Skip to content
Zenga News

لیبیا کی پارلیمنٹ نے ترکی کے ساتھ سمندری معاہدے کی منظوری دے دی

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے دو لیبیائی قانون سازوں نے کہا کہ ایوانِ نمائندگان نے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ کے مطابق ترکی کے ساتھ سمندری معاہدے کی منظوری دی ہے۔ تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ

بن غازی، لیبیا — لیبیا کی پارلیمنٹ نے ترکی کے ساتھ سمندری معاہدے کی منظوری دے دی ہے، سوشل میڈیا پر قانون سازوں اور ایک نامہ نگار کا حوالہ دینے والی پوسٹس کے مطابق۔ یہ رپورٹیں پیر، 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئیں۔

ٹیلیگرام پر ترکی کے ادارے TRT عربی کی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ دو قانون سازوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ایوانِ نمائندگان نے ترکی کے ساتھ سمندری معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اسی پوسٹ کے مطابق اس ووٹ کے ذریعے 2020 کے بائیکاٹ کے فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔ پوسٹ میں فیصلے کا مکمل متن شامل نہیں تھا۔ TRT عربی کی یہ پوسٹ غیر مصدقہ ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

ٹیلیگرام پر الجزیرہ مباشر کی ایک الگ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے نامہ نگار نے رپورٹ کیا کہ ایوانِ نمائندگان کے ارکان نے ترکی کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاہدے کی توثیق کی۔ اس پوسٹ کے مطابق یہ اجلاس بن غازی میں ہوا۔ یہ پوسٹ بھی غیر مصدقہ ہے۔

دونوں پوسٹس میں نہ ایوانِ نمائندگان، نہ لیبیا کی حکومت اور نہ ترکی کی حکومت کا کوئی سرکاری بیان شامل ہے۔ رائٹرز کی اپنی رپورٹ ماخذ مواد میں دستیاب نہیں تھی۔ پوسٹس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کتنے ارکان نے ووٹ دیا یا ووٹوں کی تعداد کیا تھی۔

پوسٹس یہ نہیں بتاتیں کہ معاہدے پر کب دستخط ہوئے یا یہ سمندر کے کن علاقوں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ 2020 کے بائیکاٹ کے فیصلے کا سمندری معاہدے سے کیا تعلق ہے۔

پس منظر

لیبیا اور ترکی نے نومبر 2019 میں سمندری سرحدوں سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس وقت طرابلس میں قائم، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لیبیائی حکومت نے یہ معاہدہ کیا تھا۔ یونان، مصر اور دیگر ریاستوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ سمندری قانون کے تحت دیگر ممالک کے حقوق کو نظر انداز کرتا ہے۔

ایوانِ نمائندگان مشرقی لیبیا میں قائم ہے اور مشرق میں قائم حکام کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ طرابلس میں قائم حکومت ایک الگ انتظامیہ کے تحت کام کرتی ہے۔ ماخذ یہ نہیں بتاتے کہ اس ووٹ کا 2019 کے معاہدے پر کسی بھی حکومت کے موقف پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔

لیبیا 2014 سے مشرق اور مغرب کی حریف انتظامیہ کے درمیان منقسم ہے۔ ایوانِ نمائندگان وہ ادارہ ہے جس سے اس نوعیت کے معاہدے کی منظوری لینا ضروری ہے تاکہ وہ مشرق میں نافذ ہو سکے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج