برینٹ خام تیل خلیجی کشیدگی کے باعث پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب قائم
منگل کو برینٹ کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل رہی، جو مئی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے، جب تاجر جہازوں پر حملوں اور حوثیوں کے سعودی مقامات پر حملوں کے دعوؤں کو خلیجی برآمدات کی بحالی کے مقابل تولتے رہے۔
بengaluru — منگل کو برینٹ خام تیل کے فیوچرز تقریباً 110 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کرتے رہے، جو پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے، کیونکہ تاجر خلیجی سمندری تجارت پر حملوں کی اطلاعات اور سعودی توانائی مقامات پر حوثیوں کے حملوں کے دعوؤں پر غور کر رہے تھے، عرب نیوز کے مطابق۔
عرب نیوز نے رپورٹ کیا کہ سعودی وقت کے مطابق صبح 6:19 بجے برینٹ 55 سینٹ، یا 0.50 فیصد، بڑھ کر 110.10 ڈالر ہو گیا۔ گزشتہ سیشن میں یہ کنٹریکٹ 110.70 ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جو 20 مئی کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔
بزنس ٹائمز نے بلومبرگ کے حوالے سے بتایا کہ برینٹ 110 ڈالر سے ذرا نیچے ہے۔ الجزیرہ عربی نے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ برینٹ 111 ڈالر فی بیرل سے آگے نکل گیا ہے، جو بھی پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ پوسٹ غیر تصدیق شدہ ہے، اور ذرائع کے درمیان اعداد و شمار میں معمولی فرق ہے۔
قیمتیں اور مارکیٹ کے تجزیے
نومبر کا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کنٹریکٹ، جو منگل کو ختم ہو رہا ہے، 0.24 فیصد اضافے کے ساتھ 103.91 ڈالر پر تھا، عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ زیادہ فعال دسمبر کنٹریکٹ 39 سینٹ، یا 0.40 فیصد، بڑھ کر 98.93 ڈالر پر پہنچ گیا۔
آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا، "تیل کی قیمتوں کو مسلسل سہارا حاصل ہے"، اور مزید کہا کہ مارکیٹ خطرے کے بڑے پریمیم کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر رسد بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی تو یہ پریمیم غالباً آہستہ آہستہ کم ہوگا، تاہم اس کی ابھی کوئی علامت نہیں ہے۔
شپ ٹریکر کیپلر نے پیر کو ایک نوٹ میں کہا کہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 18 جہازوں پر حملے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے مطابق اس سے خطرے کا پریمیم برقرار ہے۔
کیپیٹل اکنامکس کے کموڈیٹی ماہر معیشت دان حمد حسین نے بلومبرگ کے حوالے سے کہا، "تیل کی قیمتوں کو لاحق خطرات واضح طور پر اوپر کی جانب ہیں۔"
حوثی دعوے اور ایرانی بیانات
یمن میں ایران نواز گروپ حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے سعودی توانائی، ہوائی اڈوں اور فوجی اہداف پر کئی حملے کیے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق انہوں نے یانبو میں آرامکو کے ایک مقام، شیبہ آئل فیلڈ، ریاض میں کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور abha ایئرپورٹ کے نام لیے۔ سعودی حکام نے فوری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی، اور رائٹرز ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
اسی روز، عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے صوبہ شبوہ میں سرکاری سیکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمp پر حوثی حملے میں 58 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں ہلاکتوں کے ان اعداد و شمار کا ماخذ نہیں بتایا گیا۔
ایران کے فرسٹ وائس پریذیڈنٹ محمد رضا عارف نے پیر کو کہا کہ ایران کے پاس اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے کے سوا "کوئی چارہ نہیں" ہے، سرکاری خبر رساں ادارے IRNA نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے یہ بات تاجکستان میں روسی وزیر اعظم میخائل مشustin کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دوست ممالک کے لیے محفوظ گزرگاہ یقینی بنا سکتا ہے، اور امریکہ "قیمت ادا کرے گا"۔
رسد کا بہاؤ
بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود خلیجی خام تیل کی برآمدات تیز رفتاری سے جاری ہیں۔ امریکی توانائی سکریٹری کرس رائٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 80 فیصد تک بہاؤ بحال ہو چکا ہے، تاہم ریفائنڈ مصنوعات کی ترسیل اب بھی محدود ہے۔
بلومبرگ کے مطابق عراق کے وزیر تیل نے کہا کہ اکتوبر میں اب تک برآمدات روزانہ 3.4 ملین بیرل سے زائد رہی ہیں۔ عراق کی جانب سے علاقائی معیارات کے مقابلے میں بھاری رعایت کی پیشکش کے بعد اب ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب ہے۔
رائٹ نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پابندیوں کا شکار تیل بردار جہازوں کی فروخت کی اجازت دے رہی ہے تاکہ وہ قانونی طور پر خام تیل کی ترسیل کر سکیں۔ ان کے اندازے کے مطابق عالمی "ڈارک فلیٹ" میں تقریباً 1,600 جہاز شامل ہیں۔
پس منظر
بلومبرگ کے مطابق 2026 میں اب تک برینٹ تقریباً 80 فیصد بڑھ چکا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ اور روس و یوکرین کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات توانائی کی سپلائی میں خلل ڈال رہے ہیں۔
جمعے کو ایک امریکی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت روس سے متعلق اہم پابندیوں اور محصولات، بشمول اس کی توانائی کی خریداری پر جرمانے، معطل کر دیے گئے، عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ انہوں نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ وزیر خارجہ مارco روبیو نے کہا کہ حکام مزید وقت چاہتے ہیں تاکہ جائزہ لے سکیں۔
کے ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ روسی ڈیزل کی اضافی رسد "نظریاتی ریلیف" فراہم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق تاجر خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان کے خطرے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 20 اکتوبر، 2026
- businesstimes.com.sgen · 20 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 20 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟