Skip to content
Zenga News

عراقچی: ایران قابلِ اعتماد ضمانتوں پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن جبر کو مسترد کرتا ہے

ایرانی وزیرِ خارجہ نے او آئی سی کے اجلاس میں کہا کہ تہران باہمی احترام اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر بات چیت کرے گا، ایک ایسی رپورٹ کے مطابق جس میں الجزیرہ اور IRNA کے حوالے دیے گئے ہیں۔

Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 4 منٹ مطالعہ
File photo: On Saturday, May 5, 2018, Prime Minister Sheikh Hasina met with the foreign ministers at the 45th Session of the Council of Foreign Ministers of the Organisation of Islamic Cooperation (OIC) held at the Bangabandhu International Conferenc
File photo: On Saturday, May 5, 2018, Prime Minister Sheikh Hasina met with the foreign ministers at the 45th Session of the Council of Foreign Ministers of the Organisation of Islamic Cooperation (OIC) held at the Bangabandhu International Conferenc تصویر: Press Information Department / Wikimedia Commons · Public domain

مشرقِ وسطیٰ — ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران قابلِ اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن جبر کو قبول نہیں کرتا، یہ بات news.webindia123.com کی 18 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں الجزیرہ کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عراقچی نے تنظیمِ اسلامی تعاون (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں خطاب کیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اجلاس کہاں منعقد ہوا۔

رپورٹ کے مطابق عراقچی نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر مختلف راستہ اختیار کیا۔ ان سے منسوب الفاظ یہ ہیں:

"امریکہ نے اس کے برعکس راستہ اپنایا: جارحیت، دھمکیاں، قتل اور معاشی جنگ، جس میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔" — عباس عراقچی، ایرانی وزیرِ خارجہ، جیسا کہ news.webindia123.com نے الجزیرہ کے حوالے سے رپورٹ کیا

رپورٹ کے مطابق عراقچی نے مزید کہا کہ ایران جبر، دھمکیوں یا خوف زدہ کرنے کے ہتھکنڈوں کو قبول نہیں کرتا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران دباؤ میں آ کر اپنے خودمختار حقوق سے دست بردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران باہمی احترام اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے کھلا ہے، رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے۔

ایران کے دیگر بیانات

اسی رپورٹ کے مطابق عراقچی نے او آئی سی اجلاس کے موقع پر عراق کے وزیرِ اعظم علی الزیدی سے ملاقات کی، جس کا حوالہ ایرانی خبر رساں ادارے IRNA کے حوالے سے دیا گیا ہے۔ IRNA کے مطابق، جیسا کہ رپورٹ میں نقل کیا گیا، انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ بار بار سفارتی عمل میں رکاوٹ ڈالتا رہا ہے۔

رپورٹ میں الجزیرہ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان دیا کہ تہران ان نام نہاد جارح ممالک کی زیادتیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔

رپورٹ کے مطابق نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے اس سے پہلے خطاب کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ بندی ضروری ہے، اور خبردار کیا کہ کسی بھی علاقے میں جاری لڑائی وسیع تر تنازع کو طول دے گی۔

رپورٹ میں IRNA کے حوالے سے، جس نے بدلے میں لبنان کے ٹیلی ویژن چینل المیادین کا حوالہ دیا، کہا گیا کہ خطیب زادہ نے لبنان کے بارے میں مزید بات کی۔ اس بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیل کی لبنان کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے بقول ایران نے اسی مقصد کو اسلام آباد یادداشتِ تفہیم میں حاصل کیا ہے، جس پر ایران اور امریکہ نے رواں سال جون کے وسط میں دستخط کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان ایران اور امریکہ کے درمیان زیرِ بحث اہم معاملات میں شامل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیروت کے دورے کے دوران انہوں نے دونوں فریقوں کو قریب لانے کی کوشش کی، رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایرانی پارلیمان نے مہرداد اخلاقی کتابچی کی ملک کے نئے وزیرِ دفاع کے طور پر تقرری کی منظوری دی۔ اس کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

امریکی ردِعمل

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز (مقامی وقت کے مطابق) کینٹکی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس نتیجے کو ملکی ایندھن کی قیمتوں سے جوڑا اور کہا کہ جنگ کے خاتمے سے امریکی صارفین کے لیے توانائی کے اخراجات کم ہوں گے۔

"یہ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ جب یہ ختم ہوگی تو آپ کی گیس کی قیمتیں اس سے کم ہوں گی جتنی پہلے تھیں،" ٹرمپ نے کہا، جیسا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے، جو خبر رساں ادارے ANI سے منسوب کی گئی ہے۔

کیا تصدیق شدہ نہیں ہے

یہ رپورٹ ان بیانات کا واحد ماخذ ہے۔ یہ الجزیرہ، IRNA اور المیادین پر انحصار کرتی ہے، اور زنگا نیوز نے ان بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ رپورٹ میں عراقچی کے بیانات پر امریکی حکومت کا کوئی ردِعمل شامل نہیں۔ اس نے خطیب زادہ سے منسوب نکات کے علاوہ اسلام آباد یادداشت کی شرائط بیان نہیں کیں۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ایران کن ضمانتوں کا تقاضا کرے گا۔

پس منظر

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ نے جون کے وسط میں اسلام آباد یادداشتِ تفہیم پر دستخط کیے۔ رپورٹ میں ایک جاری جنگ کا ذکر ہے جس میں ایران شامل ہے، اور لبنان کے خلاف ایک الگ اسرائیلی جنگ کا ذکر ہے جسے ختم کرنے کی ایرانی حکام خواہش رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں ان میں سے کسی بھی تنازع کے پس منظر یا ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج