ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کو خبردار، جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے
دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ جنگ دوبارہ شروع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، تاہم تہران کے لیے ان کے عوامی انتباہات نئی لڑائی کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں، جیسا کہ JTA کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات چند ہفتوں کے فاصلے پر ہیں۔

یروشلم — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایران کو عوامی طور پر خبردار کیا ہے، جبکہ وہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ کو دوبارہ شروع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ بات JTA کی 19 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز نیتن یاہو کو دوبارہ وزیرِاعظم بنانے کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی مہم کے لیے نیتن یاہو کی قیادت نہایت اہم ہے، JTA نے رپورٹ کیا۔
چینل 14 سمیت کئی انٹرویوز میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل پر کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
"اگر ایران غلطی کرتا ہے اور ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرے گا۔" — بنیامن نیتن یاہو، اسرائیلی وزیرِاعظم
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات سے چند ہفتے پہلے جنگ کی واپسی "موزوں نہیں" ہے۔ JTA کے مطابق اسرائیل میں غیر حاضر ووٹنگ کی سہولت نہیں ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں صحافیوں سے کہا: "دیکھتے رہیے کہ ہم ایران کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔" یہ بات اسی رپورٹ کے مطابق ہے۔
پیر کے روز ٹیلیگرام پر الجزیرہ عربی اور الجزیرہ مباشر کی پوسٹس میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے امریکی فوج کی طاقت پر شک کرنے والوں سے کہا کہ "وینزویلا یا ایران سے پوچھ لو"۔ یہ پوسٹس غیر تصدیق شدہ ہیں، اور ماخذ مواد یہ نہیں بتاتا کہ ٹرمپ نے یہ بات کہاں اور کب کہی۔
فوجی اور معاشی دباؤ
JTA نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز جلد مشرق وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس نے اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ واشنگٹن ممکنہ طور پر دوبارہ کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے ہیں۔
JTA کے مطابق یہ جنگ، جو 28 فروری کے حملوں سے شروع ہوئی اور تقریباً دو ماہ جاری رہی، اپریل میں روک دی گئی تھی۔ JTA نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل ڈالنا جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے دنیا کے تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ تہران پر معاشی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری کے حملوں کے بعد سے تیل کی قیمتیں 46 فیصد بڑھ کر 104 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہیں۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں 46 فیصد بڑھ کر 4.36 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہیں۔ JTA کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے حملہ کرنے کا مزید محرک بن سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے
ڈینی سٹرینوِچز، انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے سینئر محقق اور اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے تحقیقی شعبے میں ایران برانچ کے سابق سربراہ، نے JTA سے کہا: "سفارتی تصفیے کے بغیر، کشیدگی بڑھنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ "اب فتح کا اعلان نہیں کر سکتے، مگر وہ کچھ کیے بغیر بھی نہیں جا سکتے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران مسلسل بحری ناکہ بندی کو قبول نہیں کر سکتا اور وہ ٹینکرز پر حملے جاری رکھے گا۔
اسرائیل کے سابق اعلیٰ سکیورٹی اہلکار آونر ویلان نے کہا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملہ نہیں کریں گے، اور ان کے پاس انتظار کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "صرف ایک بڑا واقعہ ہی حالات کو قابو سے باہر کرنے کے لیے کافی ہوگا۔"
اسرائیلی تھنک ٹینک میتvim کے سربراہ گل مورسیانو نے کہا کہ امریکہ میں جنگ کی غیر مقبولیت کے باعث وسط مدتی انتخابات سے پہلے امریکہ کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کا امکان کم ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے میں پایا گیا کہ 64 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی سے متعلق ٹرمپ کے طرزِ عمل کو ناپسند کیا، جیسا کہ JTA نے بتایا ہے۔
پس منظر
JTA کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کوئی سفارتی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ دونوں فریق، تہران اور واشنگٹن، کہتے ہیں کہ انہوں نے پہلی جنگ جیتی۔ JTA کے مطابق ایران کی حکومت برسرِاقتدار ہے، اپنی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیت دوبارہ تعمیر کر سکتی ہے، اور اب بھی آبنائے ہرمز پر کچھ کنٹرول رکھتی ہے۔
انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے گزشتہ ماہ کے ایک سروے میں پایا گیا کہ اسرائیلی عوام اس بارے میں تقسیم ہیں کہ ایران پر پیشگی حملہ کیا جائے یا نہیں۔ مخالفین کی تعداد حامیوں سے تھوڑی زیادہ تھی۔
JTA نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ذکر ہے۔ JTA کی رپورٹ کا دستیاب متن اس مقام پر ختم ہو جاتا ہے، اور ان تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Al Jazeera Mubasher (Telegram)ar · 20 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 20 اکتوبر، 2026
- jpost.comen · 19 اکتوبر، 2026
- siap.viva.co.idid · 20 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Mubasher (Telegram)ar · 20 اکتوبر، 2026
- ynetnews.comen · 20 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟