ڈیموکریٹ ہیلی سٹیونز نے مشی گن سینیٹ مقابلے میں ریپبلکن مائیک راجرز کی حمایت کر دی
مشی گن کی ڈیموکریٹ ہیلی سٹیونز، جو پارٹی کے سینیٹ پرائمری مقابلے میں عبدالعلی الصیاد سے ہار گئی تھیں، وسط مدتی انتخابات سے دو دن پہلے ریپبلکن مائیک راجرز کی حمایت کر چکی ہیں۔

ڈیٹرائٹ — امریکی نمائندہ ہیلی سٹیونز، جو ڈیموکریٹ ہیں، نے اتوار کے روز مشی گن میں امریکی سینیٹ کے لیے ریپبلکن مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ قدم وسط مدتی انتخابات سے دو دن پہلے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالعلی الصیاد کی مہم کے لیے دھچکا ثابت ہوا، جیسا کہ الجزیرہ اور اناضول ایجنسی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے۔
سٹیونز نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کیا۔ انہوں نے کہا: "میں امریکی سینیٹ کے لیے مائیک راجرز کی حمایت کرتی ہوں۔ آج میں عبدل کی مہم کا حصہ نہیں ہوں۔" رپورٹوں کے مطابق انہوں نے یہ اعلان اتوار کو ڈیٹرائٹ کے ایک چرچ کی تقریب میں راجرز کے ساتھ شرکت کے بعد کیا۔
اگست میں ہونے والی ڈیموکریٹک پرائمری میں سٹیونز کو الصیاد کے مقابلے میں معمولی فرق سے شکست ہوئی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق، اسی دن چرچ کی تقریب سے قبل انہیں الصیاد کے ساتھ ایک مشترکہ تقریب سے بھی دعوت واپس لے لی گئی تھی۔ ویڈیو میں سٹیونز نے کہا: "مشی گن کے باشندے ہونے کے ناطے ہم جو ہیں وہ نفرت نہیں ہے، اور ہمارے ڈیموکریٹ امیدوار سے اس وقت ہمیں یہی کچھ مل رہا ہے، وہ نہیں جو ہم چاہتے ہیں۔"
اناضول ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الصیاد حالیہ زیادہ تر جائزوں میں آگے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حمایت ووٹنگ کے عین موقع پر کچھ ووٹروں کی رائے بدل سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے "بڑی" قرار دیا۔ انہوں نے سٹیونز کی "بہادری" اور ریاست کے ساتھ "شاندار اور تقریباً بے مثال وفاداری" کو سراہا، جیسا کہ اناضول ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے ایک بیان میں ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے ڈیموکریٹس "عبدالعلی الصیاد کی حمایت میں متحد ہیں"، اور راجرز کو "ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی عطیہ دہندگان کا آلہ کار" قرار دیا۔ اناضول ایجنسی کے مطابق سٹیونز نے کہا کہ وہ اب بھی "ایک بہت فخر مند ڈیموکریٹ" ہیں۔
زیرِ جائزہ رپورٹوں میں الصیاد کا اس حمایت پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ سٹیونز ایک ایسی پرائمری کو دوبارہ زیرِ بحث لانے پر تُلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جو تین ماہ پہلے ختم ہو چکی ہے، جیسا کہ اناضول ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
رپورٹوں کے مطابق حمایت کے اعلان کے بعد سٹیونز کا پورا کانگریشنل عملہ، جس میں ان کے چیف آف سٹاف بھی شامل ہیں، مستعفی ہو گیا۔ اناضول ایجنسی نے ڈیٹرائٹ نیوز کی میلیسا نین برک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں ایک ترجمان کا حوالہ دیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ استعفوں کا تعلق حمایت کے اعلان سے ہے یا نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
مشی گن کی سینیٹ نشست ان مقابلوں میں شامل ہے جو وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی سینیٹ کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گے۔ الجزیرہ نے اس مقابلے کو سخت کانٹے کا قرار دیا ہے۔ ووٹنگ سے ایک دن پہلے ڈیموکریٹس میں تقسیم ٹرن آؤٹ اور ان ووٹروں کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتی ہے جنہوں نے پرائمری میں سٹیونز کو ووٹ دیا تھا۔
اس مقابلے میں الصیاد کے مذہب کی جانب توجہ بھی مبذول ہوئی ہے۔ اناضول ایجنسی کے مطابق، سابق پبلک ہیلتھ عہدیدار الصیاد اگر جیت جاتے ہیں تو امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہوں گے۔ ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ راجرز الصیاد کے مذہب کو ایک مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کی وفاداریاں تقسیم ہیں۔ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الصیاد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسلام دشمنی پر مبنی ہیں، اور الصیاد نے ان دعووں کو مسترد کیا ہے۔
پس منظر
سٹیونز اور الصیاد اگست 2026 میں ڈیموکریٹک پرائمری میں حریف تھے۔ الجزیرہ کے مطابق سٹیونز معمولی فرق سے ہاری۔ اناضول ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ پرائمری کے بعد دونوں نے ایک اتحاد کے لیے ناشتے کی تقریب منعقد کی تھی، لیکن اس کے بعد وہ عوامی طور پر اکٹھے نظر نہیں آئے تھے۔
حمایت کے اعلان سے پہلے کے ہفتوں میں دونوں کے درمیان عوامی تنازعات بڑھ گئے تھے۔ سٹیونز نے الصیاد سے ایک غیر وابستہ سیاسی ایکشن کمیٹی (PAC) کے اشتہار کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس اشتہار میں مہنگی اشیائے خورونوش کو ان اربوں ڈالر سے جوڑا گیا تھا جو امریکہ ہر سال اسرائیل کو امداد کے طور پر دیتا ہے۔ سٹیونز کا موقف تھا کہ الصیاد کو انتخابی مالیاتی اصلاحات کا آغاز "اسرائیل کو اس وضاحت سے نکال کر کریں جو وہ ہر اس چیز کے لیے دیتے ہیں جس کا مشی گن متحمل نہیں ہو سکتا"، جیسا کہ اناضول ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
اناضول ایجنسی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ سٹیونز کو پرائمری سے پہلے امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC)، جو ایک اسرائیل نواز پی اے سی ہے، کی جانب سے غیر معمولی طور پر بڑے عطیات ملے تھے۔ اس رپورٹ میں AIPAC کو امریکہ کی سب سے بڑی اسرائیل نواز پی اے سی قرار دیا گیا۔
آگے کیا ہوگا
اناضول ایجنسی کے مطابق وسط مدتی انتخابات منگل، 3 نومبر 2026 کو ہوں گے۔ اسی روز ووٹر مشی گن کے سینیٹ مقابلے کا فیصلہ کریں گے۔ شومر کا بیان اور حمایت کے جواب میں ڈیموکریٹس کا ردعمل اگلے عوامی ردعمل کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ آیا سٹیونز راجرز کی انتخابی مہم چلائیں گی، یا ان کے عملے کے استعفوں کی مزید وضاحت کی جائے گی۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟