Skip to content
Zenga News

خلیجی تعاون کونسل کی جانب سے یمن میں جنگ کی شدت کے دوران حوثی حملوں کی مذمت

منامہ میں ہونے والے خلیجی وزرائے خارجہ کے اجلاس نے الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب کی حمایت کی۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق یمن میں جاری لڑائی سے 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Courtyard of Bahrain Fort & Skyline of West Manama, Manama, Bahrain
File photo: Courtyard of Bahrain Fort & Skyline of West Manama, Manama, Bahrain تصویر: Zairon / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

منامہ — خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) نے اتوار کے روز یمن کے ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر بارہا حملوں کی مذمت کی اور مملکت کی حمایت کا اعلان کیا، الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔ یمن میں لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، چھ رکنی بلاک نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد یہ بیان جاری کیا۔ اس کے ارکان سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام چھ ارکان پر حملہ تصور ہوگا، الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔ اس میں مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیا گیا اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی گئی۔

ڈرون حملے اور سفارتی اقدامات

الجزیرہ نے بتایا کہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت کے فوجی اتحاد نے اتوار کی صبح سویرے ریاض اور مشرقی صوبے کے قریب دو ڈرون مار گرانے کی اطلاع دی۔ اسی رپورٹ کے مطابق اتحاد نے کہا کہ اس نے کچھ گھنٹے پہلے دارالحکومت کے قریب ایک اور ڈرون کو بھی روکا تھا۔ اتحاد نے یہ نہیں بتایا کہ اسے کس نے داغا تھا۔

خلیجی وزرائے خارجہ نے الزام لگایا کہ حوثیوں نے شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر مہلک حملے کیے، الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے گروہ پر اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ ادارے کے مطابق، انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اسے رسمی طور پر "دہشت گرد تنظیم" قرار دیں۔

وزرا نے 15 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان کا خیرمقدم کیا۔ الجزیرہ کے مطابق اس بیان میں سعودی عرب پر حوثی حملوں اور بحیرہ احمر کی آمدورفت کو لاحق خطرات کی مذمت کی گئی تھی۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے الگ سے سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ حوثیوں کے گھروں اور ریاستی تنصیبات پر حملوں کے خلاف اقدام کرے، الجزیرہ نے کہا۔ اس کے خطوط اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور اکتوبر کے لیے کونسل کی صدر اگلایا بالتا کو بھیجے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں عدن میں صدارتی محل پر حملے کا حوالہ دیا گیا، جہاں حکومت عارضی طور پر قائم ہے۔

اسی دن، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے ابوظہبی میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا، الجزیرہ نے امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

زمینی صورتحال

الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج کئی محاذوں پر پیش قدمی کر رہی ہیں۔ یمنی فوج نے کہا کہ حوثیوں نے اتوار کو وسطی شہر مآرب کی جانب میزائل داغے۔ حکومتی دستوں نے مزید جنوب میں تعز میں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔

حکومت کے حامی کمانڈروں کے مطابق ہفتے کے روز لحج صوبے میں لڑائی میں آٹھ فوجی مارے گئے، الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔ حکومتی فورسز نے جنوبی تعز میں 12 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔ الجزیرہ کے مطابق ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

الجزیرہ کے مطابق، عالمی ادارہ برائے مہاجرت کا کہنا ہے کہ لڑائی سے 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 1 لاکھ 21 ہزار تعز صوبے میں ہیں، جہاں رسد کے راستے متاثر ہوئے ہیں۔

الجزیرہ کی ہادیل الیمانی نے تعز سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ کھانا پکانے کی گیس دستیاب نہیں اور خوراک کے ذخیرے کم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق حوثی فورسز نے شہر کے مغربی داخلی راستے سے سپلائی روک دی ہے۔ محاصرے پر نظر رکھنے والے ایک مقامی دفتر کے مطابق خوراک کی قیمتیں پانچ گنا بڑھ گئی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تعز کے 12 ہسپتالوں میں صرف مزید چار دن کا ایندھن باقی ہے اور جراحی کا سامان ختم ہو چکا ہے، الجزیرہ نے رپورٹ کیا۔ ادارے کے مطابق آکسیجن اور ادویات کی شدید کمی ہے، اور شہر ہیضے کی وبا سے نبرد آزما ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، جنگ کا تازہ مرحلہ گزشتہ ماہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد شروع ہوا۔ اس کے بعد حکومتی افواج نے حوثیوں سے علاقے واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی۔ حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 18 اکتوبر، 2026یمن میں تعز اور لحج میں جھڑپوں کی اطلاعات، سرکاری افواج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صنمات دوبارہ حاصل کر لیا
  2. 18 اکتوبر، 2026نجران میں پروجیکٹائل گرنے سے چھ افراد زخمی، سعودی سول ڈیفنس کے مطابق
  3. 18 اکتوبر، 2026حوثیوں نے مآرب شہر پر آٹھ بیلسٹک میزائل داغے، الجزیرہ مباشر کی رپورٹ
  4. 18 اکتوبر، 2026خلیجی تعاون کونسل کی جانب سے یمن میں جنگ کی شدت کے دوران حوثی حملوں کی مذمت

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج