مینیسوٹا کے نوجوان پر مال آف امریکا دہشت گردی کی سازش کا الزام، حراست میں رکھنے کا حکم
ایک وفاقی جج نے فیصلہ دیا ہے کہ مال آف امریکا پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں زیرِ حراست 18 سالہ مینیسوٹا کے نوجوان کو حراست میں ہی رکھا جائے گا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایک خفیہ ایف بی آئی ملازم سے AK-47 خریدی تھی۔

مِنیاپولس — وفاقی جج نے پیر کے روز فیصلہ دیا کہ مال آف امریکا میں دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں زیرِ حراست مینیسوٹا کے 18 سالہ نوجوان کو حراست میں ہی رکھا جائے گا، جیسا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے ایک خفیہ ایف بی آئی ملازم سے AK-47 خریدی تھی۔
مشتبہ شخص شیخ دون عبداللہی محمود ہے، جو امریکا میں پیدا ہوا امریکی شہری ہے اور صومالی نژاد ہے۔ امریکی مجسٹریٹ جج ڈلسی فوسٹر نے کہا کہ اسے رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ کمیونٹی کے لیے خطرہ ہے اور فرار ہونے کا خطرہ بھی رکھتا ہے۔
حکام کے مطابق محمود کو 6 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا، جب وہ ایک ایسے ایف بی آئی ملازم سے ملا جو خود کو اسلامک اسٹیٹ گروپ کا رکن ظاہر کر رہا تھا۔ حکام نے بتایا کہ اس نے ایک رائفل، 200 راؤنڈ گولہ بارود اور چار 30 راؤنڈ والے میگزین کے لیے 600 ڈالر ادا کیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ محمود کا منصوبہ 24 اکتوبر کو مال پر حملہ کرنے کا تھا۔ اسی روز مال میں مینیسوٹا کی سب سے بڑی ایشیائی نسلی برادری، ہمونگ کمیونٹی، کی ایک فنون کی تقریب منعقد ہونا تھی۔ محمود کو مِنیاپولس کے مضافات میں واقع ریچفیلڈ کے ایک عوامی پارک سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ رہائش پذیر تھا۔ یہ پارک مال سے کئی میل شمال مغرب میں ہے۔
امریکی اٹارنی کے معاون بنجمن بیجر نے سماعت میں بتایا کہ مشتبہ شخص جرم اور اسے داعش کی جانب سے انجام دینے کے لیے "100 فیصد پرعزم" تھا۔ ان کے مطابق یہ کیس "دہشت گرد حملے کے اتنا قریب تھا جتنا وہ پہنچ سکتا تھا۔"
ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ کیگن روپنتھل نے گواہی دی کہ محمود "زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔" روپنتھل نے کہا کہ نوجوان کا "حتمی مقصد شہید بننا تھا" اور اس نے گرفتاری کے دوران اسلامک اسٹیٹ گروپ کے رہنما سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔
محمود کی وکیل، مینی اٹوال، نے سماعت میں کہا کہ جب خفیہ مخبر نے پہلی بار اس سے رابطہ کیا تو ان کا مؤکل 16 سال کا تھا۔ ان کے مطابق اسلحے تک اس کی رسائی صرف ایف بی آئی کی فراہم کردہ چیزوں کے ذریعے ہی ممکن ہوئی۔ اٹوال نے درخواست کی تھی کہ اسے ہاف وے ہاؤس میں رکھا جائے، جی پی ایس کے ذریعے اس کی نگرانی کی جائے اور انٹرنیٹ تک رسائی روکی جائے۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے یہ درخواست منظور نہیں کی۔
روپنتھل نے بتایا کہ خفیہ مخبر نے محمود کو کئی مواقع پر بتایا کہ یہ حملہ سنجیدہ معاملہ ہے اور وہ اس سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ "اس نے کہا کہ وہ اسے کرنے کے لیے 100 فیصد پرعزم ہے اور اس پر کوئی دباؤ نہیں تھا،" روپنتھل نے گواہی میں کہا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کی اس نوعیت کی خفیہ کارروائیاں اکسانے کے مترادف ہو سکتی ہیں۔ بیورو نے ایسے متعدد آپریشنز کے ذریعے مبینہ حملوں کو ناکام بنایا ہے جن میں ایجنٹ دہشت گرد گروہوں کے حامی بن کر مشورے یا سازوسامان فراہم کرتے رہے۔ سماعت کی رپورٹنگ میں اکسائے جانے کے دفاع سے متعلق دلائل کا ذکر نہیں کیا گیا۔
پس منظر
محمود دسمبر 2024 سے ایف بی آئی کی نگاہ میں تھا، جب اس نے ایک خفیہ مخبر کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ شروع کیا۔ ایف بی آئی ایجنٹ روپنتھل کے حلفیہ بیان کے مطابق، جو فوجداری شکایت کی حمایت میں دیا گیا، اس نے سب سے پہلے الشباب عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑنے کے لیے صومالیہ جانے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ بعد ازاں اس نے کہا کہ اس کے پاس بیرون ملک سفر کے لیے کافی رقم نہیں ہے، اس لیے اس نے مینیسوٹا میں حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حلفیہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
مئی 2025 میں ایف بی آئی ایجنٹ محمود کے گھر گئے۔ اس کی والدہ نے انہیں بتایا کہ وہ ابھی اسکول سے واپس نہیں آیا۔ انہوں نے لڑکے کے والد کو فون کیا، جنہوں نے ایجنٹوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ان کے رابطے کی تفصیلات اپنے وکیل تک پہنچا دیں گے، شکایت میں یہ بات بتائی گئی ہے۔
مینیسوٹا میں دسیوں ہزار صومالی نژاد افراد رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے 1990 کی دہائی سے پناہ گزین کے طور پر یہاں آئے۔ برسوں کے دوران ریاست میں صومالی نژاد کئی افراد پر عسکری گروہوں میں شامل ہونے کی کوشش کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- wdbo.comen · 19 اکتوبر، 2026
- stcatharinesstandard.caen · 19 اکتوبر، 2026
- abcnews.comen · 19 اکتوبر، 2026
- dailycamera.comen · 19 اکتوبر، 2026
- wdtimes.comen · 19 اکتوبر، 2026
- dailygazette.comen · 19 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟