Skip to content
Zenga News

جرمنی نے ایران کے سفیر کو طلب کر لیا، قاتلانہ سازش کے مقدمے میں سزائیں

جرمنی نے ایران کے سفیر کو طلب کیا ہے، ہیمبرگ کی ایک عدالت نے اسرائیل نواز شخصیات کے خلاف سازش پر ایک ڈینش اور ایک افغان شہری کو سزا سنائی ہے، عرب نیوز کے مطابق۔

Onur Irmako
Zenga News یورپ اور امریکہ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: Building of the labour court and state labour court of the Free and Hanseatic City of Hamburg. The building in the foreground is a former school which has been the seat of the labour court and the state labour court since the 1980s. It wa
File photo: Building of the labour court and state labour court of the Free and Hanseatic City of Hamburg. The building in the foreground is a former school which has been the seat of the labour court and the state labour court since the 1980s. It wa تصویر: Sebastian Koppehel / Wikimedia Commons · CC BY 4.0

برلن — جرمنی نے پیر کے روز ایران کے سفیر کو طلب کیا ہے، ایک ہفتہ قبل دو افراد کو اس سازش کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی تھی جسے جرمن وزارتِ خارجہ نے تہران کی ایما پر اسرائیل نواز نامور شخصیات کے قتل کی "بدنیتی پر مبنی" سازش قرار دیا، عرب نیوز کے مطابق۔

ہیمبرگ کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز ایک ڈینش شہری اور ایک افغان شہری کو اس منصوبے پر سزا سنائی جس کا ہدف جرمنی کی سب سے بڑی یہودی برادری کی نمائندہ تنظیم کے صدر اور جرمن-اسرائیل سوسائٹی کے سربراہ تھے، رپورٹ کے مطابق۔

وزارتِ خارجہ نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سفیر کو طلب کیا گیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تہران کو ملک کے آزاد معاشرے کو دھمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ "بدنیتی پر مبنی قاتلانہ کوششوں... کے قانونی نتائج ہوں گے۔"

وزارت نے کہا، "ہم یہودی زندگی اور اس کا دفاع کرنے والوں پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کریں گے، کہیں بھی، اور جرمنی میں تو قطعاً نہیں۔" یہ بات عرب نیوز کے مطابق کہی گئی۔

ڈینش شہری، جن کی جزوی شناخت علی حسن ایس کے نام سے ہوئی ہے، کو ساڑھے آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ استغاثہ کے مطابق 54 سالہ یہ شخص براہ راست ایرانی انٹیلی جنس کے لیے کام کرتا تھا۔ استغاثہ نے کہا کہ اسے جرمنی میں قتل اور آتش زنی کے حملوں کی تیاری کے لیے اہداف کی جاسوسی کا کام سونپا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق، اسرائیل نواز نامور شخصیات کے علاوہ وہ برلن میں ایک یہودی گروسری دکان کو بھی نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

افغان شہری کو ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے جرمن-اسرائیل سوسائٹی کے سربراہ پر حملے کے لیے ایک تیسرے شخص کی بھرتی اور اسے ہتھیار فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسے بطور معاون بھرتی کیا گیا تھا۔

دونوں افراد کو سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ وہ "ایران کی منصوبہ بندی سے کی گئی دہشت گرد سرگرمیوں" کے مجرم ہیں، عرب نیوز کے مطابق۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ایرانی سفیر نے طلبی کا جواب دیا ہے۔ اس میں تیسرے شخص کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں، نہ یہ کہ اس پر فرد جرم عائد ہوئی ہے یا نہیں۔ عرب نیوز نے سزاؤں کے جواب میں ایرانی حکومت کی طرف سے کسی مزید ردعمل کی اطلاع نہیں دی۔

پس منظر

عرب نیوز کے مطابق، دونوں افراد کو گزشتہ سال ڈنمارک میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں جرمنی کے حوالے کر دیا گیا۔ ان کو جرمنی میں سزا سنائی گئی۔

جب ان دونوں پر فرد جرم عائد کی گئی تو برلن میں ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کیا۔ اس نے اسے "ایران کے دشمنوں کے کہنے پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات" قرار دے کر مسترد کیا، اسی رپورٹ کے مطابق۔

عرب نیوز کی رپورٹ ان تفصیلات کا واحد ذریعہ ہے۔ رپورٹنگ میں جرمن عدالتوں، استغاثہ یا ایرانی حکومت کی جانب سے کوئی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج