Skip to content
Zenga News

عراقچی اور مصری ہم منصب کے درمیان کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیال

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ایک ٹیلی گرام پوسٹ کے مطابق کشیدگی میں کمی پر بات چیت کی۔ اب تک کسی سرکاری بیان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: IAEA Director General Rafael Mariano Grossi met with HE Dr. Seyed Abbas Araghchi, Deputy Foreign Minister for Political Affairs of the Islamic Republic of Iran during his official visit at the Agency headquarters in Vienna, Austria. 6 May
File photo: IAEA Director General Rafael Mariano Grossi met with HE Dr. Seyed Abbas Araghchi, Deputy Foreign Minister for Political Affairs of the Islamic Republic of Iran during his official visit at the Agency headquarters in Vienna, Austria. 6 May تصویر: IAEA Imagebank / Wikimedia Commons · CC BY 2.0

تہران — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، الجزیرہ عربی کی ٹیلی گرام پوسٹ کے مطابق۔ پوسٹ میں ایرانی وزارت خارجہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رابطے کی تاریخ 18 اکتوبر 2026 بتائی گئی ہے۔

ٹیلی گرام پوسٹ میں گفتگو کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ جائزہ لیے گئے ذرائع میں سے کسی نے بھی ایرانی وزارت خارجہ یا مصری وزارت خارجہ کا اس رابطے پر بیان شائع نہیں کیا۔ الجزیرہ عربی کی پوسٹ کی تصدیق نہیں ہوئی، اور گفتگو کا بیان صرف اسی ایک رپورٹ پر مبنی ہے۔

الگ سے، مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا کہ عبدالعاطی نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے ساتھ فون پر گفتگو میں خطے کی صورت حال اور کشیدگی میں کمی کی اہمیت پر بات کی۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق عبدالعاطی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا۔ یہ رابطہ ایک الگ رابطہ ہے اور ایرانی رپورٹ کا حصہ نہیں ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں ایران کا ذکر نہیں تھا۔

مڈل ایسٹ آئی نے یہ بھی کہا کہ مصر کی پارلیمان نے جاری حوثی حملوں کے پیش نظر سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ مؤخر کر دی ہے۔ جائزہ لیے گئے ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ آیا یہ ووٹنگ ایران یا سعودی عرب کے ساتھ سفارتی رابطوں سے جڑی ہے یا نہیں۔

ذرائع سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عراقچی اور عبدالعاطی پہلے بھی بات کر چکے ہیں یا نہیں، اور آیا ایران کے ساتھ رابطہ فون کال تھا یا ملاقات۔ کشیدگی میں کمی کے لیے کسی مخصوص اقدام کی اطلاع نہیں ملی۔

پس منظر

مصر اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں میں سفارتی رابطے رہے ہیں، اور اس عرصے میں عراقچی ایرانی وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ جائزہ لیے گئے ذرائع موجودہ رابطوں کے بارے میں مزید پس منظر فراہم نہیں کرتے۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق خطے میں حوثی حملے جاری ہیں۔ جائزہ لیے گئے ذرائع ان حملوں کے پیمانے یا مقام کی تفصیل نہیں دیتے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج