Skip to content
Zenga News

17 اکتوبر کی لوٹ مار کی نسلی تشکیل پر فرانس میں بحث بڑھ رہی ہے

فرانس اور امریکہ کی دائیں بازو کی شخصیات نے بدامنی کا ذمہ دار تارکینِ وطن کو ٹھہرایا۔ فرانسیسی حکام نے انتہائی بائیں بازو کے گروہوں اور مجرموں کو موردِ الزام ٹھہرایا، جبکہ تبصرہ نگاروں نے تارکینِ وطن سے اس تعلق پر اعتراض کیا۔

Onur Irmako
Zenga News یورپ اور امریکہ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Protests and riots in Paris on 17 October 2026. Demonstrators gathered around Place de la République amid tear gas; cars and shared bikes were set on fire on Boulevard Voltaire and extinguished by the Paris Fire Brigade (BSPP); shops were
File photo: Protests and riots in Paris on 17 October 2026. Demonstrators gathered around Place de la République amid tear gas; cars and shared bikes were set on fire on Boulevard Voltaire and extinguished by the Paris Fire Brigade (BSPP); shops were تصویر: Jorge Jaramillo / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

پیرس — فرانس میں اس بحث میں شدت آ گئی ہے کہ 17 اکتوبر کے احتجاج کے بعد ہونے والی لوٹ مار اور فسادات کے پیچھے موجود افراد کو کس طرح بیان کیا جائے، جیسا کہ 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے۔ فرانس اور امریکہ کے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں نے تشدد کو تارکینِ وطن سے جوڑا۔ حکام اور بعض تبصرہ نگاروں نے اس تعلق کو مسترد کیا ہے۔

نیشنل ریلی پارٹی کے رہنما جارڈن بارڈیلا نے کہا کہ بدامنی سے حکومت کی امیگریشن اور سلامتی کی پالیسی کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کے گروہ فرانسیسی معاشرے میں ضم نہیں ہوئے اور محروم علاقوں میں سماجی تفریق بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے صدر ایمانوئل میکراں سے معافی مانگنے اور استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا، بی بی سی نیوز عربی کے مطابق۔

بارڈیلا نے تسلیم کیا کہ بعض مظاہرین کے سماجی مطالبات جائز تھے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق، انہوں نے پھر بھی تشدد کو امیگریشن پالیسی سے جوڑا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسے ہی دعوے کیے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ "فرانس جل رہا ہے" اور "ایک بالکل مختلف دنیا" سے آنے والی امیگریشن نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے۔ انہوں نے فرانس سے اپنی سرحدیں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ کینٹکی میں ایک انتخابی تقریب میں انہوں نے کہا کہ فرانس میں طلبہ کے مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیگریشن "قابو سے باہر" ہو چکی ہے، بی بی سی نیوز عربی کے مطابق۔ اسی رپورٹ میں ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے اسلام کو ملک پر "قابو" پانے کی کوشش کرنے والے کے طور پر بیان کیا۔ ٹرمپ کے بیانات کی فرانسیسی حکام نے تصدیق نہیں کی۔

فرانسیسی حکام نے مختلف موقف اپنایا۔ وزیرِ اعظم سیباستیان لیکورنو اور وزیرِ داخلہ لارینٹ نونیز نے انتہائی بائیں بازو کے گروہوں کے "تخریب کار عناصر" کو موردِ الزام ٹھہرایا، جنہیں مجرموں اور جرائم پیشہ افراد کی حمایت حاصل تھی، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد نے شہریوں، طلبہ، یونینز اور سول سوسائٹی کے گروہوں کے احتجاج کا فائدہ اٹھایا جو اسکولوں کی حالت اور مہنگائی کے خلاف تھا۔ بی بی سی کے مطابق، فرانسیسی حکام اور پولیس نے کہا کہ تارکینِ وطن اور تخریب کاری کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔

ٹی ایف ون اور ایل سی آئی کے پولیس و عدالتی امور کے مشیر گیوم فارد نے بھی اس موقف کو مسترد کیا۔ آئلا ویب سائٹ کے 20 اکتوبر کو شائع ہونے والے خلاصے کے مطابق، فارد نے کہا کہ تارکینِ وطن کے پس منظر والے بعض افراد نے لوٹ مار میں حصہ لیا، لیکن تارکینِ وطن کے پس منظر والے دیگر افراد پولیس کی وردی پہن کر انہیں گرفتار کر رہے تھے۔ انہوں نے بحث کو "نسلی رنگ" دینے سے خبردار کیا اور کہا کہ لوگوں کو ان کے اعمال کا جواب دینا چاہیے، ان کی اصل کا نہیں۔ آئلا ایک فرانسیسی ویب سائٹ ہے جو مسلمانوں اور اقلیتی مسائل پر مہم چلاتی ہے، اور اس کے خلاصے کا مکمل انٹرویو سے موازنہ نہیں کیا گیا۔

ذرائع سے واضح نہیں ہوتا کہ لوٹ مار میں کتنے افراد شامل تھے یا کتنے گرفتار ہوئے۔ بی بی سی کے مطابق، مبصرین نے احتجاج کو ایک طلبہ تحریک قرار دیا جو خستہ حال اسکولوں، اساتذہ کی کمی اور کلاس رومز میں حرارت اور ٹھنڈک کے فقدان کے خلاف تھی۔ اس کے بعد، بی بی سی کے مطابق، تحریک میں یونینز اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت اور ایندھن کی قیمتوں سے متاثرہ افراد بھی شامل ہو گئے۔ بی بی سی نے بتایا کہ عروج کے وقت احتجاج میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شامل ہوئے تھے۔ ذرائع میں اس عروج کی تاریخ یا کسی آزاد شماریات کا ذکر نہیں ہے۔

پس منظر

بی بی سی نے بتایا کہ احتجاج اپنی 20 اکتوبر کی رپورٹ سے تقریباً دو ہفتے پہلے شروع ہوا تھا۔ یہ کئی بڑے شہروں تک پھیل گیا اور فسادات، آتش زنی اور لوٹ مار میں تبدیل ہو گیا۔ بی بی سی کے مطابق، حکومت نے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی کی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منجمد کر دیں، اور یہ ان شکایات میں شامل تھا جو مظاہرین اور یونینز نے بیان کیں۔

تشدد کے ماخذ پر بحث فرانس میں امیگریشن، انضمام اور سلامتی سے متعلق پرانی بحثوں پر مبنی ہے۔ دائیں بازو کی جماعتیں ماضی کی انتخابی مہمات میں ایسے دلائل استعمال کرتی رہی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق، بارڈیلا کی جماعت آئندہ سال متوقع صدارتی انتخاب کی تیاری کر رہی ہے۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 20 اکتوبر، 2026Rogers Says Michigan Voters Worry About El-Sayed
  2. 20 اکتوبر، 2026ٹرمپ نے قومی سلامتی کے حوالے سے 12 ممالک پر سفری پابندی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے
  3. 20 اکتوبر، 202617 اکتوبر کی لوٹ مار کی نسلی تشکیل پر فرانس میں بحث بڑھ رہی ہے
  4. 20 اکتوبر، 2026France to deploy troops alongside police after weekend unrest

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج