غزہ میں محاصرے کے دوران پانی کی قلت بڑھ گئی، تجارتی اشیا پر پابندیوں کا پانچواں دن
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی عربی کی ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق غزہ میں خواتین اور بچے پینے کے پانی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تجارتی کھیپوں کی روک تھام کے بعد خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

غزہ سٹی — جاری محاصرے کے تحت غزہ میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے، جیسا کہ اتوار کو ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے تجارتی اشیا پر عائد پابندیوں کا پانچواں دن شروع ہو گیا اور خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔
اس پوسٹ میں ٹی آر ٹی عربی نے کہا کہ تصاویر میں خواتین اور بچوں کو پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں پانی کی کمی ہے اور زندگی کے حالات بگڑ رہے ہیں۔ پوسٹ میں کوئی اعداد و شمار یا مقامات نہیں دیے گئے، اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
خوراک کی قیمتوں میں اضافہ
اس کے علاوہ، الجزیرہ نے 18 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ غزہ میں بنیادی اشیا کی قیمتیں روزانہ بڑھ رہی ہیں۔ اس نے کہا کہ بدھ کے بعد سے آٹے، انڈوں، پیاز اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی دن اسرائیل نے کہا تھا کہ تجارتی اشیا اب اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکیں گی۔
الجزیرہ کے مطابق، یہ اقدام فلسطینی تاجروں اور حماس کے درمیان فیسوں سے متعلق ایک تنازع کے بعد سامنے آیا ہے، حماس اب بھی پٹی کے کچھ حصوں پر اختیار رکھتی ہے۔
شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ اسماعیل البراوی نے الجزیرہ کو بتایا کہ گزرگاہیں بند ہونے کے دو تین دن کے اندر قیمتیں بڑھ گئیں۔ ان کے مطابق انڈوں کا ایک کارٹن 35 شیکل (11.34 ڈالر) سے بڑھ کر 60 سے 70 شیکل (18 سے 21 ڈالر) تک پہنچ گیا۔ پیاز کا ایک کلوگرام پانچ یا چھ شیکل سے بڑھ کر آٹھ سے 10 شیکل تک ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں وہ کم مقدار میں خریداری کر رہے ہیں۔ 30 انڈوں کے پورے کارٹن کے بجائے وہ شاید چار یا پانچ انڈے خریدتے ہیں۔
"کچھ لوگ تو ایک دن کا کھانا بھی مشکل سے خرید پاتے ہیں۔ جب ان کے پاس پیسے ہی نہ ہوں تو وہ کتنا بچا یا ذخیرہ کر سکتے ہیں؟" انہوں نے کہا۔
البراوی نے کہا کہ وہ 11 یا 12 افراد پر مشتمل وسیع خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گزرگاہیں بند رہیں تو 50 کلوگرام آٹے کی بوری 200 یا شاید 300 شیکل تک جا سکتی ہے۔
انہوں نے ذخیرہ اندوزی کی حدود کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کے مطابق تازہ سبزیاں چند دنوں میں خراب ہو سکتی ہیں، اور غیر مستحکم بجلی کی وجہ سے گوشت کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنا مشکل ہے۔
فیس کا تنازع
الجزیرہ کے مطابق غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس نے جمعرات کو اسرائیل کی اس معطلی کی وجہ کو مسترد کر دیا۔ دفتر نے انکار کیا کہ غزہ کے حکام نے تجارتی ٹرکوں پر ٹیکس یا سرکاری فیس عائد کی ہے۔
دفتر کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیان کردہ 10,000 شیکل (3,242 ڈالر) کی رقم ایک رضاکارانہ کمیونٹی فنڈ سے منسلک تھی۔ اس فنڈ کا مقصد کمزور خاندانوں اور مالی امدادی منصوبوں کی حمایت ہے۔
دفتر نے یہ بھی کہا کہ نقد لین دین کے لیے 30 فیصد شرح سے متعلق اقدامات چیمبر آف کامرس کے ساتھ معاہدے کے تحت متعارف کرائے گئے تھے۔ اس نکتے پر الجزیرہ کی رپورٹ دستیاب مواد میں نامکمل تھی۔
کیا غیر مصدقہ ہے
دستیاب مواد میں پانی کی قلت کا ذکر صرف ٹی آر ٹی عربی کی پوسٹ میں ہے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں یا وہ کہاں ہیں۔ پانی کی فراہمی سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار شامل نہیں کیے گئے۔ اسرائیل کا اس معطلی سے متعلق اپنا بیان صرف الجزیرہ اور گورنمنٹ میڈیا آفس کے ردعمل کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کے سینکڑوں ہزاروں فلسطینی غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے مطابق اسرائیل کے محاصرے سخت ہونے کے ساتھ آمدنی کم ہوئی ہے اور بنیادی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں۔
البراوی نے ایک مسلسل چکر کی نشاندہی کی جس میں گزرگاہوں کی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق تاجر جیسے ہی سنتے ہیں کہ گزرگاہیں بند رہ سکتی ہیں، قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، جس سے حقیقی قلت کا اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔
الجزیرہ نے کہا کہ اگر سرحد بند رہی تو جن خاندانوں کے پاس تھوک میں خریداری کے پیسے نہیں، انہیں سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026غزہ میں اسرائیلی فائر سے 24 گھنٹوں کے اندر تین طلبا ہلاک، وزارت تعلیم کا دعویٰ
- 18 اکتوبر، 2026غزہ میں محاصرے کے دوران پانی کی قلت بڑھ گئی، تجارتی اشیا پر پابندیوں کا پانچواں دن
- 18 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے نمائندے کا اسرائیل سے غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو اجازت دینے کا مطالبہ
- 18 اکتوبر، 2026غزہ سٹی کے علاقے الدرج میں ملبے سے نکالے گئے 75 افراد کی اجتماعی تدفین
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟