Skip to content
Zenga News

امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابلِ تصدیق عہد چاہتا ہے، وانس

نائب صدر جے ڈی وانس نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران سے طویل المدتی اور قابلِ تصدیق وعدہ چاہتا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام دوبارہ تعمیر نہیں کرے گا، یہ بات مڈل ایسٹ آئی کی سی بی ایس نیوز کے ٹاؤن ہال کی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Official Portrait of JD Vance in January 2025.
File photo: Official Portrait of JD Vance in January 2025. تصویر: Daniel Torok / Wikimedia Commons · Public domain

واشنگٹن — امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران سے "طویل المدتی" اور "قابلِ تصدیق عہد" چاہتا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام دوبارہ تعمیر نہیں کرے گا۔ یہ بات مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے، جس نے ان کے بیانات 18 اکتوبر 2026 کو سی بی ایس نیوز کے ٹاؤن ہال سے رپورٹ کیے۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق وانس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں "کئی لحاظ سے فیصلہ کن کامیابی" حاصل کر چکا ہے اور اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ نائب صدر کے دعوے ہیں۔ رپورٹ میں ان میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔

آنے والے برسوں پر توجہ

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق وانس نے کہا کہ انتظامیہ کی ترجیح یہ ہے کہ ایران کو مستقبل میں اپنی جوہری صلاحیت دوبارہ تعمیر کرنے سے روکا جائے۔ انھوں نے اس تشویش کو موجودہ صدارت سے آگے کی بات قرار دیا۔

آؤٹلیٹ کے مطابق وانس نے کہا: "ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی بات نہیں… بلکہ پانچ سال بعد کیا ایرانی اس جوہری اسلحے کو دوبارہ بنا سکتے ہیں؟ کیا وہ اس افزودگی کی صلاحیت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟"

مڈل ایسٹ آئی نے یہ نہیں بتایا کہ قابلِ تصدیق عہد کی شکل کیا ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس موضوع پر ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے یا نہیں۔

ایندھن کی قیمتیں

آؤٹلیٹ کے مطابق وانس نے تسلیم کیا کہ "اس وقت گیس کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں"۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ "ختم" ہونے کے بعد قیمتیں کم ہوں گی، مڈل ایسٹ آئی کے مطابق۔

آؤٹلیٹ کی رپورٹ کے مطابق وانس نے اس اضافے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا۔ انھوں نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور ٹینکروں پر حملوں کی طرف اشارہ کیا۔ مڈل ایسٹ آئی نے ان کا قول نقل کیا: "ہمیں کبھی ایسی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہوا۔" انھوں نے ایسی صورتِ حال بیان کی جس میں ایک ملک "دنیا کی توانائی کی رسد کو مکمل طور پر بند کرنے" کی کوشش کر رہا ہے۔

وانس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی ترسیل جاری نہ رکھتی تو پیٹرول کی قیمتیں "تین گنا زیادہ" ہوتیں، مڈل ایسٹ آئی کے مطابق۔ رپورٹ میں موجودہ قیمتوں کے اعداد و شمار یا اس موازنے کی تائید میں کوئی ڈیٹا نہیں دیا گیا۔

کیا تصدیق شدہ نہیں

اس رپورٹ کے تمام بیانات ایک ہی ذریعے سے آئے ہیں، یعنی سی بی ایس نیوز کے ٹاؤن ہال کے بارے میں مڈل ایسٹ آئی کا خلاصہ۔ زنگا نیوز نے نائب صدر کے بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ دستیاب مواد میں درج ذیل نکات بھی غیر مصدقہ ہیں:

  • وانس کا یہ دعویٰ کہ امریکہ نے جنگ میں "فیصلہ کن کامیابی" حاصل کی اور ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا۔
  • ان کا یہ بیان کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی اور ٹینکروں پر حملے کیے۔
  • پیٹرول کی قیمتوں پر امریکی بحریہ کی کارروائیوں کے اثر کے بارے میں ان کا تخمینہ۔
  • ایرانی حکام کا کوئی ردِعمل۔ مڈل ایسٹ آئی نے اپنی رپورٹ میں اسے شامل نہیں کیا۔

پس منظر

مڈل ایسٹ آئی نے اس تنازعے کو امریکہ-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ آؤٹلیٹ کی رپورٹ کے مطابق وانس کے تبصروں کے مطابق جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ انھوں نے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کو اس کے خاتمے سے جوڑا۔

نائب صدر کے بیانات دو معاملات کو جوڑتے ہیں: ایران کی جوہری صلاحیت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی رسد۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ انتظامیہ کو اس طرح پیش کرتی ہے کہ وہ تیل اور گیس کی ترسیل بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر پائیدار حد کو ایک مرکزی ہدف کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج