Skip to content
Zenga News

یمن میں حوثیوں کی حراست کے دوران اقوام متحدہ کے اہلکار محمد الشامی کی موت

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے محمد الشامی کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جو جون 2024 سے یمن میں حوثیوں کی حراست میں تھے، اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: United Nations Library Geneva bookstacks
File photo: United Nations Library Geneva bookstacks تصویر: Hadi / Wikimedia Commons · CC0

جنیوا — اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ وہ محمد الشامی کی موت سے "شدید صدمے" میں ہیں، جو اقوام متحدہ کے ایک اہلکار تھے اور یمن میں حوثیوں کی حراست کے دوران انتقال کر گئے، اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق۔ ترجمان نے کہا کہ گوتیرش اس موت کی مذمت کرتے ہیں اور ایک فوری، غیر جانبدار، شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ موت کے حالات، جنہیں بیان میں "یہ المناک سانحہ" کہا گیا، تاحال واضح نہیں ہیں۔ ذریعے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ موت کب یا کہاں ہوئی، اور نہ ہی موت کی وجہ بیان کی گئی ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

الشامی انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر (OHCHR) کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، حوثیوں نے انہیں 6 جون 2024 سے من مانے طریقے سے حراست میں رکھا ہوا تھا۔ حوثی وہ گروہ ہے جو شمالی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں اپنی حکام کو "غاصب" (de facto) قرار دیتا ہے۔ ذریعے میں ان کی حراست کی وجوہات کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے الشامی کی موت کو "مکمل طور پر تباہ کن" قرار دیا۔ انہوں نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ فوری تحقیقات یقینی بنائیں۔ ترک نے یہ بھی کہا کہ اہل خانہ "سچائی جاننے کے حقدار ہیں"۔

خاندان کو دیر سے اطلاع

اقوام متحدہ کے مطابق، الشامی کے اہل خانہ نے ادارے کو بتایا کہ ان کی موت کی اطلاع ملنے سے ایک ماہ سے زائد پہلے ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ اہل خانہ کو موت کی وجہ یا حالات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ ذریعے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اہل خانہ کو کب اور کس طرح اطلاع دی گئی، یا انہیں کس نے آگاہ کیا۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ معاملہ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار سے متعلق ہے، جن کی موت اس اتھارٹی کی حراست میں ہوئی جو یمن کے کچھ حصوں میں اقتدار رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ نے غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک موت کی وجہ اور حالات عوامی سطح پر معلوم نہیں ہیں، اور اہل خانہ کے پاس ان کا کوئی سرکاری بیان نہیں ہے۔

پس منظر

حوثی، جو باقاعدہ طور پر انصار اللہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ یمن 2014 سے مسلح تصادم کا شکار ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت پر قبضہ کیا۔ اقوام متحدہ نے حوثیوں کی جانب سے اپنے عملے کی حراست پر متعدد بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذریعے میں ان پچھلے واقعات کی مزید تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس رپورٹ میں کوئی اعداد و شمار یا مخصوص واقعات شامل نہیں کیے گئے۔

او ایچ سی ایچ آر اقوام متحدہ کا وہ ادارہ ہے جو انسانی حقوق کا ذمہ دار ہے۔ ترک اس دفتر کے سربراہ ہیں۔

آگے کیا ہوگا

ذریعے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تحقیقات شروع ہوئی ہیں یا نہیں، انہیں کون کرے گا، یا ان کے نتائج کب عام کیے جائیں گے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ حوثیوں نے اقوام متحدہ کی تحقیقات کے مطالبے پر کوئی ردعمل دیا ہے یا نہیں۔ یہ بیان مڈل ایسٹ آئی کی لائیو بلاگ اپ ڈیٹ کے طور پر شائع ہوا، جسے اس نے یکم نومبر 2026 کو شائع کیا۔

ماخذ: مڈل ایسٹ آئی، یکم نومبر 2026۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 31 اکتوبر، 2026عدن کے صدارتی محل پر حملے کی اطلاعات؛ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی
  2. 31 اکتوبر، 2026روبیو نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا
  3. 31 اکتوبر، 2026یمنی حکومت کا دعویٰ: اس کی افواج نے حوثیوں کے خلاف 1,119 کارروائیاں کیں
  4. 1 نومبر، 2026یمن میں حوثیوں کی حراست کے دوران اقوام متحدہ کے اہلکار محمد الشامی کی موت

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج