سعودی عرب نے مکہ کی مسجد میں "فحش حرکات" کے الزام میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو پھانسی دے دی
سعودی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے مکہ کی ایک مسجد میں کی گئی حرکات پر سزایافتہ ایک بنگلہ دیشی مرد اور ایک بنگلہ دیشی خاتون کو پھانسی دی۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اسے پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور اس نے ریاض سے معلومات طلب کی ہیں۔

مکہ — سعودی عرب نے ایک بنگلہ دیشی مرد اور ایک بنگلہ دیشی خاتون کو پھانسی دے دی ہے جنہیں مکہ کی ایک مسجد کے اندر "فحش حرکات" کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی، سعودی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اسے پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، 19 اور 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ وزارت نے اپنے اقدام کی وجہ "ان کے اعمال کی سنگینی اور شدت، جن سے وقت اور مقام دونوں کے تقدس کی خلاف ورزی ہوئی" بتائی۔ اے پی کے مطابق وزارت نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں دی۔
کیس کی تفصیلات
ملاوی میں قائم خبر رساں ادارے دی ماراوی پوسٹ نے سعودی پریس ایجنسی کے جاری کردہ بیان کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق پھانسیاں بدھ، 14 اکتوبر 2026 کو مکہ کے علاقے میں ہوئیں۔ دی ماراوی پوسٹ کے مطابق اے پی، بی بی سی اور الجزیرہ نے بھی اس بیان کی رپورٹنگ کی تھی۔ زینگا نیوز نے اصل بیان خود نہیں دیکھا۔
اس بیان کے مطابق سکیورٹی اداروں نے دونوں افراد کو گرفتار کیا، ان پر فرد جرم عائد کی گئی اور مقدمہ عدالت میں بھیجا گیا۔ عدالت نے انہیں قصوروار ٹھہراتے ہوئے "تعزیر" کے تحت موت کی سزا سنائی، جسے رپورٹ میں اسلامی قانون کے تحت صوابدیدی سزا کی ایک قسم بتایا گیا۔
وزارت نے بیان میں کہا، "ان فیصلوں کی متعلقہ عدالتی اتھارٹی نے توثیق کی، اس کے بعد ایک شاہی حکم سے پھانسیوں کی اجازت دی گئی۔" دی ماراوی پوسٹ نے یہ بیان نقل کیا۔
دی ماراوی پوسٹ کے مطابق وزارت نے یہ بھی کہا کہ حکومت مکہ اور مدینہ کی مساجد کے تقدس کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
بنگلہ دیش کا ردعمل
اے پی کے مطابق بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ سزاؤں پر عمل درآمد سے پہلے اسے مطلع نہیں کیا گیا۔ اس نے سعودی عرب سے معلومات طلب کی ہیں۔
دی ماراوی پوسٹ نے دی ڈیلی اسٹار اور گلف نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جدہ میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے اور ڈھاکہ میں وزارتِ خارجہ دونوں نے کہا کہ انہیں پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے سعودی حکام سے باضابطہ طور پر تفصیلات طلب کی ہیں، جن میں دونوں افراد کا پس منظر اور ان کی لاشوں کے انتظامات شامل ہیں۔
دی ماراوی پوسٹ نے یہ بھی بتایا کہ بنگلہ دیش میں مرد کے رشتہ داروں نے سوشل میڈیا پر اس دعوے کی تردید کی کہ دونوں کی شادی ہوئی تھی۔ خاندان کے مطابق وہ ایک دوسرے سے متعلق نہیں تھے اور انہیں اس کیس کے بارے میں بہت محدود پیشگی معلومات تھیں۔ زینگا نیوز اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
کیا غیر مصدقہ ہے
بیان میں، جیسا کہ نقل کیا گیا، "فحش حرکات" کی اصطلاح استعمال کی گئی اور اس کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔ دی ماراوی پوسٹ کے مطابق "متعدد بین الاقوامی میڈیا رپورٹوں" میں اس فعل کو مسجد کے اندر جنسی عمل کے طور پر بیان کیا گیا۔ زینگا نیوز کو دستیاب اے پی رپورٹ میں اس فعل کی وضاحت نہیں کی گئی، اور سعودی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ذرائع وقت کے بارے میں مختلف ہیں۔ دی ماراوی پوسٹ پھانسیوں کی تاریخ 14 اکتوبر بتاتا ہے، جبکہ 20 اکتوبر کو شائع ہونے والی اے پی رپورٹ میں کوئی تاریخ درج نہیں۔
دی ماراوی پوسٹ کے مطابق 19 اکتوبر تک وزارتِ داخلہ کے اعلان کے علاوہ کوئی مزید سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی تھی۔ وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ ان دونوں کے پاس قانونی نمائندگی تھی یا نہیں، یا کیا وہ عدالتی جائزے کے علاوہ کسی اپیل کے اہل تھے۔
پس منظر
اے پی نے پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ کی خبروں کے وسیع جائزے کے حصے کے طور پر اس کیس کا خلاصہ پیش کیا۔ اس جائزے میں مغربی کنارے میں اسرائیلی پولیس کی گرفتاریوں، غزہ میں انسانی امداد کی فنڈنگ اور یمن اور سعودی عرب میں حوثی حملوں کا بھی ذکر تھا۔ ان واقعات کا پھانسیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دونوں افراد کی شناخت صرف ایک ادارے نے رپورٹ کی ہے۔ زینگا نیوز مزید تصدیق تک ان کے نام شائع نہیں کر رہا۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- manilatimes.neten · 19 اکتوبر، 2026
- maravipost.comen · 19 اکتوبر، 2026
- thedailystar.neten · 20 اکتوبر، 2026
- iraqsun.comen · 20 اکتوبر، 2026
- moneycontrol.comen · 20 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟