Skip to content
Zenga News

بن گویر کا کہنا ہے کہ پولیس نے تل شیبہ کی مسجد پر اذان کے شور پر جرمانہ کیا

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ پولیس نے تل شیبہ کی ایک مسجد پر اذان کے شور کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا ہے، اور انہوں نے مزید پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: Tel Be'er Sheva
File photo: Tel Be'er Sheva تصویر: Oren Rozen / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

تل شیبہ، اسرائیل — اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اتوار کو ایکس پر کہا کہ پولیس نے تل شیبہ کی ایک مسجد پر قانونی حد سے زیادہ شور کرنے پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ رپورٹس میں جرمانے کی صحیح تاریخ یا رقم کا ذکر نہیں کیا گیا۔

بن گویر کے مطابق پولیس مسجد میں گئی، جانچ پڑتال کی اور خلاف ورزی کا ریکارڈ تیار کیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف تل شیبہ تک محدود نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ اس پالیسی کے تحت پورے اسرائیل میں نافذ کی جا رہی ہے جس کی قیادت وہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا: "میرے عہدہ سنبھالنے کے بعد میں نے پالیسی بدلی۔ ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔" انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے نئے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

ایکس پر ایک الگ بیان میں بن گویر نے کہا کہ انہیں مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکرز سے آنے والے "غیر منطقی شور" کو کم کرنے کی پالیسی کی قیادت کرنے پر فخر ہے، جو اسرائیلی عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے دلیل دی ہے کہ مغربی ممالک اور کچھ عرب ممالک نے اذان پر پابندیاں عائد کی ہیں، اور وہ اسرائیل میں بھی ایسی ہی پابندی لانا چاہتے ہیں۔

تل شیبہ جنوبی اسرائیل کا ایک شہر ہے۔ رپورٹس اسے ایسی جگہ کے طور پر بیان کرتی ہیں جہاں عرب اور یہودی ایک ساتھ رہتے ہیں۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مسجد نے جرمانے پر کوئی ردعمل دیا ہے یا وہ اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹس میں جرمانے کی تاریخ نہیں دی گئی۔ ماخذ مواد سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جرمانہ ادا کیا گیا ہے یا نہیں، اس کی رقم کتنی ہے، یا آیا اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اس پالیسی کے تحت کتنی دوسری مساجد پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹس میں تل شیبہ کے رہائشیوں، مقامی مذہبی رہنماؤں یا پولیس کا ردعمل شامل نہیں ہے۔

پس منظر

رپورٹس کے مطابق دسمبر 2024 میں بن گویر نے مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکرز ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کے کہنے کے مطابق یہ حکم ان شہروں کی مساجد پر لاگو ہوتا ہے جہاں عرب اور یہودی ایک ساتھ رہتے ہیں۔

بن گویر جیوش پاور پارٹی کے رہنما ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس جماعت نے ملک بھر میں اذان پر پابندی کے لیے کنیسٹ میں ایک نیا بل پیش کیا ہے۔ یہ بل اتوار، 31 مئی کو ایک کمیٹی سے منظور ہوا اور مزید بحث کے لیے کنیسٹ کو بھیج دیا گیا۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس بل پر ووٹنگ کب متوقع ہے۔

بن گویر ایک انتہا پسند دائیں بازو کے سیاستدان ہیں۔ ترکی کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ان کی پالیسیاں اسرائیل میں مخلوط شہروں میں شور کے قوانین اور مذہبی عمل سے متعلق وسیع بحث کا حصہ ہیں۔ اسرائیلی حکام نے ماخذ مواد میں شامل رپورٹس پر عوامی طور پر ردعمل نہیں دیا ہے۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 19 اکتوبر، 2026مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی: ربی کا فتویٰ اور حملے
  2. 19 اکتوبر، 2026اسرائیلی فورسز مغربی کنارے میں چھاپوں کے دوران درجنوں افراد کو حراست میں لے رہی ہیں، آبادکاروں کے حملوں کی اطلاعات
  3. 19 اکتوبر، 2026عرب لیگ: غزہ کی پٹی فلسطینی آزاد ریاست کا حصہ رہنی چاہیے
  4. 19 اکتوبر، 2026بن گویر کا کہنا ہے کہ پولیس نے تل شیبہ کی مسجد پر اذان کے شور پر جرمانہ کیا

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج