اسرائیلی ڈرون حملوں میں غزہ بھر میں چھ فلسطینی ہلاک، طبی کارکنوں کا کہنا ہے
طبی اور ہنگامی امدادی کارکنوں کے مطابق ہفتے کے روز شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ میں ڈرون حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے ایک سال بعد ہوئے ہیں۔

غزہ سٹی — الجزیرہ کے حوالے سے فلسطینی طبی اور ہنگامی امدادی کارکنوں کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی ڈرون حملوں میں غزہ کی پٹی بھر میں کم از کم چھ فلسطینی ہلاک ہوئے۔ یہ حملے جنگ بندی کے اعلان کے ایک سال بعد ہوئے ہیں۔
حملے علاقے کے شمالی، وسطی اور جنوبی حصوں میں ہوئے۔ الجزیرہ نے ان انفرادی حملوں سے متعلق کسی اسرائیلی بیان کی اطلاع نہیں دی۔ زیرِ جائزہ مواد میں ان حملوں کے حوالے سے اسرائیلی فوج کا کوئی بیان نقل نہیں کیا گیا۔
جہاں حملے رپورٹ ہوئے
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے مغرب میں الفالوجہ قبرستان کے قریب ایک ڈرون نے شہریوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا، جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔
وفا نے یہ بھی بتایا کہ رفح کے علاقے المواصی میں ایک ڈرون حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔
اس سے قبل شمال مشرقی غزہ سٹی کے تفاح محلے میں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، جیسا کہ الشفا ہسپتال کے عملے نے بتایا۔ عینی شاہدین نے الجزیرہ کو بتایا کہ نشانہ بننے والے افراد پہلے حملے کے ایک متاثرہ شخص کی تدفین سے واپس آ رہے تھے۔
الشفا ہسپتال نے بتایا کہ مشرقی غزہ سٹی میں ایک اور شخص ڈرون حملے میں ہلاک ہوا۔ وسطی غزہ میں الاقصیٰ شہداء ہسپتال کے عملے نے دیر البلح میں ایک شخص کے ہلاک اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
مڈل ایسٹ آئی نے اتوار کو الجزیرہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس میں ایک فلسطینی شخص کو ہلاک کیا۔ اس کے مطابق یہ واقعہ غزہ سٹی کے مغرب میں ایک ڈرون حملے کے بعد پیش آیا، جس میں چار فلسطینی زخمی ہوئے تھے۔ مڈل ایسٹ آئی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ واقعات ہفتے کے روز رپورٹ ہونے والی چھ ہلاکتوں سے جڑے ہوئے تھے۔
ہلاکتوں کے اعداد و شمار
ہفتے کو جاری کی گئی ایک تازہ اطلاع میں غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا کہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے 1,511 فلسطینی ہلاک اور 5,375 زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران چھ ہلاکتوں اور 43 زخمیوں کی اطلاع دی۔
وزارت نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے 74,469 فلسطینی ہلاک اور 175,492 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور ذرائع میں ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
بچے اور بے گھری
یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پائرس نے جمعے کو جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے 340 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے دو ہفتوں میں سات بچے حملوں میں ہلاک ہوئے اور کم از کم 33 دیگر بچے شدید زخمی ہوئے۔
یونیسف نے کہا کہ تقریباً 8 لاکھ بچے اب بھی بے گھر ہیں، جن میں سے بہت سے سردیوں کی آمد کے ساتھ خیموں یا غیر محفوظ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔
پس منظر
امریکا کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کا اعلان 10 اکتوبر 2025 کو ہوا۔ اس میں اسرائیلی فوج کے جزوی انخلا کی شرط شامل تھی، جو "یلو لائن" کے نام سے جانی جانے والی لکیر تک تھا۔
الجزیرہ کی جانب سے 12 اکتوبر کو شائع کردہ نقشے سے ظاہر ہوا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً 65 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں یا وہاں رسائی محدود کرتی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق "یلو لائن" کو فلسطینی علاقوں کے اندر مزید آگے دھکیل دیا گیا ہے۔
جمعے کو غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا کہ سال کے باقی حصے میں 14 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو بحران کی سطح کی غذائی عدم تحفظ یا اس سے بدتر صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026غزہ سٹی میں ملبے سے نکالی گئی 75 لاشوں کی تدفین
- 18 اکتوبر، 2026غزہ میں اسرائیلی فائر سے 24 گھنٹوں کے اندر تین طلبا ہلاک، وزارت تعلیم کا دعویٰ
- 18 اکتوبر، 2026غزہ میں محاصرے کے دوران پانی کی قلت بڑھ گئی، تجارتی اشیا پر پابندیوں کا پانچواں دن
- 18 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے نمائندے کا اسرائیل سے غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو اجازت دینے کا مطالبہ
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Middle East Eyeen · 18 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Englishen · 17 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Englishen · 18 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 18 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟