Skip to content
Zenga News

غزہ سٹی میں ملبے سے نکالی گئی 75 لاشوں کی تدفین

اتوار کو غزہ سٹی میں سینکڑوں افراد نے 75 افراد کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی، جن کی باقیات دارج کے علاقے میں تباہ شدہ گھروں سے نکالی گئیں، غزہ کے سول ڈیفنس نے بتایا۔

Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Images from Gaza war 2023-2025
File photo: Images from Gaza war 2023-2025 تصویر: Jaber Jehad Badwan / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

غزہ سٹی — اتوار کو غزہ سٹی کے علاقے دارج میں تباہ شدہ گھروں سے برآمد ہونے والی 75 افراد کی باقیات کی نماز جنازہ میں سینکڑوں فلسطینیوں نے شرکت کی۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ معلومات انادولو ایجنسی نے دی ہیں۔

جنازے کا آغاز دارج سپورٹس کلب کے باہر سے ہوا۔ انادولو کی رپورٹ کے مطابق اس کے بعد باقیات کو غزہ سٹی کے شیخ رضوان قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ہفتے کی شام انہیں اس مقام پر رکھا گیا تاکہ رشتہ دار آخری بار الوداع کہہ سکیں۔

سول ڈیفنس کا مؤقف

غزہ کے سول ڈیفنس کے شعبہ تعلقات عامہ و ذرائع ابلاغ کے ڈائریکٹر عبداللہ المجدلاوی نے انادولو کو بتایا کہ ٹیموں نے حالیہ ہفتوں کے دوران شمال مشرقی غزہ سٹی کے دارج میں کئی تباہ شدہ گھروں سے باقیات نکالی ہیں۔

ان کے مطابق جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ان عمارتوں پر بمباری کی گئی، جب ان میں مکین موجود تھے۔ المجدلاوی کے مطابق مرنے والے تقریباً 20 فلسطینی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ان گھروں میں بے گھر ہو کر آئے تھے۔

المجدلاوی نے کہا کہ سازوسامان اور بھاری مشینری کی کمی کے باعث بازیابی کے کام کو اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ترک نشریاتی ادارے TRT Haber نے ہفتے کو ٹیلیگرام پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ 75 لاشیں ہلاکت کے تین سال بعد ملبے سے نکالی گئیں۔ یہ پوسٹ غیر تصدیق شدہ ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ کے بچوں نے آنسوؤں کے ساتھ اپنے خاندانوں کو الوداع کہا۔ انادولو کی رپورٹ میں مرنے والوں میں بچوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

بازیابی کا منصوبہ

یہ کارروائی سول ڈیفنس کے ملبے میں دبی لاشیں نکالنے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔ انادولو کے مطابق یہ مرحلہ 19 جولائی کو شروع ہوا۔

سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بasal نے اس وقت کہا تھا کہ اس مرحلے میں غزہ سٹی اور غزہ کی پٹی کے شمالی اور وسطی حصوں میں 147 تباہ شدہ گھر شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق وہاں تقریباً 1,072 لاشیں ملبے میں دبی ہونے کا اندازہ ہے۔

پہلا مرحلہ نومبر 2025 میں شروع ہوا۔ انادولو کی رپورٹ کے مطابق اس میں 54 تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے تقریباً 559 افراد میں سے 333 لاشیں اور باقیات نکالی گئیں۔ وسائل کی کمی کے باعث ٹیمیں تقریباً 226 دیگر افراد تک نہیں پہنچ سکیں۔

بasal نے 7 اکتوبر کو انادولو کو بتایا کہ 8,000 سے زائد لاپتہ فلسطینی اب بھی ملبے تلے ہونے کا خیال ہے۔ ان کے مطابق موجودہ وسائل کے ساتھ انہیں نکالنے میں تقریباً آٹھ سال لگ سکتے ہیں۔

پس منظر

غزہ میں 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے۔ انادولو کے مطابق اس کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیل سے توقع تھی کہ وہ بھاری سازوسامان اور مشینری کو غزہ میں آنے دے گا۔ ایجنسی کے مطابق فلسطینی حکام اور گروہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ یہ اور دیگر وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا۔ انادولو کی رپورٹ میں اسرائیل کا جواب شامل نہیں ہے۔

انادولو نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے 74,000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 175,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق غزہ کے شہری بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 90 فیصد تباہ ہو چکا ہے۔ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں ان اعداد و شمار کا ماخذ نہیں بتایا۔

انادولو نے جنگ کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے اس توصیف کو قبول نہیں کیا، اور یہ رپورٹ اسے اختیار نہیں کرتی۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 18 اکتوبر، 2026غزہ سٹی میں ملبے سے نکالی گئی 75 لاشوں کی تدفین
  2. 18 اکتوبر، 2026غزہ میں اسرائیلی فائر سے 24 گھنٹوں کے اندر تین طلبا ہلاک، وزارت تعلیم کا دعویٰ
  3. 18 اکتوبر، 2026غزہ میں محاصرے کے دوران پانی کی قلت بڑھ گئی، تجارتی اشیا پر پابندیوں کا پانچواں دن
  4. 18 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے نمائندے کا اسرائیل سے غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو اجازت دینے کا مطالبہ

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج