حوثیوں نے عام معافی کے تحت 159 حراست میں لیے گئے افراد رہا کر دیے، ICRC کا دعویٰ
ریڈ کراس کے مطابق حوثی حکام نے یمن میں جاری لڑائی کے سلسلے میں زیرِ حراست 159 افراد رہا کیے ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ایک حوثی عہدیدار نے کہا ہے کہ عام معافی کے تحت اب تک 323 قیدی رہا ہو چکے ہیں۔

یمن — بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (ICRC) نے کہا ہے کہ حوثی حکام نے یمن میں ہونے والی لڑائی کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے 159 افراد رہا کر دیے ہیں۔ یہ بات مڈل ایسٹ آئی کی 18 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
مڈل ایسٹ آئی نے بتایا کہ ICRC نے یہ اعلان ایک بیان میں کیا۔ تنظیم کے مطابق اس کے نمائندوں نے رہائی سے پہلے ہر قیدی کا روانگی سے قبل انٹرویو کیا۔ انہوں نے قیدیوں کے اہلِ خانہ کو بھی بتایا کہ رہائی ہونے والی ہے، رپورٹ کے مطابق۔
مڈل ایسٹ آئی نے مزید بتایا کہ ICRC نے رہا ہونے والے افراد کی "باعزت" واپسی کے لیے مدد کی پیشکش بھی کی۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مدد کس شکل میں دی گئی۔
عام معافی کے بارے میں حوثی مؤقف
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق حوثی عہدیدار عبدالقادر المرتضیٰ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ قیدیوں کو عام معافی کے تحت رہا کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام معافی کے تحت مجموعی طور پر 323 قیدی رہا کیے جا چکے ہیں، اس ادارے کے مطابق۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 159 افراد اس 323 کی تعداد میں شامل ہیں یا ان کے علاوہ رہا کیے گئے۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلے کی رہائیاں کس مدت کے دوران ہوئیں۔
کیا معلوم نہیں
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ، جیسی کہ فراہم کی گئی، مختصر ہے اور دو ذرائع پر مبنی ہے: ICRC کا بیان اور المرتضیٰ کے نامہ نگاروں سے کہے گئے الفاظ۔ اس میں دیگر تنظیموں یا حکام کی طرف سے اعداد و شمار کی کوئی آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قیدی کہاں زیرِ حراست تھے، کہاں رہا ہوئے یا انہیں کیسے منتقل کیا گیا۔ اس میں ان کی قومیت، عمر یا اگر کوئی الزام تھا تو وہ بھی درج نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ رہا ہونے والوں میں جنگجو، شہری یا کسی اور گروہ کے افراد شامل تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ عام معافی کا تعلق تنازع کے دیگر فریقوں کے ساتھ کسی مذاکرات یا معاہدے سے ہے یا نہیں۔ اس میں ICRC کے علاوہ یمنی حکومت، دیگر مسلح گروہوں یا بین الاقوامی اداروں کا کوئی ردِعمل بھی شامل نہیں۔
پس منظر
مڈل ایسٹ آئی کے ذریعے سامنے آنے والے ICRC کے بیان میں قیدیوں کو یمن میں "جاری لڑائی" کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے افراد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تنازع یا حراست اور رہائی کی تاریخ کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ICRC کا کردار رہائی سے پہلے قیدیوں کے انٹرویو کرنا، ان کے اہلِ خانہ کو مطلع کرنا اور واپسی میں مدد کی پیشکش کرنا تھا۔ ماخذ یہ نہیں بتاتا کہ آیا ICRC نے رہائی کے لیے مذاکرات میں حصہ لیا یا قیدیوں کی منتقلی میں شرکت کی۔
زینگا نیوز نے مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار یا بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔ 159 اور 323 کے اعداد و شمار ایک دوسرے سے کیسے جڑے ہیں اور عام معافی پر عمل درآمد کیسے ہو رہا ہے، یہ واضح کرنے کے لیے ICRC یا حوثی حکام سے مزید تفصیلات درکار ہوں گی۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026Eight Yemeni soldiers killed in Lahj fighting with Houthis, army says
- 18 اکتوبر، 2026حوثیوں نے عام معافی کے تحت 159 حراست میں لیے گئے افراد رہا کر دیے، ICRC کا دعویٰ
- 18 اکتوبر، 2026یمنی وزیر خارجہ نے ایرانی ثالثی کی پیشکش مسترد کر دی
- 18 اکتوبر، 2026یمن میں تعز اور لحج میں جھڑپوں کی اطلاعات، سرکاری افواج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صنمات دوبارہ حاصل کر لیا
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟