عراق نے ایران کے ساتھ شیب سرحدی گزرگاہ تا حکمِ ثانی بند کر دی
گزرگاہ پر موجود دو ذرائع نے عرب نیوز کو بتایا کہ مسافروں، گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت پر پابندی ہے۔ ایک تیسرے ذریعے نے سکیورٹی انتظامات کے جائزے کا حوالہ دیا۔

بصرہ — عراق نے ایران کے ساتھ شیب سرحدی گزرگاہ کو مسافروں، گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کے لیے تا حکمِ ثانی بند کر دیا ہے، گزرگاہ پر موجود دو ذرائع نے بدھ کے روز عرب نیوز کو یہ بات بتائی۔
ایک اور ذریعے نے اس ادارے کو بتایا کہ یہ فیصلہ گزرگاہ کے اندر سکیورٹی انتظامات کی جانچ کے لیے کیا گیا۔ عرب نیوز نے کسی بھی ذریعے کا نام نہیں لیا، اور رپورٹ میں نہ عراقی حکومت اور نہ ہی سرحدی حکام کا کوئی بیان شامل تھا۔
الarabiya نے بھی بدھ کے روز اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک پیغام میں اس بندش کی خبر دی۔ یہ پیغام ایک مختصر سرخی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عراق نے ایران کے ساتھ شیب گزرگاہ بند کر دی ہے۔ اس میں مزید کوئی تفصیل نہیں تھی، اور اس پیغام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
کیا معلوم ہے اور کیا نامعلوم ہے
عرب نیوز کے مطابق یہ بندش آمدورفت کی تینوں اقسام پر لاگو ہوتی ہے: مسافر، نجی اور دیگر گاڑیاں، اور تجارتی ٹرک۔ ادارے نے شیب کو دونوں ملکوں کے درمیان سامان اور مسافروں کے داخلے کے اہم راستوں میں سے ایک قرار دیا۔
ذرائع نے "تا حکمِ ثانی" کے علاوہ یہ نہیں بتایا کہ بندش کب تک رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ گزرگاہ کے اندر سکیورٹی جانچ میں کیا شامل ہے، یا اس کی وجہ کیا بنی۔ بندش کے وقت گزرگاہ پر کوئی افراد یا مال روکا گیا تھا یا نہیں، اس بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
دستیاب رپورٹوں میں ایرانی حکام کا کوئی ردِعمل شامل نہیں۔ یہ واضح نہیں کہ عراق نے یہ فیصلہ تہران کو بتایا یا نہیں، یا انسانی بنیادوں پر بھیجے جانے والے سامان جیسی کوئی استثنیٰ لاگو ہوگی یا نہیں۔
رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بندش کا حکم کس نے دیا۔ عرب نیوز نے یہ معلومات صرف گزرگاہ کے ذرائع سے منسوب کی ہیں۔
پس منظر
عراق اس سے پہلے بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایران کے ساتھ ایک سرحدی گزرگاہ بند کر چکا ہے۔ عرب نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ستمبر میں بغداد نے احتیاطی تدبیر کے طور پر ایک اور گزرگاہ، شلامچہ، بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اُس وقت دو سکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ یہ قدم سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے بعد اٹھایا گیا۔ ریاض کا کہنا تھا کہ ڈرون عراق سے داغے گئے تھے۔
شیب سے متعلق رپورٹیں تازہ بندش کو ستمبر کے ڈرون حملوں سے نہیں جوڑتیں۔ فیصلے کے بارے میں بات کرنے والے ذریعے نے صرف گزرگاہ کے اندر سکیورٹی انتظامات کی جانچ کا ذکر کیا۔
شیب اور شلامچہ دونوں جنوب مشرقی عراق اور ایران کی سرحد پر واقع ہیں۔ بصرہ سے جاری ہونے والی عرب نیوز کی رپورٹ میں تجارتی حجم یا شیب گزرگاہ سے عام طور پر گزرنے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
عرب نیوز نے کہا کہ یہ فیصلہ بدھ کے روز رپورٹ ہوا۔ زنگا نیوز نے اس بندش کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔ مزید معلومات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عراقی حکام فیصلے کی وجوہات اور گزرگاہ دوبارہ کب کھلے گی، اس بارے میں کوئی بیان جاری کرتے ہیں یا نہیں۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟