Skip to content
Zenga News

مختلف مذاہب کے رہنما پولنگ کے دن ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کے خلاف متحد

رضاکاروں کی ایک ٹیم، جس میں علمائے دین اور عام امن کار شامل ہیں، تین نومبر کو امریکا کی نو اہم ریاستوں میں پولنگ مراکز کے باہر کھڑی ہوگی، ایک اتحاد نے بتایا۔

Onur Irmako
Zenga News یورپ اور امریکہ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 4 منٹ مطالعہ
File photo: Plaquemines Parish, Louisiana - Braithwaite Polling Place Sign
File photo: Plaquemines Parish, Louisiana - Braithwaite Polling Place Sign تصویر: Infrogmation of New Orleans / Wikimedia Commons · CC BY 2.0

واشنگٹن — بین المذاہب اور غیر مذہبی گروہوں پر مشتمل ایک غیر جانبدار اتحاد سینکڑوں علمائے دین اور عام امن کاروں کو تین نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے نو اہم ریاستوں میں پولنگ چیپلن کے طور پر کام کرنے کی تربیت دے رہا ہے، 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق۔

یہ رضاکار ایریزونا، مشی گن، جارجیا، اوہائیو، پنسلوانیا، شمالی کیرولائنا، وسکانسن، ورجینیا اور ٹیکساس میں تعینات ہوں گے، جہاں کانٹے دار مقابلوں کی وجہ سے سیاسی کشیدگی بڑھنے کی توقع ہے۔ وہ شناختی ٹوپیاں اور جیکٹیں پہنیں گے اور پولنگ مراکز کے باہر موجود رہیں گے۔ شریک بانی باربرا ولیمز-اسکنر کے مطابق، ان کا بیان کردہ مقصد ایک پرسکون اور اطمینان دلانے والی موجودگی فراہم کرنا ہے تاکہ ووٹر خوف یا ہچکچاہٹ کے بغیر ووٹ ڈال سکیں۔ یہ بات انہوں نے بینگور ڈیلی نیوز کے حوالے سے کہی۔

"فیتھس یونائیٹڈ اِن سیونگ ڈیموکریسی" نامی یہ گروہ اکتوبر کے آخر تک رضاکاروں کو آن لائن اور ذاتی طور پر تربیت دے رہا ہے۔ تربیت میں کشیدگی کم کرنے کے طریقے، مقامی قوانین اور وسائل، اور مہاجرین کے حقوق شامل ہیں۔ ولیمز-اسکنر نے بتایا کہ شرکاء کو تناؤ بھرے حالات میں رابطے کے لیے فون نمبر بھی دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 19 اکتوبر تک اتحاد 1,235 پولنگ چیپلن اور امن کاروں کو بھرتی کر چکا تھا۔

ولیمز-اسکنر نے کہا کہ یہ اقدام غیر جانبدار ہے۔ ان کے مطابق شرکت کرنے والے زیادہ تر گروہ اعتدال پسند یا ترقی پسند ہیں، تاہم اتحاد شرکاء کی سیاسی وابستگی کی جانچ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا، "ہم اس بات پر نہیں اٹکتے کہ کون اعتدال پسند ہے اور کون قدامت پسند۔ لوگوں کو بس بغیر خوف کے ووٹ ڈالنے کے قابل ہونا چاہیے۔"

کچھ رضاکار پہلے ہی تیاری کر رہے ہیں۔ چھ اکتوبر 2026 کو ایریزونا فیتھ نیٹ ورک نے مध्य انتخابات سے قبل، ایریزونا کے شہر اسکاٹس ڈیل میں ٹیمپل چائی میں پولنگ چیپلن اور امن کاروں کے لیے تربیتی نشست منعقد کی۔ اس نشست کی تصاویر میں رضاکار تربیتی مواد اور ٹی شرٹس وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ولیمز-اسکنر نے کہا کہ اتحاد کو پولنگ مراکز کے قریب وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی موجودگی پر تشویش ہے۔ ان کے مطابق یہ خوف حقیقی ہے اور مخلوط امیگریشن حیثیت والے خاندانوں اور رنگدار کمیونٹیز کے اہل ووٹروں کو روک سکتا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام مسلسل کہتے رہے ہیں کہ پولنگ مراکز میں امیگریشن اہلکار بھیجنے کا ان کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ڈی ایچ ایس کے سیکرٹری مارک وین مولن نے کہا ہے کہ کسی مخصوص وجہ سے، جیسے وارنٹ والے شخص کی گرفتاری، اہلکار پولنگ مرکز میں آ سکتے ہیں۔ رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایسی کوئی گرفتاری منصوبہ بند ہے یا نہیں۔

یہ واضح نہیں کہ ہر ریاست میں کتنے رضاکار تعینات ہوں گے۔ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ "سینکڑوں" افراد خدمات انجام دیں گے، تاہم بھرتی کی کل تعداد کے علاوہ کوئی درست اعداد و شمار نہیں دیا گیا۔ رپورٹوں میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کسی ایک پولنگ مرکز پر کتنے رضاکار ڈیوٹی دیں گے۔

پس منظر

پولنگ چیپلن اور عام امن کار حالیہ انتخابی ادوار میں پولنگ مراکز پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ولیمز-اسکنر نے کہا کہ یہ خیال کئی برسوں سے موجود ہے، تاہم "2026 مختلف ہونے والا ہے"۔ ان کے مطابق اس اقدام کی جڑیں سیاہ فام کلیسا میں گہری ہیں اور اب اس میں عیسائیت سے باہر کے مذاہب کے ساتھ ساتھ غیر مذہبی افراد بھی شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق ستمبر 2025 میں قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل کے بعد کیے گئے ایک پیو سروے میں، سیاسی وابستگی سے قطع نظر، 85 فیصد امریکیوں نے یقین ظاہر کیا کہ سیاسی تشدد بڑھ رہا ہے۔

ماضی کے انتخابات میں پولنگ مراکز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ 2022 میں ایریزونا میں بیلٹ ڈراپ باکسز کی نگرانی کا دعویٰ کرنے والے ایک گروہ کے اراکین کو ووٹروں کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کی شکایات کے بعد حکم دیا گیا کہ وہ کم از کم 250 فٹ (75 میٹر) کے فاصلے پر رہیں۔ 2020 میں یوم انتخاب کے بعد ڈیٹرائٹ میں ایک ہجوم نے ووٹ شماری کے مرکز پر دھاوا بول دیا۔ رپورٹوں کے مطابق ہجوم میں شامل بیشتر افراد انتخابی دھاندلی سے متعلق آن لائن سازشی نظریات سے اکسائے گئے تھے۔ ڈیٹرائٹ کے لبرٹی ٹیمپل بیپٹسٹ چرچ کے پادری ریورنڈ اسٹیو بلینڈ ان علمائے دین میں شامل تھے جنہوں نے عمارت اور ہجوم کے درمیان کھڑے ہو کر رکاوٹ ڈالی۔ وہ اب بطور پولنگ چیپلن یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بلینڈ کے مطابق کشیدگی کم کرنے میں اکثر "صورت حال کو پرسکون کرنے کے لیے درست الفاظ استعمال کرنا" شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک بار ایک بزرگ سیاہ فام خاتون کو پچھلے انتخاب میں ووٹ ڈالنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا، "اس مداخلت کے بغیر، اُس دن تین افراد ووٹ نہ ڈال پاتے۔"

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج