جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ایران نے خلیجی ریاستوں پر 7,000 سے زائد ڈرونز اور میزائل داغے
خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ایران نے خلیجی ریاستوں میں شہری مقامات کو 7,000 سے زائد ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، الجزیرہ مباشر کی ایک بریکنگ نیوز پوسٹ کے مطابق۔

خلیج — خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ایران نے خلیجی ریاستوں میں شہری مقامات کو 7,000 سے زائد ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، الجزیرہ مباشر کی جانب سے 18 اکتوبر 2026 کو شائع کی گئی ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق۔
یہ پوسٹ اس رپورٹ کا واحد ماخذ ہے۔ اس پر "بریکنگ" کا لیبل لگا تھا اور دعویٰ ایک ہی سرخی کی سطر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس میں نہ مکمل بیان تھا، نہ بیان کی تحریری نقل اور نہ ہی ویڈیو۔
پوسٹ میں کیا کہا گیا ہے
10:10 GMT پر شائع ہونے والی پوسٹ میں چینل نے کہا کہ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے ایران پر خلیجی ریاستوں میں ان اہداف کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا جنہیں عربی میں شہری اشیا کہا گیا۔ چینل نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی تعداد "7,000 سے زائد" بتائی اور یہ عدد سیکرٹری جنرل سے منسوب کیا۔
پوسٹ واضح نہیں کرتی کہ یہ تعداد ڈرونز اور میزائلوں کا مجموعہ ہے یا انہیں الگ الگ شمار کیا گیا ہے۔ اس میں ہتھیاروں کی اقسام کے لحاظ سے تفصیل بھی نہیں دی گئی۔
کیا تصدیق شدہ نہیں ہے
پوسٹ سیکرٹری جنرل کا نام نہیں بتاتی۔ یہ بھی نہیں بتاتی کہ یہ بیان کہاں اور کس موقع پر دیا گیا۔ نہ ہی یہ واضح کرتی ہے کہ یہ تقریر تھی، پریس کانفرنس تھی یا تحریری بیان۔
اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ:
- حملے کس مدت کے دوران ہوئے؛
- کون سی خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا گیا، یا ہر ریاست پر کتنی بار حملہ ہوا؛
- کتنے ڈرونز اور میزائل روکے گئے؛
- جانی یا مالی نقصان ہوا یا نہیں، اور متاثرہ مقامات کی نوعیت کیا تھی۔
الجزیرہ مباشر کی پوسٹ میں ایران کا کوئی ردعمل شامل نہیں۔ زنگا نیوز نے نہ تو اس تعداد اور نہ ہی شہری مقامات کو نشانہ بنانے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق کی ہے۔ یہ عدد چینل کے ذریعے آگے بڑھایا گیا جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کا دعویٰ ہے۔ پوسٹ میں کسی دوسرے ادارے، حکومت یا سرکاری بیان کا حوالہ نہیں دیا گیا جو اس کی تصدیق کرے۔
چونکہ یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر شائع ہوئی اور غیر تصدیق شدہ ہے، اس لیے جب تک مکمل بیان یا دوسرا آزاد ذریعہ اس کی تصدیق نہیں کرتا، اس دعوے کو جی سی سی کے عہدیدار سے منسوب ایک الزام ہی سمجھا جانا چاہیے۔
پس منظر
جی سی سی خلیجی ریاستوں کا علاقائی بلاک ہے، اور اس کا سیکرٹری جنرل تنظیم کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس رپورٹ کے لیے فراہم کردہ مواد میں مزید پس منظر شامل نہیں۔ اس میں ان واقعات کا ذکر نہیں جو ان مبینہ حملوں کے پیچھے تھے، نہ ایران اور جی سی سی کے رکن ممالک کے موجودہ تعلقات کی صورت حال، اور نہ ہی اس معاملے پر بلاک کے پہلے کے بیانات۔
اگر سیکرٹری جنرل کا مکمل بیان یا ایرانی حکام کا ردعمل دستیاب ہوا تو زنگا نیوز اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟