روس خلیج تعاون کونسل کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں مکمل پیمانے کی جنگ کی واپسی روکنا ہے
روسی وزیرِ خارجہ سergey لاوروف نے کہا کہ ماسکو خلیج تعاون کونسل کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد مکمل پیمانے کی جنگ کی واپسی روکنا ہے۔ انھوں نے یہ بات اتوار کو بحرین میں ہونے والے مذاکرات میں کہی۔

منامہ — روسی وزیرِ خارجہ سergey لاوروف نے اتوار کو کہا کہ ماسکو خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں مکمل پیمانے کی جنگ کی واپسی روکنا ہے۔ انھوں نے یہ بات بحرین میں روس-GCC اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے نویں وزارتی اجلاس میں کہی، جیسا کہ انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے۔
لاوروف نے خلیج میں اجتماعی سلامتی کے لیے ایک تازہ شدہ تصور پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس تجویز کی پچھلی شکلوں پر کئی دہائیوں تک خلیج کے رکن ممالک کے سیاسی، تعلیمی اور ماہرین کے حلقوں میں بات چیت ہوتی رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ خلیج سے متصل ممالک کو اس خطے کی سلامتی یقینی بنانے کے طریقے طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔ انھوں نے خلیجی ریاستوں اور عراق و اردن سمیت پڑوسی ممالک کے درمیان براہِ راست مکالمے پر بھی زور دیا۔
"ہمارا تصور اسی مقصد کے لیے ہے، اور — جیسا کہ آپ جانتے ہیں — ہم ایسے حالات پیدا کرنے میں خطے سے باہر کے فریقوں کو شامل کرنے کی تجویز دیتے ہیں، جن میں عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی قیادت شامل ہے، نیز — اگر آپ کی دلچسپی ہو — اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان، تاکہ اس عمل کو مضبوط بنانے میں مدد ملے،" لاوروف نے کہا۔
لاوروف نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ماسکو کی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دیا۔ انھوں نے بڑھتے ہوئے معاشی تعاون اور باقاعدہ اعلیٰ سطحی رابطوں کی طرف اشارہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ روس اور GCC کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم گزشتہ سال 45 فیصد بڑھا۔ انھوں نے کہا کہ تعاون 2023 سے 2028 تک کے ایک مشترکہ عملی منصوبے کے تحت جاری ہے۔
انھوں نے کہا، "ہمارے معاشی تعاون کی مؤثریت کا بڑی حد تک انحصار خطے کے استحکام پر ہے۔"
لاوروف نے یہ بھی کہا کہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کونسلوں کو علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے تجارتی، معاشی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی پر مبنی تعلقات بھی وسیع ہوتے ہیں۔
غیر تصدیق شدہ تفصیلات
ٹیلی گرام پر الجزیرہ عربی کی ایک پوسٹ میں ایک سرخی شائع ہوئی جس میں لاوروف کے حوالے سے کہا گیا کہ ماسکو GCC ریاستوں کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھنے کی ضرورت کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ پوسٹ تصدیق شدہ نہیں ہے، اور اس کے الفاظ تقریر کی رپورٹوں سے مختلف ہیں۔ ٹیلی گرام پوسٹ میں مکمل بیانات شامل نہیں تھے۔
رپورٹوں میں اس تجویز پر GCC کے رکن ممالک کا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ کسی GCC حکومت نے اس تصور کو قبول یا مسترد کیا ہے۔ لاوروف کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے علاوہ تجویز کی مخصوص شرائط کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
پس منظر
روس-GCC اسٹریٹجک ڈائیلاگ وزرا کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت کا ایک فورم ہے۔ انادولو ایجنسی کے مطابق بحرین میں ہونے والا اجلاس اس کا نواں وزارتی اجلاس تھا۔
خلیج تعاون کونسل میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ لاوروف کے بیانات خلیج اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی سے متعلق جاری وسیع بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ ذرائع نے ان واقعات کی تفصیل نہیں دی جن کی وجہ سے مکمل پیمانے کی جنگ کی واپسی کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی۔
انٹارا نے اسی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ دونوں فریق 2023 سے 2028 کے مشترکہ عملی منصوبے کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انٹارا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ لاوروف نے عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور، دلچسپی ہونے کی صورت میں، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو شامل کرنے کی تجویز دی۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 18 اکتوبر، 2026
- Antaraid · 18 اکتوبر، 2026
- Anadolu Agencyen · 18 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟