ترکیہ نے یو این سیکرٹری جنرل کے لیے سنیرلی اوغلو کو نامزد کر دیا
ترکیہ نے او ایس سی ای کے سربراہ فریدون ہادی سنیرلی اوغلو کو انتونیو گوتیرش کی جگہ لینے کے لیے نامزد کیا ہے، انادولو کے مطابق۔ یہ قدم سلامتی کونسل کی غیر نتیجہ خیز ابتدائی رائے شماری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
انقرہ — ترکیہ نے یورپ میں سلامتی و تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے سربراہ فریدون ہادی سنیرلی اوغلو کو اقوام متحدہ کا اگلا سیکرٹری جنرل بننے کے لیے نامزد کیا ہے، ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نے ہفتے، 31 اکتوبر 2026 کو یہ اطلاع دی۔
انادولو نے ترکی کے وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے جمعے کی تاریخ کا ایک نامزدگی کا خط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو پیش کیا گیا ہے۔ ایجنسی نے یہ خط شائع نہیں کیا، اور ذرائع نے نامزدگی کے علاوہ اس خط کے مندرجات کی تفصیل نہیں بتائی۔
یہ قدم انتخابی عمل میں تعطل کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق جمعے کو ہونے والی سلامتی کونسل کی تازہ ترین ابتدائی رائے شماری کا نتیجہ غیر واضح رہا۔
پس منظر
موجودہ سیکرٹری جنرل پرتگال کے انتونیو گوتیرش اپنی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر کو مکمل کر رہے ہیں۔ ان کے جانشین کا انتخاب ایک ایسے عمل کے ذریعے ہوتا ہے جو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سے گزرتا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق، کسی امیدوار کو سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم نو ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ امیدوار کو پانچ مستقل ارکان، یعنی امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ، میں سے کسی کے ویٹو سے بھی بچنا ہوتا ہے۔ مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ ان پانچ بڑی طاقتوں میں شدید اختلافات ہیں۔
جب کوئی امیدوار سلامتی کونسل سے منظوری حاصل کر لیتا ہے تو اس کا نام جنرل اسمبلی کو بھیجا جاتا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک توثیق کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔
او ایس سی ای ویانا میں قائم ایک علاقائی سلامتی کی تنظیم ہے جو یورپ، وسطی ایشیا اور شمالی امریکہ کا احاطہ کرتی ہے۔ سنیرلی اوغلو اپنی موجودہ حیثیت میں اس کی قیادت کر رہے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اگر ان کی توثیق ہو جاتی ہے تو وہ اگلی مدت، جو یکم جنوری سے شروع ہوگی، کے لیے اقوام متحدہ کے بنیادی انتظامی اور سفارتی دفتر کی سربراہی سنبھالیں گے۔ اس عہدے کو اقوام متحدہ کی امن کوششوں پر وسیع اثر حاصل ہے، بشمول ان تنازعات میں جو مسلم اکثریتی ممالک کو متاثر کر رہے ہیں، تاہم ذرائع نے بتایا کہ وہ کون سی مخصوص پالیسی اپنائیں گے، اس پر بات نہیں کی گئی۔
آگے کیا ہوگا
ذرائع نے سلامتی کونسل کی اگلی ابتدائی رائے شماری یا جنرل اسمبلی کی کسی ووٹنگ کی تاریخ نہیں بتائی۔ نہ انادولو اور نہ ہی مڈل ایسٹ آئی نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ آیا دیگر ممالک نے جوابی طور پر امیدوار پیش کیے ہیں، یا ترکی کی نامزدگی پر سلامتی کونسل کے ارکان کا ردعمل کیا رہا ہے۔
الجزیرہ عربیہ چینل کی ٹیلیگرام پر ایک علیحدہ پوسٹ میں ترکیہ کو سنیرلی اوغلو کو اقوام متحدہ کی قیادت کی "مشکل دوڑ" میں آگے بڑھاتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں مزید تفصیلات شامل نہیں تھیں، اور چینل کے دعووں کی دیگر ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟