سعودی کابینہ کا توانائی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور
سعودی کابینہ نے توانائی کے تحفظ، تجارت اور سمندری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا، اور مملکت پر حوثی حملوں کی مذمت کی۔

ریاض — شاہ سلمان کی صدارت میں سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کے روز علاقائی کشیدگی کے دوران عالمی توانائی کے تحفظ، تجارت، سپلائی چینز اور سمندری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا، جیسا کہ سعودی پریس ایجنسی (SPA) نے بتایا اور عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔
کابینہ نے مملکت کے شہری مقامات، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔ اس نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں آمد و رفت کو درپیش جاری خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا، جیسا کہ SPA نے بتایا۔ ماخذی مواد میں حملوں کی تاریخیں، مقامات یا ہلاکتوں کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔
کابینہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 اور اس کے بعد کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ اس نے حوثیوں کو ہتھیار اور دیگر مدد حاصل کرنے سے روکنے کے لیے عملی تعاون پر بھی زور دیا۔
ایک الگ معاملے میں، کابینہ نے تنظیم تعاون اسلامی کی سائبر سکیورٹی وزرا کونسل کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ کابینہ کے مطابق، ریاض کو اس کے سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو دفتر کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جیسا کہ عرب نیوز نے بتایا۔
کابینہ نے ریاض اکنامک فورم کی سفارشات کو بھی سراہا۔ اس نے کہا کہ سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2024 کے مقابلے میں 2025 میں 33.5 فیصد بڑھی۔ اس نے اس اضافے کو وژن 2030 کے تحت مملکت کی معاشی اصلاحات سے جوڑا۔
العربیہ نے کابینہ کے بیان کا خلاصہ ٹیلیگرام پر اس سرخی کے ساتھ شائع کیا کہ توانائی کا تحفظ اور آمد و رفت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے بین الاقوامی تعاون درکار ہے۔ یہ پوسٹ غیر تصدیق شدہ ہے اور اسے یہاں صرف سوشل میڈیا رپورٹ کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ ٹیلیگرام پوسٹ میں حوثی حملوں یا قرارداد 2216 کے مطالبے کی تفصیلات شامل نہیں تھیں، اور ماخذی مواد میں کابینہ کے اجلاس کا کوئی آزادانہ بیان موجود نہیں۔
پس منظر
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2015 میں قرارداد 2216 منظور کی تھی۔ یہ یمن سے متعلق ہے اور اس میں حوثیوں پر اسلحے کی پابندی شامل ہے، جیسا کہ قرارداد کے متن میں درج ہے۔ ماخذی مواد میں کابینہ کے بیان کے علاوہ حوثی حملوں کی موجودہ صورت حال یا بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے حالات کی تفصیل نہیں دی گئی۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کابینہ بیان میں ان راستوں کو درپیش خطرات کا ذکر علاقائی کشیدگی کے ایک دور کے بعد آیا ہے۔
ریاض اکنامک فورم سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والا سالانہ اجلاس ہے۔ ماخذی مواد میں فورم کی تاریخ یا اس کے 2026 کے ایجنڈے کا ذکر نہیں۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟