سعودی عرب نے حملوں کے جاری رہنے کے دوران 'صحرا میں ڈیووس' کانفرنس مؤخر کر دی
مستقبل سرمایہ کاری اقدام، جو اگلے ہفتے ریاض میں ہونا تھا، 2027 تک مؤخر کر دیا گیا ہے، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق۔ یمن سے حوثیوں کے حملے جاری رہنے کے باعث سرکاری عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ریاض — سعودی عرب نے اپنی مستقبل سرمایہ کاری اقدام (FII) کانفرنس اگلے سال تک مؤخر کر دی ہے، جب کہ یمن سے مملکت پر حوثیوں کے حملے جاری ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، جس نے اس تقریب کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان کا حوالہ دیا، یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ تقریب، جسے غیر رسمی طور پر "صحرا میں ڈیووس" کہا جاتا ہے، 26 اکتوبر سے 29 اکتوبر تک منعقد ہونا تھی۔ الجزیرہ کے مطابق یہ بیان منگل کے روز جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نئی تاریخ "very soon" یعنی بہت جلد کا اعلان کی جائے گی۔
FII انسٹیٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر مہا بنت مشاری آل سعود نے کہا کہ یہ فیصلہ "ہمارے شراکت داروں، اراکین، مقررین اور مندوبین سے گہری وابستگی" کا نتیجہ ہے، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے اسی رپورٹ کے مطابق کہا: "چونکہ یہ ہمارا تاریخی دسواں ایڈیشن ہے، ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ وہ مکمل پیمانہ، غیر معمولی معیار اور ناقابل فراموش اثر فراہم کرے جس کی ہماری برادری توقع کرتی آئی ہے اور جس کی وہ واقعی مستحق ہے۔"
رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ تاخیر کی بیان کردہ وجہ یہ حملے تھے۔ رپورٹ نے اپنی سرخی اور متن میں ان دونوں پیش رفتوں کو آپس میں جوڑا ہے۔
ریاض میں گھر سے کام
الجزیرہ نے خبر رساں ادارے AFP کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ریاض میں سرکاری ادارے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق AFP نے ایک کارکن اور دو مشیروں سے بات کی۔ شہر کو حوثیوں کے بار بار حملوں کی زد میں بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری ادارے کے ملازم کو اتوار کے روز ایک پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ "اس ہفتے پیر سے جمعرات تک" دفتری کام گھر سے کیا جائے گا۔ پیغام میں سب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ "اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھیں"۔
الجزیرہ کے مطابق ریاض کے وسط میں واقع 99 منزلہ ٹاور "کنگڈم سینٹر" نے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ تاحکم ثانی وہاں نہ آئیں۔ اس عمارت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا علاقائی دفتر قائم ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دیگر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے، کنگ عبداللہ فінانشل ڈسٹرکٹ کی کمپنیوں نے بھی عملے سے گھر سے کام کرنے کو کہا ہے، جہاں بڑی امریکی فرموں کے دفاتر واقع ہیں۔
یمن میں کیا ہو رہا ہے؟
الجزیرہ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں سعودی قیادت والے اتحاد اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان جھڑپیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ اتحاد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ حوثیوں کو انصار اللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب بھر میں فوجی، توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ الجزیرہ نے اس جانی نقصان کی کوئی تاریخ نہیں بتائی اور نہ ہی اس کا کوئی مخصوص ذریعہ بیان کیا۔
پس منظر
الجزیرہ نے FII کو ایک ایسی ریاستی حمایت یافتہ کانفرنس قرار دیا ہے جو مملکت کے سرمایہ کاری منصوبوں کو پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد وہ اربوں ڈالر اکٹھا کرنا ہے جو سعودی عرب کی ہائیڈرocarbons سے سیاحت، کھیل اور ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی کے لیے درکار ہیں۔ اس نام کا تعلق سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس سے ہے۔
الجزیرہ کے حوالے سے FII کی ویب سائٹ کے مطابق متوقع مقررین میں Alphabet اور Google کی صدر اور چیف انویسٹمنٹ آفیسر رتھ پوریٹ، Goldman Sachs Group کے چیئرمین اور CEO ڈیوڈ سولومن، اور BlackRock کے چیئرمین اور CEO لارنس فنک شامل تھے۔
الجزیرہ کے حوالے سے FII انسٹیٹیوٹ کے بیان کے مطابق یہ کانفرنس کا دسواں ایڈیشن ہے۔ مذکورہ بالا تفصیلات کا واحد ذریعہ یہ رپورٹ ہے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹنگ کا سہرا AFP اور Reuters کو دیا ہے۔
خبر کیسے آگے بڑھی
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟