Skip to content
Zenga News

حوثیوں نے لہج کے محاذ پر لڑائی کے دوران مآرب پر چار بیلسٹک میزائل داغے

یمن کے حوثیوں نے پیر کی شب دیر گئے حکومت کے زیرِ کنٹرول شہر مآرب پر چار بیلسٹک میزائل داغے، مقامی حکام نے بتایا۔ حکومتی افواج نے لہج گورنorate میں حوثیوں کے ایک الگ حملے کو پسپا کرنے کی اطلاع دی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: صورة جوية لمدينة مأرب. (تصوير: بدرالدين الشهاري)
File photo: صورة جوية لمدينة مأرب. (تصوير: بدرالدين الشهاري) تصویر: بدرالدين الشهاري / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

مآرب، یمن — یمن کے حوثی گروپ نے پیر کی شب دیر گئے حکومت کے زیرِ کنٹرول شہر مآرب پر چار بیلسٹک میزائل داغے، مقامی حکام اور فوجی عہدیداروں نے بتایا۔ فوج نے جنوب میں لہج گورنorate میں حوثیوں کے ایک الگ حملے کو پسپا کرنے کی اطلاع بھی دی ہے۔

مآرب کی مقامی حکومت کے مطابق میزائل گنجان آباد شہر کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے، جہاں بڑی تعداد میں بے گھر افراد مقیم ہیں۔ حکام نے جانی نقصان یا املاک کے نقصان کے بارے میں فوری تفصیلات نہیں دیں۔

فوج کے مطابق اس کی افواج نے لہج کے مغربی حصے میں کہبوب محاذ پر حوثیوں کے حملے کو پسپا کیا۔ فوج سے منسلک ساؤدرن جائنٹس بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا کہ حوثی جنگجوؤں نے یکے بعد دیگرے حملے کیے، جس کے نتیجے میں مختلف ہتھیاروں کے ساتھ گھنٹوں جھڑپیں ہوئیں۔ بیان کے مطابق سعودی قیادت میں اتحاد کی حمایت سے حکومتی افواج نے حملہ آوروں کو پیچھے hટنے پر مجبور کر دیا۔ بریگیڈز کا کہنا تھا کہ حوثی جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے اور فوجی سازوسامان تباہ ہوا۔ ان نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

حوثی گروپ نے زیرِ جائزہ ذرائع میں ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

الarabiya کے زیرِ انتظام ایک ٹیلی گرام چینل نے ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان کئی محاذوں پر جھڑپیں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ پوسٹ میں اس کارروائی کو "فجرِ یمن" قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ جاری ہے۔ چینل نے تفصیلات فراہم نہیں کیں، اور اس دعوے کی کسی خبررساں ادارے یا سرکاری بیان نے تصدیق نہیں کی۔

ذرائع سے واضح نہیں کہ مآرب اور لہج کے حملے آپس میں منسلک تھے یا نہیں۔ ذرائع یہ بھی نہیں بتاتے کہ اس کے بعد مزید حملے ہوئے یا نہیں۔

پس منظر

یمن اس وقت سے تنازع کا شکار ہے جب 2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء اور کئی گورنریٹس پر قبضہ کر لیا۔ اگلے سال سعودی قیادت میں اتحاد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کرتے ہوئے میدان میں اترا۔

انادولو ایجنسی کے مطابق تازہ ترین لڑائی جولائی میں اس وقت شروع ہوئی جب 2022 میں اقوامِ متحدہ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی ٹوٹ گئی۔

مآرب پر حملے پہلے کی رپورٹس کے بعد ہو رہے ہیں۔ پیر کے حملے سے ایک روز قبل مقامی حکام نے بتایا تھا کہ حوثیوں نے مآرب پر آٹھ بیلسٹک میزائل داغے، تاہم ممکنہ نقصانات کی معلومات نہیں دی گئیں۔ 15 اکتوبر کو گورنریٹ نے حوثیوں کے ایک حملے کی اطلاع دی جس میں نو بیلسٹک میزائل اور سات دیگر پروجیکٹائلز رہائشی محلوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے۔

مآرب حکومت کا ایک اہم گڑھ اور تیل و گیس کی پیداوار کا مرکز ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہاں 22 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد مقیم ہیں۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 20 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کا محصور تعز تک امدادی رسائی دینے کا مطالبہ
  2. 20 اکتوبر، 2026یمن میں جاری لڑائی سے 30 لاکھ افراد کی خدمات متاثر ہونے کا یونیسف کا دعویٰ
  3. 20 اکتوبر، 2026سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض کی طرف داغا گیا حوثی میزائل روک لیا

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج