طیبہ کے قریب مغربی کنارے میں آبادکاروں کا یورپی سفارت کاروں اور فرانسیسی میئر پر حملہ
اسرائیلی آبادکاروں نے ہفتے کے روز طیبہ کے قریب ایک وفد پر حملہ کیا جس میں فرانسیسی اور بیلجیئن قونصلر عملہ شامل تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی مذمت کی، جبکہ نیتن یاہو کے دفتر نے اسے بدنام کرنے کی "مہم" قرار دیا۔

رام اللہ — اسرائیلی آبادکاروں نے ہفتے کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبے طیبہ کے قریب یورپی سفارت کاروں کے ایک وفد اور ایک فرانسیسی میئر پر حملہ کیا، فلسطینی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وفد میں فرانسیسی اور بیلجیئن قونصلر، ایک پولش نمائندہ اور کیتھولک چرچ کے عہدیدار شامل تھے۔ وزارت نے کہا کہ ایک فرانسیسی میئر پر حملہ کیا گیا اور ایک بیلجیئن قونصلر گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا۔
فرانس کے شمالی شہر اولنوئے-ایمریز کے 78 سالہ میئر برنارڈ بودو نے اے ایف پی کو بتایا کہ نقاب پوش آبادکاروں نے فرانس کے خلاف نعرے بازی کی، انہیں لاتیں ماریں اور لوہے کی سلاخ سے مارا، جیسا کہ ریپبلika کی جانب سے ان کے بیان کی رپورٹ میں درج ہے۔ انہیں ہسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں پڑی۔
"میرا خیال ہے کہ اگر آبادکار اس طرح کا رویہ اختیار کر رہے ہیں تو اس میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے رواداری پائی جاتی ہے۔" — برنارڈ بودو، میئر، اولنوئے-ایمریز
مختلف بیانات
طیبہ کے میئر سلیمان خوری نے دی نیو عرب کو بتایا کہ وفد ایک ایسی تقریب میں شریک ہوا تھا جو طیبہ اور ایک فرانسیسی شہر کے درمیان جڑواں شہر معاہدے سے منسلک تھی۔ اس کے بعد گروپ قصبے کے مغرب میں زیتون کی کٹائی میں کسانوں کی مدد کے لیے گیا، جہاں آبادکاروں نے ان پر حملہ کیا اور بیلجیئن قونصلر گاڑی کی کھڑکیاں توڑ دیں۔
خوری نے کہا کہ سفارت کار بغیر کسی چوٹ کے چلے گئے، تاہم دو فلسطینی زخمی ہوئے۔ انہوں نے حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دس بتائی اور کہا کہ وہ قصبے کے ارد گرد سات چوکیوں سے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر آئے تھے۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق سات نقاب پوش حملہ آور آف روڈ گاڑیوں میں پہنچے، سفارتی کار کو گھیر لیا اور شناخت طلب کی، اور پھر بیلجیئن گاڑی کی کھڑکی توڑ دی۔ اس نے کہا کہ فوج اور پولیس تین گھنٹے تک نہیں پہنچی، حالانکہ انہیں چند منٹ میں وفد کے مقام اور ویڈیو فوٹیج موصول ہو گئی تھی، انادولو ایجنسی کے مطابق۔
ردعمل
اسرائیلی فوج نے اس واقعے کو "تشدد کا سنگین واقعہ" قرار دیا اور کہا کہ پولیس جائے وقوعہ پر شواہد جمع کر رہی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وفد نے اپنے دورے کا پیشگی تعین نہیں کیا تھا اور وہاں کوئی فوجی موجود نہیں تھا، انادولو کے مطابق۔
وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر نے "زیتون کی سالانہ کٹائی کے دوران اسرائیل اور جوڈیا اور سامریہ کے یہودی رہائشیوں کو بدنام کرنے کی مربوط مہم" کا الزام لگایا، یہ مغربی کنارے کے لیے اسرائیلی اصطلاح ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ سفارت کاروں کو اپنی نقل و حرکت فوج کے ساتھ مربوط کرنی چاہیے تھی، مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔ ان کے دفتر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بودو ایک کمیونسٹ ہیں جو فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔
فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں-نوئل بارو نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ "فوری طور پر مجرمانہ تشدد بند کرے" اور ذمہ داروں کو گرفتار کرے، ریپبلika کے مطابق۔ بیلجیئم کے نائب وزیرِ اعظم ماکسم پریوو نے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ بیلجیئم ذمہ داروں اور ان کے حامیوں کے خلاف پابندیوں کے لیے دباؤ جاری رکھے گا۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے حملے کو "منظم آبادکار دہشت گردی" کا ثبوت قرار دیا اور اسرائیلی حکومت پر حملہ آوروں کی حفاظت کا الزام لگایا۔ فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے مضبوط بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کیا۔
آئندہ اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کے بڑے حریف گڈی آئزنکوٹ نے حکومت پر "یہودی دہشت گردی" کی سرپرستی کا الزام لگایا، مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔
پس منظر
یہ حملہ زیتون کی کٹائی کے دوران ہوا، جو اس مہینے کے آغاز میں شروع ہوئی تھی۔ فلسطینی دیوار و آبادکاری مزاحمتی کمیشن نے ہفتے کے روز کسانوں، زمین اور زیتون کی فصلوں کے خلاف اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی 40 کارروائیوں اور خلاف ورزیوں کی اطلاع دی، انادولو کے مطابق۔
جمعرات کو آبادکاروں نے ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ کو مارا پیٹا جو واشنگٹن پوسٹ کے لیے کٹائی کی کوریج کر رہی تھیں، مڈل ایسٹ آئی کے مطابق۔ ریپبلika نے رپورٹ کیا کہ انہیں ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر کا علاج کیا جا رہا ہے، یہ تفصیل دیگر ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہے۔ امریکی سفیر مائیک ہکابی نے حملہ آوروں پر مقدمہ چلانے اور انہیں جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026یونیسف: غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے 340 سے زائد بچے ہلاک
- 18 اکتوبر، 2026غزہ سٹی میں ملبے سے نکالی گئی 75 لاشوں کی تدفین
- 18 اکتوبر، 2026غزہ میں اسرائیلی فائر سے 24 گھنٹوں کے اندر تین طلبا ہلاک، وزارت تعلیم کا دعویٰ
- 18 اکتوبر، 2026غزہ میں محاصرے کے دوران پانی کی قلت بڑھ گئی، تجارتی اشیا پر پابندیوں کا پانچواں دن
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Anadolu Agencyen · 17 اکتوبر، 2026
- Republikaid · 17 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 17 اکتوبر، 2026
- The New Araben · 17 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 17 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 17 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 17 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 17 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Englishen · 18 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 18 اکتوبر، 2026
- Antaraid · 18 اکتوبر، 2026
- Anadolu Agencyen · 18 اکتوبر، 2026
- wesh.comen · 18 اکتوبر، 2026
- Anadolu Agencyen · 18 اکتوبر، 2026
- The New Araben · 18 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 18 اکتوبر، 2026
- TRT Arabi (Telegram)ar · 18 اکتوبر، 2026
- Palestine Chronicle (Telegram)en · 17 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟