امریکی وزیر دفاع کے مطابق ایرانی لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ پینٹاگون میناب اسکول پر حملے کے نتائج "وقت آنے پر" جاری کرے گا، انتونارا کے مطابق۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسکول کو ٹوماہاک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

واشنگٹن — امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے منگل، 20 اکتوبر کو کہا کہ امریکہ اب بھی جنوبی ایران کے ایک اسکول پر حملے کی تحقیقات کر رہا ہے اور نتائج بعد میں شائع کرے گا، انڈونیشیائی خبر رساں ایجنسی انتونارا کے مطابق۔
انتونارا نے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون کی سربراہی کرنے والے ہیگستھ نے صحافیوں سے بات چیت کی۔ ایجنسی نے ان کے حوالے سے، جو انڈونیشی ترجمے میں شائع ہوا، بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور وقت آنے پر امریکہ انہیں جاری کرے گا۔
"تحقیقات ابھی جاری ہیں، اور جب وقت آئے گا تو ہم انہیں جاری کریں گے۔" — پیٹ ہیگستھ، امریکی وزیر دفاع، انتونارا کی رپورٹ کے مطابق
انتونارا کی رپورٹ میں بیان کیے گئے ریمارکس میں ہیگستھ نے اشاعت کی کوئی تاریخ نہیں دی۔ ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ تحقیقات میں اب تک کیا معلوم ہوا ہے۔
رپورٹ کا وقت
انتونارا نے بلومبرگ کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوجی حکام جنوبی ایران کے ایک لڑکیوں کے اسکول پر ہلاکت خیز حملے کی رپورٹ امریکی کانگریس کے انتخابات کے بعد، یا ممکنہ طور پر اس سے پہلے، شائع کریں گے۔ انتونارا کے مطابق بلومبرگ کی رپورٹ اتوار، 18 اکتوبر کی تاریخ کی تھی۔ انتونارا نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ہیگستھ کے ریمارکس اس ٹائم لائن سے متعلق تھے۔
کیا غیر مصدقہ ہے
انتونارا کی رپورٹ اس واقعے کے بارے میں واحد ذریعہ ہے۔ اس میں ہیگستھ کے ریمارکس پر ایرانی حکومت کا کوئی بیان شامل نہیں۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حملہ کس نے کیا، سوائے اس کے کہ ایرانی حکومت نے استعمال ہونے والے ہتھیار کے بارے میں دعویٰ کیا ہے۔
انتونارا کے مطابق ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ حملہ ٹوماہاک میزائل سے کیا گیا۔ ایجنسی نے اس دعوے پر امریکہ کا کوئی ردعمل رپورٹ نہیں کیا۔ انتونارا نے یہ نہیں بتایا کہ تحقیقات کن امور کا جائزہ لے رہی ہیں۔
پس منظر
انتونارا کے مطابق یہ حملہ 28 فروری کو ہوا، جب امریکہ نے ایران کے خلاف ایک فوجی آپریشن شروع کیا جو اس کے بقول کئی ماہ تک جاری رہا۔ ایجنسی کے مطابق ابتدائی حملے میں جنوبی ایران کے میناب ضلع میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا۔
انتونارا کے مطابق اس حملے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ رپورٹ میں اس تعداد کا کوئی ماخذ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ تعداد کیسے مرتب کی گئی۔
انتونارا کی رپورٹ کے ساتھ شائع ہونے والی ایک پرانی تصویر کے کیپشن میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی شہری 20 مارچ 2026 کو ایک جنازے میں متاثرین کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ کیپشن میں صوبہ ہرمزگان کے میناب میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر "امریکی-اسرائیلی حملے" کا ذکر ہے۔ رپورٹ کے مرکزی متن میں ابتدائی حملوں کی ذمہ داری امریکہ پر ڈالی گئی ہے اور اسرائیل کا ذکر نہیں۔ تصویر کا کریڈٹ اناطولو کو دیا گیا ہے۔
انتونارا کی رپورٹ دو متعلقہ خبروں کے لنک بھی دیتی ہے۔ ایک قطر کا وہ بیان ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری خبر ایرانی الزام سے متعلق ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو امریکہ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انتونارا کے متن میں ان دونوں خبروں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
انتونارا کے مطابق امریکہ نے ابھی تک اپنی تحقیقات کے نتائج شائع نہیں کیے ہیں۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟