Skip to content
Zenga News

نیتن یاہو کہتے ہیں کہ ایران کی حکومت قائم رہتے ہوئے جوہری مقامات پر حملہ ناکافی ہے

اسرائیلی وزیراعظم نے چینل 7 کو بتایا کہ جب تک ایرانی حکومت برقرار ہے، اس کے جوہری تنصیبات پر حملہ کافی نہیں ہوگا، الجزیرہ عربی نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ حملے کے لیے ٹرمپ کی منظوری نہیں لیں گے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 5 منٹ مطالعہ
File photo: Prime Minister Benjamin Netanyahu of Israel concludes his third address before a joint meeting of Congress and reaffirms the strong bonds between Israel and the United States. March 3, 2015. (Official Photo by Caleb Smith) -- This officia
File photo: Prime Minister Benjamin Netanyahu of Israel concludes his third address before a joint meeting of Congress and reaffirms the strong bonds between Israel and the United States. March 3, 2015. (Official Photo by Caleb Smith) -- This officia تصویر: Speaker of the house Boehner / Wikimedia Commons · Public domain

یروشلم — اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اسرائیلی چینل 7 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب تک ایرانی حکومت برسراقتدار ہے، ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کافی نہیں ہے، الجزیرہ عربی کے مطابق۔

الجزیرہ عربی نے یہ بیان 22 اکتوبر کو اپنے ٹیلیگرام چینل پر ایک بریکنگ نیوز پوسٹ میں شائع کیا۔ پوسٹ میں صرف ایک سطر کا خلاصہ دیا گیا تھا۔ اس میں مکمل انٹرویو، اس کی ریکارڈنگ کی تاریخ یا کوئی مزید اقتباس شامل نہیں تھا۔ زینگا نیوز نے اس انٹرویو کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

ڈیمونا کی ریلی میں بیانات

ٹیلیگرام پوسٹ کا تعلق نیتن یاہو کے ان بیانات سے بنتا ہے جو انہوں نے جنوبی شہر ڈیمونا میں ایک انتخابی ریلی میں دیے، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کے ارادوں سے آگاہ کریں گے، مگر ایران پر حملے کی اجازت نہیں مانگیں گے۔

عرب نیوز کے مطابق نیتن یاہو نے کہا: "میں ٹرمپ کو بتاؤں گا کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں ان سے ایران پر حملے کے لیے سبز جھنڈی نہیں مانگوں گا۔"

اس کے بعد انہوں نے اسرائیلی سلامتی کے اداروں کو دی گئی ایک مستقل ہدایت بیان کی۔

"میں نے ایک ہدایت جاری کی ہے کہ واحد قابلِ قبول حل ایران میں حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔" — بنیامن نیتن یاہو، اسرائیلی وزیراعظم، عرب نیوز کے حوالے سے

ریلی میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران اسرائیل کو تباہ کرنا اور جوہری بم بنانا چاہتا تھا، اور اسرائیل نے دونوں کو روکا۔ "اس کے باوجود وہ باز نہیں آ رہے،" انہوں نے کہا۔ "اس لیے اسے ختم کرنے کا ایک ہی راستہ ہے: اس حکومت کا تختہ الٹنا۔"

عرب نیوز کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ یہ ہدایت انہوں نے اسرائیلی دفاعی افواج، موساد اور اسرائیل کی تمام سلامتی شاخوں کو دی ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس پر عمل کب یا کیسے ہوگا۔

عرب نیوز نے ڈیمونا کے بیانات کا دن جمعرات بتایا، جبکہ اس کی رپورٹ بدھ کی شام شائع ہوئی۔ زینگا نیوز دستیاب مواد سے اس فرق کو حل نہیں کر سکا۔ ذرائع سے یہ بھی واضح نہیں کہ ڈیمونا کے بیانات اور چینل 7 کا انٹرویو الگ الگ مواقع تھے یا نہیں۔

حملے میں تاخیر کی رپورٹ

عرب نیوز نے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جو بدھ کو شائع ہوئی اور گمنام ذرائع پر مبنی تھی، اور اسرائیل کی پہلے کی منصوبہ بندی سے متعلق ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق نیتن یاہو نے اس ماہ کے آغاز میں ایران پر حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے لڑائی دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی۔

فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج 10 اکتوبر کے ہفتہ کے آخر میں کارروائی کے لیے تیار تھی۔ اس کے مطابق اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، حکومت سے منسلک مقامات اور توانائی کے پلانٹس جیسا شہری بنیادی ڈھانچہ شامل ہوتا۔ ذرائع کے مواد میں نہ اسرائیلی حکومت اور نہ امریکی حکومت کا وہ مؤقف شامل ہے جو اس موقف کی تصدیق یا تردید کرے۔ فنانشل ٹائمز کے ذرائع کی شناخت معلوم نہیں ہے۔

ایرانی سرحد کے قریب فوجی پروازیں

عرب نیوز نے پیر کی ایک اسرائیلی فوجی پرواز کے بارے میں ایکسیوس کا بھی حوالہ دیا۔ ایکسیوس نے اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ درجنوں اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیارے ایرانی سرحد تک گئے۔

ایکسیوس کے مطابق یہ پرواز اسرائیلی انتخابات سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ہوئی۔ یہ اس دن ہوئی جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے نیتن یاہو سے ملاقات کی۔

عرب نیوز کے مطابق کچھ اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں نے ایکسیوس کو بتایا کہ یہ پرواز غیر معمولی نہیں تھی اور اس کا مقصد ایران کو روکنا تھا۔ ایکسیوس کے مطابق اس سے غلط اندازے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا تھا، جو ایرانی ردعمل کو بھڑکا سکتا اور جنگ دوبارہ شروع کر سکتا تھا۔

ایکسیوس کے ذرائع کے مطابق اسرائیل نے پہلے ہی امریکہ کو اطلاع دے دی تھی۔ ان کے مطابق اسرائیل نے اس کارروائی کو "پاور پروجیکشن" کے لیے ایک تربیتی مشق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد انتخابات سے پہلے ایران کو اسرائیل پر حملے سے باز رکھنا تھا۔

حزبِ اختلاف کی تنقید

یائر لاپڈ، جو سابق وزیراعظم اور اسرائیلی پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے معتدل رہنما ہیں، نے بدھ کو نیتن یاہو کے بیانات پر تنقید کی، عرب نیوز کے مطابق، جس نے اے ایف پی کا حوالہ دیا۔ لاپڈ اگلے منگل کو ہونے والے انتخابات میں امیدوار ہیں۔

لاپڈ نے کہا: "میں نیتن یاہو کو لاپرواہی سے سلامتی کے خطرات کا شور مچاتے سن کر حیران رہ گیا ہوں۔" انہوں نے مزید کہا: "نیتن یاہو اسرائیل کی سلامتی کو انتخابی تماشے میں بدل رہے ہیں۔" ان کے مطابق نیتن یاہو "اسرائیل کی تاریخ میں سلامتی کی ناکامیوں کے سب سے طویل سلسلے" کے ذمہ دار ہیں۔

لاپڈ نے الزام لگایا کہ وزیراعظم انتخابات سے پہلے ملک کی سلامتی کو خطرناک حد تک سیاسی بنا رہے ہیں۔ اس الزام پر نیتن یاہو کا ردعمل ذرائع کے مواد میں شامل نہیں ہے۔

پس منظر

عرب نیوز کے مطابق حالیہ انتخابی جائزوں میں نیتن یاہو کا مقابلہ ایک حزبِ اختلاف کے اتحاد سے ہے جس میں لاپڈ شامل ہیں۔ یہ اتحاد سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں ہے۔

حزبِ اختلاف نے نیتن یاہو کی جانب سے سات اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر توجہ دلائی ہے، جسے عرب نیوز نے اسرائیل کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا۔

ذرائع کے مواد میں اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے ہونے والی لڑائی کا ذکر ہے، اور کہا گیا ہے کہ منصوبہ بند حملے اسے دوبارہ شروع کر دیتے۔ اس لڑائی کب ہوئی یا کیسے ختم ہوئی، اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ کیا اسرائیل نے کسی حملے کی تاریخ طے کی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بعد امریکہ نے اپنا مؤقف بدلا ہے یا نہیں۔ زیرِ جائزہ مواد میں نہ ایرانی حکومت اور نہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف شامل ہے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج