہنچ سکیں، انتارا کے مطابق۔ یہ مطالبہ منگل، 20 اکتوبر 2026 کو انڈونیشیا میں یمن کے سفیر سالم احمد عبدالرحمن بال فقیح کے انتارا نیوز ایجنسی کے جکارتہ دفتر کے دورے کے دوران کیا گیا۔

"ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حوثیوں پر دباؤ ڈالے تاکہ یمن میں، خاص طور پر تعز صوبے میں، ناکہ بندیاں کھولی جائیں، اور یمنی عوام کو جن رسد کی ضرورت ہے، ان کی رسائی آسان بنائی جائے،" بال فقیح نے انتارا کے مطابق کہا۔

بال فقیح نے کہا کہ ناکہ بندی نے امداد اور رسد کی آمد روکی ہے، جس میں تعز صوبے میں پانی تک رسائی بھی شامل ہے، اور اس سے شہریوں کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے یمنی اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں اور انہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں پر باشندوں کو اغوا کرنے، حراست میں رکھنے اور تشدد کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ انتارا نے ان الزامات کی تفصیلات یا ذرائع نہیں بتائے۔

سفیر نے کہا کہ یمن کی حکومت اقوام متحدہ کو پیش کی گئی ایک تجویز کے لیے بھی بین الاقوامی حمایت چاہتی ہے۔ اس تجویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حوثیوں کو اقوام متحدہ کی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ بال فقیح نے کہا کہ یہ قدم اس بات کا مطلب نہیں کہ حکومت تنازع کے پرامن حل کو مسترد کرتی ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سرپرستی میں تقریباً 12 سال سے جاری امن کوششوں سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جن کی امید تھی۔ ان کی رائے میں حوثیوں نے جنگ بندی کے ادوار کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

بال فقیح نے انڈونیشیا کی حکومت سے یمنی عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے اور اقوام متحدہ و اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کے اقدامات کی حمایت کرنے کی بھی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ "فجر یمن" کے نام سے معروف فوجی کارروائی ملک میں امن و استحکام بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ یہ یمن کو دوبارہ محفوظ اور مستحکم بنائے، جس کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر مثبت اثرات ہوں۔

انتارا کے چیف ایگزیکٹو عبدالحکیم نے دورے کے دوران کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یمن کی کشیدگی جلد ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا اور یمن کے تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں۔ انتارا کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 7,000 انڈونیشی شہری یمن میں رہتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حکیم نے تنازع میں جاری شدت پر تشویش کا اظہار کیا۔ "ہم امید کرتے ہیں کہ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ کشیدگی ختم ہو اور امن کی طرف بڑھے،" حکیم نے کہا۔

انتارا کی رپورٹ سے واضح نہیں کہ آیا حوثیوں نے اس مطالبے یا انہیں دہشت گرد گروہ کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پر کوئی ردعمل دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا یہ تجویز باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کو پیش کی گئی ہے یا اس پر فیصلہ کب ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں تعز صوبے میں ہلاکتوں یا بے گھر ہونے والے افراد کے نئے اعداد و شمار بھی نہیں دیے گئے، اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ ناکہ بندی پر کیسے عمل ہو رہا ہے۔

پس منظر

تعز یمن کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور ملک کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ انتارا کی رپورٹ میں تنازع کو طویل عرصے سے جاری قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں امن کوششیں تقریباً 12 سال سے جاری ہیں۔ اس میں ان برسوں کے واقعات کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

انتارا نے یہ بھی بتایا کہ بال فقیح نے کہا کہ تنازع یمن اور سعودی عرب کے درمیان نہیں، بلکہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان ہے۔ یہ بیان انتارا کے ایک متعلقہ مضمون میں شامل ہے، جو مرکزی رپورٹ کے ساتھ درج تھا اور مکمل طور پر دستیاب نہیں تھا۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 20 اکتوبر، 2026یمن میں جاری لڑائی سے 30 لاکھ افراد کی خدمات متاثر ہونے کا یونیسف کا دعویٰ
  2. 20 اکتوبر، 2026سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض کی طرف داغا گیا حوثی میزائل روک لیا
  3. 20 اکتوبر، 2026یمن نے حوثیوں پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تاکہ ناکہ بندی ختم ہو
  4. 20 اکتوبر، 2026سڑکوں کی بندش سے امدادی سامان رکنے پر اقوام متحدہ نے تعز میں بگڑتی صورتحال سے خبردار کیا

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج