Skip to content
Zenga News

ایران نے اقوام متحدہ کی پابندی شدہ میزائل سربراہ کو وزیر دفاع نامزد کر دیا

ایرانی پارلیمان نے 18 اکتوبر کو مہرداد اخلاقی کتابچی کو وزیر دفاع کے طور پر منظور کیا، آئرش سن کے مطابق۔ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے سبب اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Iran Parliament
File photo: Iran Parliament تصویر: مانفی / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

تہران — ایرانی پارلیمان نے 18 اکتوبر کو مہرداد اخلاقی کتابچی کو ملک کے نئے وزیر دفاع کے طور پر منظور کر لیا، آئرش سن کے مطابق، جس نے ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے حوالے دیے۔ رپورٹ کے مطابق آن لائن پارلیمانی اجلاس میں ڈالے گئے 277 ووٹوں میں سے انہیں 237 ووٹ حمایت میں اور 15 مخالفت میں ملے۔

آئرش سن کے مطابق اخلاقی اس سے قبل ایرو اسپیس انڈسٹریز آرگنائزیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ایران کے دفاعی شعبے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ رپورٹ میں انہیں ملک کی دفاعی صنعت کا تجربہ کار شخص قرار دیا گیا ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق ان کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ فہرست میں انہیں شہید باقری انڈسٹریل گروپ کا سابق سربراہ بتایا گیا ہے، جسے رپورٹ کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں کردار کی بنا پر نامزد کیا گیا تھا۔ آئرش سن کے مطابق انہیں 2007 میں سلامتی کونسل کی قرارداد 1737 کے تحت اقدامات کے ساتھ فہرست میں شامل کیا گیا، جو 2006 میں منظور ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے بھی ان کے میزائل سے متعلق سرگرمیوں پر ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ووٹنگ سے پہلے اخلاقی نے قانون سازوں سے خطاب کیا۔ آئرش سن کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے مزید حملہ کیا تو ایران سخت جواب دے گا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ جواب "حیران کن اور وسیع" ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق اخلاقی نے عزیز ناصرزادہ کی جگہ لی ہے، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔ ناصرزادہ کی موت کے بعد مجید ابن الرضا عبوری وزیر دفاع کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اسی ذریعے کے مطابق۔

آئرش سن نے دیگر کئی امور بھی رپورٹ کیے۔ تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے سابق طلبہ تعلقات دفتر کے سربراہ سیدعلی منصور گتمیری نے ایرانی خبر رساں ادارے ISNA کو بتایا کہ برسوں کے دوران 10,000 سے زائد فارغ التحصیل طلبہ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے اسے سرکاری شمار نہیں بلکہ ایک تخمینہ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کے 150,000 سے زائد فارغ التحصیل طلبہ ہیں، لیکن اس کے پاس تقریباً 60,000 سے 65,000 کے رابطہ کوائف ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 17 اکتوبر کو سی بی ایس نیوز کے ٹاؤن ہال میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل کی ہے، تاہم اسے ضمانتوں کی ضرورت ہے کہ تہران اسے دوبارہ تعمیر نہ کرے۔ رپورٹ کے مطابق وینس نے کہا "کچھ حوالوں سے ہم نے فیصلہ کن فتح حاصل کی ہے، لیکن ایرانی، یعنی دشمن، اس میں بھی اپنی رائے رکھتا ہے۔" انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ جہاز رانی پر حملے اور آبنائے ہرمز میں خلل عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ ہیں۔

آئرش سن نے کہا کہ رائٹرز نے 16 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران نے محدود مقدار میں مائع پٹرولیم گیس اور جیٹ ایندھن کی برآمد جاری رکھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے توانائی کی تنصیبات سمیت ایرانی بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی دی۔

رپورٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اخلاقی کی تقرری ایران کے میزائل پروگرام یا اس کی دفاعی پالیسی پر کیسے اثر انداز ہوگی۔ رپورٹ نے وینس یا کاٹز کے دعووں کا کوئی آزادانہ جائزہ بھی پیش نہیں کیا۔

پس منظر

آئرش سن کے مطابق ایران کی اسلامی جمہوریہ فروری میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت، اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے نقصان، جنگ، معاشی بحران اور عوامی بے چینی کے باوجود قائم رہی ہے۔ مضمون اس تجزیے کی مکمل وجوہات بیان کرنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔

رپورٹ میں حوالہ دی گئی سلامتی کونسل کی پابندیاں 2006 اور 2007 میں ایران کی جوہری اور میزائل سرگرمیوں کے جواب میں منظور کی گئی تھیں۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ اخلاقی کی تقرری ان پر لاگو کسی پابندی کو تبدیل کرے گی یا نہیں۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج