غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 74,480 ہو گئی، 175,539 زخمی
انطارا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 74,480 افراد ہلاک اور 175,539 زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں 11 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد درج ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں طبی ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔

غزہ — انڈونیشیا کی خبر رساں ایجنسی انطارا نے بدھ، 21 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی میں غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 74,480 ہو گئی ہے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 175,539 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انطارا نے یہ نہیں بتایا کہ کس ادارے نے یہ مجموعی اعداد و شمار مرتب کیے ہیں۔ اس کی رپورٹ میں تازہ روزانہ اعداد و شمار کا ذریعہ نامعلوم طبی ذرائع کو بتایا گیا ہے۔ یہ مضمون صرف اسی رپورٹ پر مبنی ہے، اور ان اعداد میں سے کسی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
تازہ اعداد و شمار
انطارا کے مطابق طبی ذرائع نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران پانچ لاشیں لائی گئیں۔ ان میں سے چار وہ اموات تھیں جو نئے سرے سے درج کی گئیں۔ ان ذرائع کے مطابق اسی عرصے میں 22 زخمی افراد بھی ہسپتالوں تک پہنچائے گئے۔
انطارا کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان افراد کی ہلاکت یا زخمی ہونے کا مقام اور طریقہ کیا تھا۔ اس میں یہ بھی واضح نہیں کہ نئے درج ہونے والی چار اموات حالیہ واقعات کا نتیجہ ہیں یا پہلے کے واقعات کے بعد شمار میں شامل کی گئیں۔
جنگ بندی کے بعد جانی نقصان
رپورٹ میں 11 اکتوبر سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد کے عرصے کا الگ شمار بھی دیا گیا ہے۔ انطارا نے انہی طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس عرصے میں 1,522 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 5,421 زخمی ہوئے ہیں۔
انطارا نے مزید بتایا کہ 839 لاشیں بھی نکالی گئی ہیں۔ رپورٹ یہ وضاحت نہیں کرتی کہ نکالی گئی لاشیں 1,522 کے عدد میں شامل ہیں یا الگ شمار کی گئی ہیں۔ نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لاشیں کہاں اور کب ملیں۔
انطارا نے اعداد و شمار جیسے رپورٹ کیے ہیں ویسے ہی پیش کیے ہیں۔ ایجنسی نے عمر، جنس یا مقام کے لحاظ سے تفصیل فراہم نہیں کی، اور نہ ہی یہ بتایا کہ جنگ بندی کے بعد درج ہونے والی اموات کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے۔
ملبے میں پھنسے افراد
انطارا کے مطابق طبی ذریعے نے مزید کہا کہ کچھ متاثرین ابھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا گلیوں میں پڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ سکیں۔ ایجنسی نے یہ اندازہ نہیں دیا کہ کتنے افراد متاثر ہیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ کہاں ہیں۔
نصیرات کی تصویر
اس رپورٹ کے ساتھ شائع ہونے والی ایک تصویر، جو اے ایف پی کے فوٹوگرافر ایاد بابا سے منسوب ہے، بدھ، 7 اکتوبر 2026 کو لی گئی۔ تصویر کے کیپشن کے مطابق فلسطینی بچے وسطی غزہ کے نصیرات میں ایک بے گھر کیمپ میں پانی کے ایک تقسیم کے مقام پر پانی کے برتن بھر رہے تھے۔
کیپشن میں کہا گیا ہے کہ اس دن بھی اسرائیلی افواج نے غزہ میں فلسطینیوں پر حملے جاری رکھے۔ اس کے مطابق اطلاعات کے مطابق دو فلسطینی ہلاک ہوئے۔ کیپشن میں اس اطلاع کا ماخذ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی واقعات کی تفصیل دی گئی ہے۔
وہ نکات جن کی تصدیق نہیں ہو سکی
رپورٹ کے کئی نکات صرف انطارا کی تحریر کی بنیاد پر ثابت نہیں کیے جا سکتے۔
- رپورٹ اس ادارے کا نام نہیں بتاتی جس نے 74,480 ہلاکتوں اور 175,539 زخمیوں کا مجموعی شمار جاری کیا۔
- یہ ان طبی ذرائع کی شناخت نہیں کرتی جنہوں نے 24 گھنٹوں اور جنگ بندی کے بعد کے اعداد فراہم کیے۔
- یہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد درج ہونے والی اموات کے حالات بیان نہیں کرتی۔
- اس میں ان اعداد پر اسرائیلی فوج یا حکومت کا کوئی ردعمل شامل نہیں۔
- یہ نہیں بتاتی کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کتنے شہری اور کتنے جنگجو تھے۔
انطارا نے اسرائیلی کارروائی کو "فنا کی جنگ" اور "قابض افواج" کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ یہ ایجنسی کی اپنی تعبیر ہے اور کسی آزاد تحقیق سے ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ رپورٹ میں ان الفاظ یا جانی نقصان کے اعداد پر اسرائیلی مؤقف شامل نہیں۔
پس منظر
انطارا جو شمار پیش کرتی ہے وہ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہوتا ہے، جسے وہ غزہ جنگ کا آغاز قرار دیتی ہے۔ ایجنسی کے بیان کے مطابق اس عرصے میں کارروائی میں 74,480 افراد ہلاک اور 175,539 زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 11 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ کی گئی۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاہدے میں کس نے ثالثی کی، اس کی شرائط کیا ہیں، یا آیا یہ اب بھی رسمی طور پر نافذ ہے۔ رپورٹ میں جنگ بندی کا سال بھی نہیں بتایا گیا۔ اس کے باوجود انطارا کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی پٹی میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوتے رہے ہیں۔ رپورٹ میں ان جانی نقصانات کی ذمہ داری کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
انطارا کے صفحے پر ایک الگ رپورٹ کا لنک بھی تھا، جس کی سرخی تھی کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی حکام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ اس رپورٹ کا متن فراہم کردہ مواد میں شامل نہیں تھا، اس لیے یہ مضمون اس کے مندرجات کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔
انطارا کی رپورٹ اس کی کریڈٹ لائن کے مطابق آسری مایانگ サری نے ترجمہ کی اور بایو پرستیو نے ایڈٹ کی۔ ایجنسی نے اسے 21 اکتوبر 2026 کو شائع کیا۔
زینگا نیوز نے جانی نقصان کے اعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ انہیں یہاں انطارا کے اس بیان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ طبی ذرائع نے کیا کہا۔ غزہ کے واقعات پر نظر رکھنے والے قارئین ان اعداد کو عارضی سمجھیں، کیونکہ ایجنسی نے اپنے ذرائع کا نام نہیں بتایا اور نہ ہی یہ بیان کیا کہ شمار کیسے جمع کیے گئے۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 20 اکتوبر، 2026Israel extends ban on Sheikh Ikrima Sabri from Al-Aqsa
- 21 اکتوبر، 2026Indonesia pledges support for Palestinian education
- 21 اکتوبر، 2026Iron gate isolates 700 Jerusalemites in Wadi al-Rababa
- 21 اکتوبر، 2026غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 74,480 ہو گئی، 175,539 زخمی
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟