ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کا متن پارلیمان میں پیش کر دیا
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ترک حکومت نے منگل کے روز معاہدۂ دفاعِ مکہ کا متن پارلیمان کو بھیجا، جس کے بارے میں اس ادارے کا دعویٰ ہے کہ اسے مکمل متن خصوصی طور پر حاصل ہوا ہے۔

انقرہ — ترک حکومت نے منگل کے روز معاہدۂ دفاعِ مکہ کا متن ترک پارلیمان میں پیش کیا، مڈل ایسٹ آئی کے مطابق۔ یہ معاہدہ اگست میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے مل کر دستخط کیا تھا۔
مڈل ایسٹ آئی کا کہنا ہے کہ اسے معاہدے کا مکمل متن خصوصی طور پر حاصل ہوا۔ اس رپورٹ کی تمام تفصیلات اسی ادارے کے بیان پر مبنی ہیں۔ زینگا نیوز نے اس دستاویز کو آزادانہ طور پر نہیں دیکھا ہے۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
معاہدے میں کیا ہے
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق یہ معاہدہ ایک نئے بین الاقوامی دفاعی اتحاد کو قائم کرتا ہے۔ اس کے تحت تینوں دستخط کنندگان ایک دوسرے کے دفاع کے پابند ہوتے ہیں۔ ادارے نے اس انتظام کا موازنہ شمالی اटلانٹک معاہدے کی آرٹیکل 5 سے کیا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی نے بتایا کہ متن میں کسی خاص ملک یا خطے کو خطرے کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے دستاویز پر زور دیا گیا ہے کہ اگر کسی شریک ملک کی آزادی، خودمختاری یا علاقائی سالمیت پر مسلح حملہ ہو تو تمام شریک ممالک ایک دوسرے کی مدد کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔
ادارے نے معاہدے کے پہلے آرٹیکل کا حوالہ دیا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
"اگر فریقین میں سے کسی کی علاقائی سالمیت، خودمختاری، یا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو خطرہ لاحق ہو یا خطرے میں ڈالا جائے، تو 'فریقین' ایسے خطرے یا خطرات کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے۔" — مکہ دفاعی معاہدے کا آرٹیکل 1، جیسا کہ مڈل ایسٹ آئی نے نقل کیا
کیا تصدیق شدہ نہیں ہے
مڈل ایسٹ آئی کی فراہم کردہ معلومات میں متن یا اس کی پارلیمان میں پیشی پر ترک، سعودی یا پاکستانی حکومتوں کا کوئی تبصرہ شامل نہیں ہے۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ باقی دو ملکوں نے یہ معاہدہ اپنی مقننہ کو بھیجا ہے یا نہیں۔
ذریعے میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ترک پارلیمان آگے کیا اقدام کرے گی یا ووٹنگ کب ہو سکتی ہے۔ نیز اگست میں معاہدے پر دستخط کی درست تاریخ، یا معاہدے کا نام چھوڑ کر دستخط کی جگہ، بھی نہیں دی گئی۔
مڈل ایسٹ آئی کے خلاصے کے مطابق معاہدے کے فریق باہمی دفاع کے پابند ہیں۔ تاہم دستیاب اقتباس یہ نہیں بتاتا کہ یہ وعدہ عملی طور پر کیسے کام کرے گا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ فریق کون سے "ضروری ذرائع" استعمال کر سکتے ہیں، یا آیا کسی مشترکہ کمان یا فوجی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
پس منظر
اس معاہدے کا نام مکہ سے منسوب ہے۔ مڈل ایسٹ آئی نے اسے اگست میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دستخط کردہ ایک دفاعی اتحاد کے طور پر بیان کیا ہے۔ ادارے کا شمالی اٹلانٹک معاہدے کی آرٹیکل 5 سے موازنہ اس اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس معاہدے میں کسی ایک رکن پر حملہ سب کے خلاف حملہ سمجھا جاتا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق متن کسی ریاست کو مخالف کے طور پر نامزد کرنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ وعدہ آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات سے متعلق عمومی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی نے یہ رپورٹ منگل کے روز اپنے لائیو بلاگ میں اس سرخی کے ساتھ شائع کی: "خصوصی: ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دستخط کردہ مکہ دفاعی معاہدے کا مکمل متن"۔ تحریر کے وقت معاہدے کی مزید تفصیلات، اور تینوں حکومتوں کا کوئی سرکاری ردِعمل، ذرائع میں دستیاب نہیں تھا۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟