Skip to content
Zenga News

قطر کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں امن کا کوئی شریکِ کار نہیں

الجزیرہ کے ٹیلیگرام چینلز پر شائع ہونے والی پوسٹس کے مطابق قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ اسرائیل میں امن کے لیے کوئی شریکِ کار موجود نہیں۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: Ambassador of Bangladesh to Qatar, Mohammad Jassim Uddin, held a meeting with the Secretary General of the Qatar Ministry of Foreign Affairs, Dr. Ahmad Hassan Al-Hammadi, on Wednesday, November 18, 2020. The English description and title
File photo: Ambassador of Bangladesh to Qatar, Mohammad Jassim Uddin, held a meeting with the Secretary General of the Qatar Ministry of Foreign Affairs, Dr. Ahmad Hassan Al-Hammadi, on Wednesday, November 18, 2020. The English description and title تصویر: Press Information Department / Wikimedia Commons · Public domain

دوحہ — قطر کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ اسرائیل میں امن قائم کرنے کے لیے کوئی شریکِ کار موجود نہیں، یہ بات 20 اکتوبر 2026 کو الجزیرہ کے ٹیلیگرام چینلز پر شائع ہونے والی دو پوسٹس کے مطابق کہی گئی۔ ان پوسٹس کی تصدیق نہیں ہوئی اور ماخذ مواد میں قطر کا کوئی سرکاری بیان نہیں ملا۔

الجزیرہ عربی اور الجزیرہ مباشر کی ایک ایک پوسٹ میں عربی زبان میں ایک ہی بنیادی بات درج ہے۔ پہلی پوسٹ میں جس عربی لفظ کا استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ "افسوسناک" کیا گیا ہے، وہ ترجمان کی صورتِ حال پر رائے کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں میں سے کسی پوسٹ میں مکمل بیان کے الفاظ، ترجمان کا نام، یا وہ سیاق و سباق درج نہیں جس میں یہ بات کہی گئی۔

الجزیرہ عربی کی پوسٹ 07:41 UTC پر شائع ہوئی، جبکہ الجزیرہ مباشر کی پوسٹ اس کے بعد 07:38 UTC پر شائع ہوئی۔ دونوں پوسٹس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے۔ الجزیرہ عربی کی ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق اسرائیل میں "امن قائم کرنے" کے لیے کوئی شریکِ کار نہیں، جبکہ الجزیرہ مباشر کی پوسٹ کے مطابق اسرائیل میں کوئی ایسا شریکِ کار نہیں "جو امن قائم کرے"۔ دونوں پوسٹس اس بات کو ترجمان کا بیان قرار دیتی ہیں۔

ماخذ مواد میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس سوال یا واقعے کے نتیجے میں یہ بات کہی گئی۔ اس میں اسرائیلی حکومت، قطر کے دیگر حکام، یا دیگر ممالک کا کوئی ردِعمل بھی شامل نہیں۔ نیز یہ بھی واضح نہیں کہ ترجمان نے یہ بات پریس بریفنگ، انٹرویو یا تحریری بیان میں کہی۔

قطر نے حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، جن میں اسرائیل، حماس اور دیگر فریقین کے ساتھ مذاکرات شامل ہیں۔ تاہم اس رپورٹ کے ماخذ مواد میں ان کوششوں یا ان کی موجودہ حیثیت کی تفصیل نہیں دی گئی، اور یہ رپورٹ ماخذ سے باہر کوئی اضافی معلومات شامل نہیں کرتی۔

ترجمان کا مکمل بیان اور اس کا سیاق و سباق ابھی تک کسی سرکاری قطری بیان یا خود ان پوسٹس کے علاوہ کسی خبر رساں ادارے کے ذریعے تصدیق شدہ نہیں ہے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج