Skip to content
Zenga News

ایران کے آئی آر جی سی کا دعویٰ: آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں تیل بردار جہاز بارودی سुरंग سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا

ایران کی انقلابی گارڈز کی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایک تیل بردار جہاز اتوار کی شام ایک بحری بارودی سुरंग سے ٹکرایا۔ یہ تین دنوں میں اس کی جانب سے رپورٹ کیا جانے والا تیسرا ایسا واقعہ ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Strait of Hormuz Transits
File photo: Strait of Hormuz Transits تصویر: Wikideas1 / Wikimedia Commons · CC0

آبنائے ہرمز — آئی آر جی سی (اسلامی انقلابی گارڈز کور) کی بحریہ کے مطابق اتوار کی شام، 18 اکتوبر کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک تیل بردار جہاز بحری بارودی سुरंग سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

آئی آر جی سی کا بیان نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے جاری کیا، جسے انتارا نے اناطولیہ کے حوالے سے اور مڈل ईस्ٹ آئی نے رپورٹ کیا۔ فارس کے مطابق دھماکہ جہاز کے انجن روم سے ٹکرایا جب وہ آبی گزرگاہ سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

فارس نے آئی آر جی سی کے حوالے سے کہا: "ایک غیر قانونی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک بحری بارودی سुरंग سے ٹکرانے کے بعد اس کے انجن روم میں دھماکہ ہوا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔"

آئی آر جی سی کے الزامات

آئی آر جی سی کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس جہاز نے سفر کے آغاز ہی سے اپنے تمام پوزیشننگ اور نیویگیشن نظام بند کر رکھے تھے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاز نے ایک ایسا جنوبی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی جسے ایران غیر سرکاری تصور کرتا ہے۔

فورس نے جہاز پر سمندری ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، جنہیں ایران آبنائے سے گزرنے کا تعین کرنے والے قواعد قرار دیتا ہے۔ مڈل ईस्ٹ آئی نے ان ضوابط کو ایران کی عائد کردہ قواعد کے طور پر بیان کیا ہے۔

آئی آر جی سی نے دیگر جہازرانی کو بھی خبردار کیا ہے۔

"اگر آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس سے گزرنے والے جہاز اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کریں گے تو ان سے سختی اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔" — آئی آر جی سی بحریہ، فارس کے حوالے سے

کیا غیر مصدقہ ہے

بیان میں جہاز کا نام نہیں بتایا گیا۔ انتارا کے مطابق اس میں جانی نقصان یا نقصان کی نوعیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ دستیاب ذرائع میں جہاز کے مالک، اس کے پرچم والی ریاست یا کسی آزاد سمندری حکام کی تصدیق شامل نہیں ہے۔ اس واقعے کا بیان صرف آئی آر جی سی کی طرف سے آیا ہے اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پہنچا ہے۔

پہلے کے واقعات

یہ اعلان اسی نوعیت کی رپورٹوں کے سلسلے کے بعد آیا ہے۔ ہفتے، 17 اکتوبر کو آئی آر جی سی بحریہ نے کہا کہ 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل لے جانے والا ایک اور سپر ٹینکر بحری بارودی سुरंग سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جہاز ایک ایسے راستے سے آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی اجازت نہیں تھی۔

اس سے ایک روز پہلے آئی آر جی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک اور ٹینکر بارودی سुरंग سے ٹکرایا، جس سے دھماکہ اور آگ لگ گئی، انتارا کے مطابق۔

پس منظر

انتارا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل 28 فروری سے ایران کے ساتھ جنگ میں ہیں۔ ایران نے خطے بھر کے اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا۔ اس کے بعد امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی عائد کر دی۔

انتارا کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے میں جہازرانی کی آزادی سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ آبی گزرگاہ کی سلامتی پر اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رُکا ہوا ہے۔

یہ آبنائے خلیج سے باہر جانے والا ایک اہم اسٹریٹجک تجارتی راستہ ہے۔ انتارا کی متعلقہ کوریج میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک بیان بھی شامل تھا کہ اگر امریکہ آبنائے سے نکل جائے تو ملکی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ ذرائع اس بیان کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔

اتوار کے واقعے پر ذرائع میں کوئی مزید سرکاری بیان دستیاب نہیں تھا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج