Skip to content
Zenga News

مصر نے یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے معاملے پر کولمبیا کے سفارتی نمائندے کو طلب کر لیا

مصر کی وزارتِ خارجہ نے قاہرہ میں کولمبیا کے چارج دافیئرز کو طلب کیا اور یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے فیصلے پر احتجاج کیا، انڈونیشی خبر رساں ادارے انتارا نے ایک مصری ذریعے اور سرکاری خبر رساں ادارے MENA کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔

Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: The Al-Qibli Chapel , Part of Al-Aqsa Mosque , in the Old City of Jerusalem . Considered to be the third holiest site in Islam after Al-Masjid al-Haram and Al-Masjid an-Nabawi .
File photo: The Al-Qibli Chapel , Part of Al-Aqsa Mosque , in the Old City of Jerusalem . Considered to be the third holiest site in Islam after Al-Masjid al-Haram and Al-Masjid an-Nabawi . تصویر: Godot13 / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

قاہرہ — مصر کی وزارتِ خارجہ نے قاہرہ میں کولمبیا کے چارج دافیئرز کو طلب کیا تاکہ کولمبیا کے یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے فیصلے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔ انڈونیشی خبر رساں ادارے انتارا نے یہ خبر 18 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کی۔

انتارا کی رپورٹ ایک نامعلوم مصری ذریعے پر مبنی ہے جو "معاملے سے واقف" ہے۔ اس میں مشرق وسطیٰ کی خبر رساں ایجنسی (MENA) کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ زینگا نیوز نے ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، اور انتارا کی رپورٹ ہی اس مضمون کا واحد ماخذ ہے۔

مصر کا موقف

انتارا کے مطابق مصری ذریعے نے کہا کہ قاہرہ کولمبیا کے اس اقدام کو یکطرفہ قدم سمجھتا ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ذریعے کے مطابق یہ اقدام شہر کی قانونی اور تاریخی حیثیت سے متصادم ہے۔ ذریعے نے اسے متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی بھی قرار دیا۔

انتارا نے MENA کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ذریعے نے کہا ہے کہ یہ اقدام کالعدم اور باطل ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں۔

انتارا کے مطابق مصر نے کولمبیا کے نمائندے کو یہ بھی بتایا کہ ایسا قدم خطے میں امن و استحکام کی بین الاقوامی کوششوں پر منفی اثر ڈالے گا۔ ذریعے کے مطابق اس سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

ذریعے نے اس بات پر زور دیا کہ اس شہر کی قانونی اور تاریخی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے، جسے اس نے "مقبوضہ یروشلم" کہا، جیسا کہ انتارا نے رپورٹ کیا۔ اس نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ دو ریاستی حل پر مبنی امن کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

عرب لیگ کی قرارداد

انتارا کے مطابق طلبی کا اقدام گزشتہ ہفتے عرب لیگ کونسل کی جانب سے مستقل مندوبین کی سطح پر منظور کی گئی ایک قرارداد کے پیراگراف 10 کے بعد کیا گیا۔

انتارا کے بیان کے مطابق قرارداد میں عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک سے کہا گیا کہ وہ کولمبیا کے سفیر کو طلب کریں۔ مقصد یہ تھا کہ اس اقدام پر سرکاری احتجاج ریکارڈ کرایا جائے جسے قرارداد نے کولمبیا کا "غیر قانونی فیصلہ" قرار دیا، یعنی مقبوضہ یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کا فیصلہ، اور اس فیصلے کے کولمبیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر اثرات۔

انتارا کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا دیگر رکن ممالک نے کولمبیا کے سفارت کاروں کو طلب کیا ہے۔ اس میں کولمبیا کے فیصلے کی تاریخ یا سفارت خانے کے مجوزہ افتتاح کی تاریخ بھی درج نہیں۔ اس میں کولمبیا کی حکومت کا ردعمل بھی شامل نہیں ہے۔

پس منظر

انتارا کا مضمون یروشلم کے پرانے شہر میں مسجد اقصیٰ کی تصویر کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ ایجنسی کے متعلقہ مطالعے کے لنکس میں ایک الگ رپورٹ شامل ہے، جس کی سرخی کے مطابق انڈونیشیا نے کولمبیا کے یروشلم میں سفارت خانہ منتقل کرنے کے اقدام کی سخت مذمت کی۔ اس رپورٹ کا متن یہاں فراہم نہیں کیا گیا، اس لیے اس کے مندرجات بیان نہیں کیے جا سکتے۔

مصری ذریعے کا دو ریاستی حل کا حوالہ مصر کے اس موقف کی عکاسی کرتا ہے جو وہ پہلے بھی بیان کر چکا ہے۔ انتارا کی رپورٹ یروشلم کی حیثیت یا کولمبیا کے پہلے سفارتی انتظامات کے بارے میں مزید پس منظر فراہم نہیں کرتی۔

رپورٹ کا ترجمہ اسری مایانگ ساری نے کیا اور اس کی ادارت M Razi Rahman نے کی۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 18 اکتوبر، 2026غزہ سٹی میں ملبے سے نکالی گئی 75 لاشوں کی تدفین
  2. 18 اکتوبر، 2026غزہ میں اسرائیلی فائر سے 24 گھنٹوں کے اندر تین طلبا ہلاک، وزارت تعلیم کا دعویٰ
  3. 18 اکتوبر، 2026غزہ میں محاصرے کے دوران پانی کی قلت بڑھ گئی، تجارتی اشیا پر پابندیوں کا پانچواں دن
  4. 18 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے نمائندے کا اسرائیل سے غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو اجازت دینے کا مطالبہ

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج