Skip to content
Zenga News

ٹرمپ کا دعویٰ: پیرس جلد "مسلم شہر" بن جائے گا، فرانس کی بدامنی کا ذمہ دار تارکین وطن کو ٹھہرایا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں بدامنی کے لیے تارکین وطن کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ پیرس "مسلم شہر" بن جائے گا، الجزیرہ کے مطابق۔ یہ بیان مغرب میں اسلاموفوبیا پر جاری بحث میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

Onur Irmako
Zenga News یورپ اور امریکہ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: View over Paris , at dusk, from the Maine-Montparnasse tower , equirectilinear projection version
File photo: View over Paris , at dusk, from the Maine-Montparnasse tower , equirectilinear projection version تصویر: Benh LIEU SONG / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

امریکہ — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پیرس جلد "مسلم شہر" بن جائے گا اور انہوں نے فرانس میں بدامنی کا ذمہ دار تارکین وطن کو ٹھہرایا، الجزیرہ انگلش اور ترک خبر رساں ویب سائٹ haber7.com کی 19 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے یہ تبصرے فرانس میں ایک ہفتہ آخر کے دوران ہونے والے احتجاج اور لوٹ مار کے بعد کیے۔ نشریاتی ادارے کی سرخی میں ان کے حوالے سے کہا گیا: "پیرس بہت جلد ایک مسلم شہر بننے جا رہا ہے۔" ترک ویب سائٹ haber7.com نے بھی اپنی سرخی میں یہی دعویٰ شائع کیا۔

الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میکرون فرانس کی سرحدیں بند کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ٹرمپ نے اس تنقید کو کس انداز میں پیش کیا یا یہ بات انہوں نے کہاں کہی۔

ذرائع کیا نہیں بتاتے

دونوں ذرائع میں تفصیلات بہت کم ہیں۔ الجزیرہ کا بیان ایک ویڈیو رپورٹ کا مختصر خلاصہ ہے۔ haber7.com کی فراہم کردہ خبر میں صرف سرخی شامل ہے۔

دونوں میں سے کوئی ذریعہ یہ نہیں بتاتا کہ ٹرمپ نے یہ بیانات کہاں اور کب دیے، یا آیا انہوں نے کسی تقریب، انٹرویو یا سوشل میڈیا پر بات کی۔ نہ ہی احتجاج اور لوٹ مار کے مقامات، اس میں شامل افراد کی تعداد، یا گرفتاریوں، زخمیوں یا نقصان کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں۔

ان ذرائع میں میکرون، فرانسیسی حکومت یا فرانس کی مسلم کمیونٹی کی تنظیموں کا ردعمل بھی شامل نہیں۔ نہ ہی پیرس کے مستقبل سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ اس بیان کو یہاں ان کا مؤقف کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

الجزیرہ کے الفاظ میں ٹرمپ نے بدامنی کے لیے "تارکین وطن کو ذمہ دار ٹھہرایا"۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ کیا فرانسیسی حکام نے احتجاج یا لوٹ مار کی وجہ کی نشاندہی کی ہے، یا کیا انہوں نے ان واقعات کو کسی خاص گروہ سے جوڑا ہے۔

پس منظر

یہ بیان مغربی ممالک میں سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ کے مسلمانوں اور تارکین وطن کے بارے میں گفتگو کے انداز سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔ اس موضوع پر تلاش اکثر "اسلاموفوبیا" جیسی اصطلاحات کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے ماخذ اس بحث سے براہ راست تعلق نہیں رکھتے، اور ان میں حقوق کی تنظیموں یا محققین کا تبصرہ شامل نہیں۔

ذرائع سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ محدود ہے: ایک امریکی صدر نے ایک یورپی دارالحکومت کی مذہبی شناخت کے بارے میں دعویٰ کیا، اسے تارکین وطن سے جوڑا، اور فرانسیسی صدر کی سرحدی پالیسی پر تنقید کی۔ الجزیرہ نے اسے 19 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا، اور haber7.com نے یہی دعویٰ سرخی میں شائع کیا۔

زنگا نیوز اگر مزید تفصیلات سامنے آئیں، جن میں ان بیانات کا پس منظر اور فرانسیسی حکام کا ردعمل شامل ہے، تو اس رپورٹ کو اپڈیٹ کرے گا۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 20 اکتوبر، 2026El-Sayed Rejects Muslim Brotherhood Ties Questions in Michigan Senate Race
  2. 20 اکتوبر، 2026Politically motivated crimes in Baden-Württemberg nearly double since 2022
  3. 20 اکتوبر، 2026Islamic Supreme Council of Canada to meet Pope Leo XIV at Vatican
  4. 20 اکتوبر، 2026Rogers Says Michigan Voters Worry About El-Sayed

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج