Skip to content
Zenga News

ایرانی فوج کے سربراہ کی کسی بھی غلط اندازے پر سخت ردعمل کی تنبیہ

میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو تباہی کا سامنا ہے اور کسی نئے غلط اندازے پर مزید سخت ردعمل آئے گا، لبنان کے المنار کے مطابق۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: North of Tehran Skyline view, Tehran , Iran
File photo: North of Tehran Skyline view, Tehran , Iran تصویر: Ninara from Helsinki, Finland / Wikimedia Commons · CC BY-SA 3.0

مشرق وسطیٰ — ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئے غلط اندازے پر سخت ترین ردعمل دیا جائے گا، یہ بات لبنان کے الاманار کی 19 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کہی گئی۔

یہ رپورٹ اس خبر کا واحد ذریعہ ہے۔ زنگا نیوز نے ان بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، اور ذریعہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ بیانات کب یا کہاں دیے گئے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

عبداللہی نے کیا کہا

الاманار کے مطابق عبداللہی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل "ان نعروں پر عمل نہیں کر سکتے جو وہ بلند کرتے ہیں۔" ان کے مطابق دونوں ممالک اب "تباہی اور زوال کے خطرے" سے دوچار ہیں، یہ الفاظ آؤٹلیٹ کی اپنی تعبیر کے مطابق ان کے بیان سے منسوب ہیں۔

الاманار نے ان کے حوالے سے یہ بھی نقل کیا کہ امریکی صدر "بوڑھے ہو چکے ہیں اور اب اپنی جگہ سے اٹھ نہیں سکتے۔" رپورٹ میں صدر کا نام نہیں لیا گیا اور اس بیان کا کوئی سیاق و سباق نہیں دیا گیا۔

اس کے بعد جنرل نے ایک تنبیہ جاری کی۔ عبداللہی نے کہا، "حسابات میں کوئی بھی نئی غلطی مختلف اور پہلے سے کہیں زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرے گی،" الاманار کے مطابق۔

انہوں نے ایک اور بات بھی کہی جسے انہوں نے ایک قریب آتے واقعے سے تعبیر کیا۔ الاманار نے ان کا یہ قول نقل کیا:

"اگلے دھماکے کی آواز اب کہیں زیادہ قریب ہے، اور وہ زیادہ تباہ کن اور ناقابلِ سراغ ہوگا۔" — میجر جنرل علی عبداللہی، چیف آف اسٹاف، ایران کی مسلح افواج، جیسا کہ الاманار نے نقل کیا

کیا واضح نہیں ہے

الاманار کی رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ "اگلے دھماکے" سے کیا مراد ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ان کی مراد کوئی فوجی کارروائی تھی، کوئی مخصوص واقعہ، یا محض ایک استعارہ۔

رپورٹ یہ بھی نہیں بتاتی کہ عبداللہی کے ذہن میں کون سے پچھلے واقعات تھے جب انہوں نے ردعمل کو "پہلے" سے سخت قرار دیا۔ رپورٹ نہ کسی حالیہ واقعے کا ذکر کرتی ہے، نہ کسی امریکی یا اسرائیلی اقدام کا جس نے ان کے بیانات کو جنم دیا، اور نہ ہی یہ بتاتی ہے کہ ردعمل کس شکل میں ہو سکتا ہے۔

آؤٹلیٹ نے امریکہ یا اسرائیل کا کوئی ردعمل شائع نہیں کیا۔ اس میں ایران کے دیگر حکام کا بھی کوئی تبصرہ شامل نہیں۔ اس لیے اس ذریعے سے ان حکومتوں کا موقف معلوم نہیں ہو سکتا۔

رپورٹ مختصر ہے اور بیانات کے پس منظر کی تفصیل نہیں دیتی۔ یہ نہیں بتاتی کہ یہ بیانات تقریر، انٹرویو یا تحریری بیان میں دیے گئے، اور نہ ہی کسی مقام یا سامعین کا ذکر کرتی ہے۔

پس منظر

فراہم کردہ مواد میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کا کوئی پس منظر شامل نہیں، اور یہ رپورٹ کسی بیرونی دعوے کا اضافہ نہیں کرتی۔ الاманار نے عبداللہی کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف اور میجر جنرل کے عہدے کا حامل بتایا ہے۔

یہ بیانات الاманار کی رپورٹ کے مطابق ان سے منسوب ہیں۔ یہ امریکہ اور اسرائیل سے متعلق ان کی اپنی تعبیرات ہیں، اور دیگر ذرائع یا حکام نے ان کی تصدیق نہیں کی۔

اگر مزید رپورٹنگ سے بیانات کا سیاق و سباق واضح ہوا یا نامزد حکومتوں نے ردعمل دیا تو زنگا نیوز اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج