مصری پارلیمان نے سعودی عرب کی حمایت پر ووٹ میں تاخیر کر دی، دفاعی کونسل کی منظوری کے بعد
مصر کی قومی دفاعی کونسل نے اتوار کے روز سعودی عرب کی حمایت کی منظوری دی، تاہم پارلیمان نے صدر سیسی کو کارروائی کا اختیار دینے کے فیصلے کو پیر تک مؤخر کر دیا، رائٹرز اور بی بی سی کے مطابق۔

قاہرہ — رائٹرز کے مطابق مصری پارلیمان نے اتوار کے روز سعودی عرب کو دفاعی نوعیت کی فوجی حمایت فراہم کرنے کے اختیار پر ووٹ مؤخر کر دیا، جب کہ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ قومی دفاعی کونسل کی جانب سے کنگڈم کی حمایت کی منظوری کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
مڈل ایسٹ آئی نے رائٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوان پیر کے روز دوبارہ بحث شروع کرے گا۔ یہ ووٹ صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر غور کے لیے بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد ہوا۔
دفاعی کونسل کا فیصلہ
بی بی سی کے مطابق قومی دفاعی کونسل نے اتوار کے روز حوثیوں کے حملوں کے پیش نظر سعودی عرب کے لیے "ہر طرح کی حمایت" کی منظوری دی۔ اس نے اس اقدام کو قاہرہ کی جانب سے کسی بھی کارروائی کے لیے درکار آئینی طریقۂ کار مکمل کرنے کا حصہ قرار دیا۔
لبیا اخبار نامی ویب سائٹ نے رپورٹ کیا کہ مصری صدارت نے سعودی عرب کی حمایت میں تین فیصلوں کا اعلان کیا۔ زenga نیوز کو دستیاب مواد میں یہ وضاحت نہیں کہ وہ فیصلے کیا ہیں، اور ان کی یہاں آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
بی بی سی کے مطابق ہفتے کے روز سیسی نے پارلیمان سے درخواست کی کہ اگر سعودی عرب مدد مانگے تو سعودی دفاع کے لیے "ضروری اقدامات" کا اختیار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی سلامتی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں مصر "تماشائی" بن کر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ بی بی سی کے مطابق انہوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی شمولیت کی نوعیت دفاعی ہوگی اور اس کا مقصد حملہ یا جنگ شروع کرنا نہیں ہوگا۔
ووٹ کا وقت
الشرق الاوسط کے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں، جس کی زenga نیوز نے تصدیق نہیں کی، کہا گیا کہ پارلیمان نے ہنگامی اجلاس ملتوی کیا اور اسے دو دن کے لیے بڑھا دیا۔ مڈل ایسٹ آئی کے حوالے سے رائٹرز نے پیر کے روز دوبارہ اجلاس کی طرف اشارہ کیا۔ دونوں بیانات میں توسیع کی مدت کے بارے میں اختلاف ہے۔
اس کے علاوہ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے فون پر بات کی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
شروق نیوز ویب سائٹ نے ایک سرخی شائع کی جس میں قومی دفاعی کونسل کے ایک سابق نائب سیکرٹری کا حوالہ دیا گیا، جن کے مطابق سعودی عرب کے لیے مصر کی حمایت دفاعی پہلو تک محدود ہوگی۔ مکمل متن دستیاب نہیں تھا۔
ردعمل اور تجزیہ
بی بی سی نے کئی تجزیہ کاروں سے بات کی۔ ان سب نے یمن کے اندر لڑائی کے لیے مصری فوجی بھیجنے کو مسترد کیا، تاہم دیگر فوجی حمایت کے ممکنہ دائرے پر ان کی رائے مختلف تھی۔
چیتھم ہاؤس کے احمد ابو دوح نے کہا کہ یہ اقدام مصری خارجہ پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں۔ ان کے مطابق یہ اس طرز عمل کا تسلسل ہے جو وسیع فوجی اتحادوں سے گریز کرتا ہے اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں یمن میں مصری فوجی مداخلت کی دوبارہ کوشش کو خارج از امکان قرار دیا۔
عرب فاؤنڈیشن برائے ترقی و اسٹریٹجک مطالعات کے سربراہ سمیر رагب نے کہا کہ مصر سعودی سرزمین کے اندر بحری، فضائی، فضائی دفاع اور حتیٰ کہ اسپیشل فورسز کی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ سابق رکن پارلیمان اور سیکیورٹی ماہر تامر الشہاوی کے مطابق مدد میں انٹیلی جنس شیئرنگ اور لاجسٹک، تربیتی اور تکنیکی تعاون شامل ہو سکتا ہے۔
سعودی فوج کے سابق میجر جنرل عبداللہ غانم القحطانی نے کہا کہ مصر سے درکار کردار بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے پاس پہلے ہی اپنے تحفظ کی صلاحیت اور اتحاد موجود ہیں، جن میں اگست میں ترکی اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاع کے لیے کیا گیا "مکہ معاہدہ" بھی شامل ہے، اگرچہ اسے ابھی تک فعال نہیں کیا گیا۔
اجلاس سے پہلے یمن کی حوثی حمایت یافتہ پارلیمان کے اسپیکر نے مصری پارلیمان کو ایک پیغام بھیجا۔
"ہم مصر کو ایسی جنگ میں گھسیٹنے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جو اس کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔" — حوثی حمایت یافتہ یمنی پارلیمان کے اسپیکر، بی بی سی کے حوالے سے
پس منظر
بی بی سی کے مطابق حالیہ hafta میں سعودی عرب پر حوثی حملوں میں شدت آئی ہے، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ارامکو کی تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں۔ اس نے بحیرہ احمر کی بحری تجارت، تجارت اور توانائی کی ترسیل کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا ذکر کیا۔
رагب نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں سیسی کے بیانات اس تفہیم کا نتیجہ ہیں جو ستمبر کے وسط میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قاہرہ کے دورے کے دوران طے پائی تھی۔ بی بی سی نے یہ رپورٹس بھی حوالہ دیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کی سعودی درخواست مسترد کر دی تھی، اور بعد میں انہوں نے اہداف کی شناخت اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں مدد کی پیشکش کی۔ زیرِ جائزہ مواد میں ان رپورٹس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Middle East Eyeen · 18 اکتوبر، 2026
- BBC News Arabicar · 18 اکتوبر، 2026
- Al Arabiya (Telegram)ar · 18 اکتوبر، 2026
- libyaakhbar.comar · 18 اکتوبر، 2026
- shorouknews.comar · 18 اکتوبر، 2026
- The Express Tribuneen · 18 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Mubasher (Telegram)ar · 18 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 18 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Mubasher (Telegram)ar · 18 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Mubasher (Telegram)ar · 18 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟