مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں کے الزام میں اسرائیلی پولیس کی گرفتاریاں، امریکی صحافی اور یورپی سفارت کاروں پر حملے
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مغربی کنارے میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد کے سلسلے میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ اور یورپی سفارت کاروں پر حملے بھی شامل ہیں۔ رپورٹوں میں اختلاف ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد آٹھ تھی یا دس۔

تل ابیب — اسرائیلی پولیس نے پیر کے روز کہا کہ اس نے مغربی کنارے میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد کی تحقیقات کے سلسلے میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ اور یورپی سفارت کاروں پر حملے بھی شامل ہیں۔ رپورٹوں میں اختلاف ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد آٹھ تھی یا دس۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے کہا کہ پوچھ گچھ کے لیے دس مشتبہ افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ الجزیرہ عربی اور العربیہ نے ٹیلی گرام پر اپنی پوسٹس میں یہ تعداد آٹھ بتائی۔ الجزیرہ کی پوسٹ میں انہیں ان حملوں سے منسلک آبادکار قرار دیا گیا۔ یہ پوسٹس غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا مواد ہیں۔ عرب نیوز کی ایک خلاصہ رپورٹ میں بھی آٹھ مشتبہ افراد کا ذکر ہے، اس لیے ذرائع میں تعداد کے بارے میں حتمی رائے موجود نہیں ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پولیس نے مشتبہ افراد کے نام نہیں بتائے اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان پر کون سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں۔
اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن گلاٹز نے رپورٹ کیا کہ مشتبہ افراد اسرائیلی شہری ہیں اور تحقیقات میں ملکی سلامتی کی ایجنسی شن بیٹ بھی حصہ لے رہی ہے، جیسا کہ عرب نیوز نے بتایا۔ یہ تفصیل ایک ہی ذریعے سے سامنے آئی ہے اور دستیاب مواد میں پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
دونوں حملے
جمعے کے روز نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں کو واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ اور امریکی شہری ہیدی لیوائن پر حملہ کرتے ہوئے فلمبند کیا گیا، عرب نیوز کے مطابق۔ وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کی کوریج کر رہی تھیں۔
ہفتے کے روز نقاب پوش آبادکاروں نے مغربی کنارے کے ایک اور علاقے میں یورپی سفارت کاروں اور ایک فرانسیسی میئر پر حملہ کیا، عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ یہ سفارت کار فرانس، بیلجیم اور پولینڈ سے تعلق رکھتے تھے۔
ردعمل
اس تشدد کی امریکہ نے مذمت کی، جو اسرائیل کا قریبی ترین اتحادی ہے، جبکہ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ نے بھی مذمت کی، عرب نیوز کے مطابق۔
وزیر خارجہ گدعون سار اور اسرائیلی فوج نے سفارت کاروں پر حملے کے لیے "اسرائیلی بلوائیوں" کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے زیادہ محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفارت کار "ایسے حساس علاقے میں داخل ہوئے جہاں اسرائیلی فوج کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی کے بغیر تصادم کی تاریخ ہے"۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیوائن پر حملے کے حقائق "واضح نہیں" ہیں۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی مخلوط حکومت 27 اکتوبر کے انتخابات میں اپنی حکومتی اکثریت کھونے کی توقع ہے۔
پس منظر
عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف مقدمات شاذ و نادر ہی چلائے جاتے ہیں۔ فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ییش دین کے مطابق 27 ستمبر سے اب تک کم از کم 170 حملے ریکارڈ ہوئے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق صحافیوں، اسرائیلی کارکنوں اور غیر ملکی مبصرین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع سے واضح نہیں ہو سکا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے کسی پر فرد جرم عائد ہوگی یا وہ ابھی تک حراست میں ہیں۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ ہر مشتبہ شخص کا کس واقعے سے تعلق ہے۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں وسیع جارحانہ کارروائیاں شروع کرے گا
- 18 اکتوبر، 2026مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے میں یورپی سفارت کار اور امریکی صحافی نشانہ بنے
- 19 اکتوبر، 2026مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں کے الزام میں اسرائیلی پولیس کی گرفتاریاں، امریکی صحافی اور یورپی سفارت کاروں پر حملے
- 19 اکتوبر، 2026فنڈز کی کمی کے باعث ورلڈ فوڈ پروگرام کی غزہ میں پانچ لاکھ افراد کی امداد بند
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Al Arabiya (Telegram)ar · 19 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 19 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 19 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 19 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟